نام کے ساتھ محمد یا احمد کا اضافہ؟

339

مفتی شکیل منصور
نام سے انسان کی صرف شناخت ہی نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس سے ’’ذی نام‘‘ کے رخ، رجحان، وجدان، ذہن، فکر، مزاج اور طبیعت کی غمازی اور عکاسی بھی ہوتی ہے۔ نام اور شخصیت کے مابین وہی ہم آہنگی، گہرا تعلق اور دائمی وابستگی ہے جو جسم اور روح کے درمیان پائی جاتی ہے۔ اگر ایک طرف نام سے ذات کی غمازی ہوتی ہے تو دوسری جانب شخصیت اور ظاہری شکل وصورت سے بھی نام کا اندازہ لگ جاتا ہے۔ حقیقت ہے کہ جس طرح جسم کے اچھے اور برے اعمال و حرکات سے روحِ انسانی میں ’’ملکیت یا بہیمیت‘‘ پیدا ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح نام کے حسن و عمدگی سے روح میں لطافت و بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔ انسانی افکار واعمال کی تعمیر ہوتی ہے اور جذبۂ عمل کو تقویت ملتی ہے۔ اور نام کے قبح سے روح میں کثافت، انسانی اعمال میں آلودگی اور پراگندگی پیداہوتی ہے۔
محمد نام رکھنا

6
جب نبیوں کے نام سب سے افضل واعلیٰ ہیں تو سید الانبیاء والمرسلین کا نام کتنا اشرف و برتر اور پھر ان کے نام پرنام رکھنا کس درجہ شرف وسعادت کی بات ہوگی؟ جابرؓ کی حدیث بخاری ومسلم میں منقول ہے کہ ’’ایک انصاری صحابی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا، گھروالوں نے ’’محمد‘‘ نام رکھنا چاہا، لیکن اس سلسلے میں مزید تحقیق کے لیے معلم اعظمؐ کے پاس پہنچے اور اپنا ارادہ ظاہر فرمایا، آپؐ نے ان کے ارادے کی تحسین فرمائی اور کہا: میرا نام رکھو، لیکن اس کے ساتھ میرے حین حیات میری کنیت (ابوالقاسم) کو بھی جمع نہ کرو کہ اس سے آواز وپکار کے وقت اشتباہ پیدا ہوتا ہے۔‘‘(بخاری) اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے تمام ہی محدثین متفق ہیں کہ ’’محمد‘‘ نام رکھنا نہ صرف جائز بلکہ افضل اور بہتر ہے۔ (زادالمعاد، نووی، عینی)
محمد اور احمد کے معنی!
محمد کے معنی ہیں: جس کی زیادہ تعریف کی جائے اور زیادہ تعریف اچھی خصلتوں کی زیادتی ہی کی وجہ سے ہوتی ہے، تو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ’’محمد‘‘ کے معنی ہیں: جس کی اچھی خصلتیں زیادہ ہوں۔ اور ’’احمد‘‘ کے معنی ہیں: جو اپنے رب کی تعریف زیادہ کرے۔
اسم محمد کی عظمت
قاضی عیاضؒ نے لکھا ہے کہ نام ’’محمد‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے ازل سے ’’اچھوتا‘‘ بناکر رکھا، پوری تاریخ انسانیت میں اس نام سے کوئی شخص موسوم نہیں ہوسکا، البتہ جب ’’بعثت محمد‘‘ کا وقت قریب ہوگیا، اور راہبوں اور کاہنوں نے جب ’’محمد‘‘ نامی نبی آخر الزماں کی بعثت کی خوشخبری سنانا شروع کردی، تو عرب کے بہت سے لوگوں نے اپنے بیٹوں کا نام ’’محمد‘‘ رکھنا شروع کردیا، تاکہ نبوت سے سرفراز ہوسکے۔ اس امید پر محمد نام رکھے جانے والوں کی تعداد قاضی نے چھ بتائی ہے اور علامہ سہیلیؒ نے تین۔ جبکہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی تحقیق کے بموجب ایسے لوگ پندرہ ہیں۔
مرکب نام رکھنا؟
یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ حضرات صحابہ وتابعین کے نام محمد یا احمد وغیرہ مفرد ہوتے تھے جیسے محمد بن ابی بکر، محمد بن طلحہ وغیرہ۔ جبکہ موجودہ دور میں عجمی ممالک میں اکثر یہ نام مرکب رکھا جاتا ہے جیسے محمد شمشیر اور شکیل احمد وغیرہ۔ تو واضح رہے کہ محمد نام رکھنے کے مذکورہ فضائل میں مفرد یا مرکب کی کہیں تفریق نہیں ملتی ہے۔ جس طرح ’’محمد‘‘ مفرد نام رکھنا افضل ہے اسی طرح اگر اس نام کو کسی دوسرے نام کے ساتھ ملاکر رکھا جائے تو اس سے بھی یہ شرف وسعادت حاصل ہوسکتی ہے بالخصوص جبکہ یہ ثابت ہوکہ مرکب نام میں اصل نام ’’محمد‘‘ یا ’’احمد‘‘ ہی ہوتا ہے دوسرے جز کا اضافہ ضمناً وتبعاً کسی خاص پس منظر کے تحت کیاجاتا ہے مثلاً بعض لوگ دوسرے ہم نام لوگوں سے تمیز کے لیے کرتے ہیں، جیسے علیؓ نے اکبر اوسط اور اصغر کا اضافہ کیا تھا، بعض لوگ اول ثانی، ثالث وغیرہ کا اضافہ کرتے ہیں، اسی طرح بعض لوگوں کا قصد تاریخ و ایام کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے۔
حافظ ابن القیم جوزی لکھتے ہیں کہ ’’جس طرح ایک آدمی کے لیے نام، لقب اور کنیت رکھنا جائز اور ثابت ہے، اسی طرح ایک آدمی کا متعدد نام رکھنا بھی جائز ہے۔‘‘ (تحفۃ المودود) متعدد نام جس طرح علیحدہ علیحدہ رکھا جاسکتا ہے، اسی طرح مختلف ناموں کو ایک ساتھ جمع کرکے ’’مرکب نام‘‘ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ جیسے ’’محمد اسعد‘‘ یا ’’سعید احمد‘‘ دونوں کے احکام برابر ہیں۔
الغرض نام کے ساتھ ’’محمد‘‘ یا ’’احمد‘‘ کا اضافہ کرنا شرعاً جائز ہی نہیں بہتر اور باعث شرف بھی ہے لیکن اس مقدس نام کی عزت و تکریم بھی ساتھ میں ضروری ہے۔ ہر لحاظ سے اس کی عظمت و تقدس کا خیال ازحد ضروری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ