افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

155

اسلام اور دولت
خاندان کے بعد انسان کے تعلقات اپنے دوستوں، ہمسایوں، اہلِ محلہ، اہلِ شہر اور اْن لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن سے اس کو کسی نہ کسی طرح کے معاملات پیش آتے ہیں۔ اِسلام کا حکم یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ راستبازی، انصاف اور حسنِ اخلاق برتو۔ ایک دوسرے کی مدد کرو۔ بیماروں کی عیادت کے لیے جاؤ۔ کوئی مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو۔ کسی پر مصیبت آئے تو اس سے ہمدردی کرو۔ جو غریب محتاج، معذور لوگ ہوں ان کو ڈھانک چھپا کر مدد پہنچاؤ۔ یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرو۔ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ۔ ننگوں کو کپڑے پہناؤ۔ بے کاروں کو کام پر لگانے میں مدد دو۔ اگر تم کو خدا نے دولت دی ہے تو اس کو صرف اپنے عیش میں نہ اْڑا دو۔ چاندی سونے کے برتن استعمال کرنا اور ریشمی لباس پہننا اور اپنے روپے کو فضول تفریحوں، آسائشوں میں ضائع کرنا اسی لیے اِسلام میں ممنوع ہے کہ جو دولت ہزاروں بندگانِ خدا کو رزق بہم پہنچاسکتی ہے اسے کوئی شخص صرف اپنے ہی اوپر خرچ نہ کردے۔ (دینیات)
٭…٭…٭

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

خدائی اخلاقی اصول
جب تک انسان اپنے اخلاقی اصولوں کا خود واضع اور مصنف رہتا ہے اس کے پاس باتیں بنانے کے لیے کچھ اور اصول ہوتے ہیں اور عمل میں لانے کے لیے کچھ اور۔ کتابوں میں آبِ زر سے وہ ایک قسم کے اصول لکھتا ہے اور معاملات میں اپنے مطلب کے مطابق بالکل دوسری ہی قسم کے اصول برتتا ہے۔ حقوق کی ادائیگی کے معاملے میں اس کے اصول کچھ اور ہوتے ہیں اور دوسروں سے مطالبہ کرتے وقت کچھ ۔موقع اور مصلحت اور خواہش اور ضرورت کے دبائو سے اس کے اصول ہرآن بدلتے ہیں۔ وہ اخلاق کا اصل محور ’’حق‘‘ کو نہیں بلکہ ’’اپنے مفاد‘‘ کو بناتا ہے۔ وہ اس بات کو مانتا ہی نہیں کہ اس کے عمل کو حق کے مطابق ڈھلنا چاہیے۔ اس کے بجائے وہ چاہتا ہے کہ حق اس کے مفاد کے مطابق ڈھلے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی بدولت افراد سے لے کر قوموں تک سب کا رویّہ غلط ہو جاتا ہے اور اسی سے دنیا میں فساد پھیلتا ہے۔ اس کے برعکس جو چیز انسان کو امن، خوش حالی اور فلاح و سعادت بخش سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ اخلاق کے کچھ ایسے اصول ہوں جو کسی کے مفاد کے لحاظ سے نہیں بلکہ حق کے لحاظ سے بنے ہوئے ہوں۔ اور انہیں اٹل مان کر تمام معاملات میں ان کی پابندی کی جائے۔ خواہ وہ معاملات شخصی ہوں یا قومی، خواہ وہ تجارت سے تعلق رکھتے ہوں یا سیاست اور صلح و جنگ سے۔ ظاہر ہے کہ ایسے اصول صرف خدائی ہدایت ہی میں ہمیں مل سکتے ہیں، اور ان پر عمل درآمد کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ انسان ان کے اندر ردّوبدل کے اختیار سے دست بردار ہو کر انہیں واجب الاتباع تسلیم کر لے۔ (بناؤ بگاڑ)
٭…٭…٭
کئی دین
انسانی زندگی ایک کُل ہے جسے الگ الگ شعبوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا انسان کی پوری زندگی کا ایک ہی دین ہونا چاہیے۔ دو دو اور تین تین دینوں کی بیک وقت پیروی، بجز اس کے کچھ نہیں کہ ایمان کے ڈانواں ڈول اور عقلی فیصلے کے مضطرب ہونے کا ثبوت ہے۔ جب فی الواقع کسی دین کے ’’الدین‘‘ ہونے کا اطمینان آپ حاصل کر لیں اور اس پر ایمان لے آئیں تو لازماً اس کو آپ کی زندگی کے تمام شعبوں کا دین ہونا چاہیے۔ اگر وہ شخصی حیثیت سے آپ کا دین ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہی آپ کے گھر کا دین بھی ہو اور وہی آپ کی تربیت اولاد کا، آپ کی تعلیم اور آپ کے مدرسے کا، آپ کے کاروبار اور کسبِ معاش کا، آپ کی مجلسی زندگی اور قومی طرزعمل کا، آپ کے تمدن اور سیاست کا اور آپ کے ادب اور آرٹ کا دین بھی نہ ہو۔ (دین حق)
٭…٭…٭
اناڑی ڈرائیور
یہ سوال بھی ہے کہ خدا کی اس خدائی میں کیا انسان بادشاہی یا قانون سازی یا حکمرانی کا اہل ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ ابھی عرض کر چکا ہوں، ایک معمولی مشین کے متعلق بھی آپ یہ جانتے ہیں کہ اگر کوئی اناڑی شخص جو ا س کی مشینری سے واقف نہ ہو، اسے چلائے گا تو بگاڑ دے گا۔ ذرا کسی ناواقف آدمی سے ایک موٹر ہی چلوا کر دیکھ لیجیے۔ ابھی آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس حماقت کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اب ذرا خود سوچیے کہ لوہے کی ایک مشین کا حال جب یہ ہے کہ صحیح علم کے بغیر اس کو استعمال نہیں کیا جا سکتا تو انسان، جس کی نفسیات انتہا درجے کی پیچیدہ ہیں، جس کی زندگی کے معاملات بے شمار پہلو رکھتے ہیں اور ہر پہلو میں لاکھوں گتھیاں ہیں، اس کی پیچ در پیچ مشینری کو وہ لوگ چلا سکتے ہیں جو دوسروں کو جاننا اور سمجھنا تو درکنار خود اپنے آپ کو بھی اچھی طرح نہیں جانتے اور نہیں سمجھتے؟ ایسے اناڑی جب قانون ساز بن بیٹھیں گے اور ایسے نادان جب انسانی زندگی کی ڈرائیوری پر آمادہ ہوں گے تو کیا اس کا انجام کسی اناڑی شخص کے موٹر چلانے کے انجام سے کچھ بھی مختلف ہو سکتا ہے؟ (سلامتی کا راستہ)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ