انجیر اور بواسیر

586

نبیؐ نے انجیر کے فوائد میں 2 اہم ارشادات فرمائے ہیں:
یہ بواسیر کو ختم کردیتی ہے۔
جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔
اسماعیل جرجانی اور ابن البیطار وہ طبیب ہیں جنہوں نے خون کی نالیوں پر انجیر کے اثرات کی وضاحت کی ہے۔ اگرچہ بوعلی سینا نے بھی اس قسم کا ذکر کیا ہے مگر وہ اس باب میں واضح بات نہیں کہتا۔ بواسیر کے 3 اہم اسباب ہیں۔ پرانی قبض، تبخیر معدہ اور کرسی نشینی۔ ان چیزوں سے مقعد کے آس پاس کی اندرونی اور بیرونی وریدوں میں خون کا ٹھہرائو ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ رگیں پھول کر مسوں کی صورت میں باہر نکل آتی ہیں یا اندر کی طرف رہتی ہیں۔ بعض لوگوں کی بواسیر بیک وقت اندرونی اور بیرونی دونوں ہوتی ہے۔ فضلے کی نالی پر جب دبائو پڑتا ہے تو اس کے ساتھ خون کی نالیوں میں بھی دبائو بڑھتا ہے۔ چونکہ یہ پہلے ہی پھولی ہوتی ہیں اس لیے پھٹ جاتی ہیں اور ان سے خون بہنے لگتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر بیت الخلا میں اجابت کے دوران ہوتا ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اسلام نے حوائج ضروریات سے فراغت کے بعد ہم کو پانی سے طہارت کی ہدایت کی ہے۔ اس طہارت کے نتیجے میں خون جلد بند ہوجاتا ہے اور عام طور پر اس زخم پر نہ تو سوزش ہوتی ہے اور نہ ہی پھوڑا بنتا ہے۔ کیونکہ زخم دن میں کئی بار دھل جاتا ہے۔ اسلام پر عمل کرنا تندرست زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ان تمام مسائل کا ایک آسان حل انجیر ہے۔ انجیر پیٹ میں تبخیر ہونے ہی نہیں دیتی۔ انجیر قبض کو توڑ دیتی ہے۔ انجیر خون کی نالیوں سے سدے نکالتی ہے اور ان کی دیواروں کو صحت مند بناتی ہے۔ ہم نے اسلامک کانفرنس برائے طب کے لیے اس مسئلے پر طویل عرصہ تحقیقات کیں۔ نتائج کے مطابق ایک لمبا عرصہ انجیر کھانے کے بعد بواسیر کے مسے خشک ہوتے ہیں عام طور پر یہ عرصہ 4 سے 10 ماہ تک محیط ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو تکلیف زیادہ ہو ان کو صبح نہار منہ شہد کے شربت کے ساتھ 5 سے 6 دانے خشک انجیر بتائے گئے۔ جن کی تکلیف کم تھی اور بدہضمی زیادہ ان کو ہر کھانے سے آدھ گھنٹہ پہلے انجیر کھلائی گئی اور جن کو صرف پیٹ میں بوجھ ہوتا تھا۔ ان کو کھانے کے بعد انجیر کھانی تھی۔ حافظ ابن القیمؒ نے حدیث شریف کی تشریح میں بڑی خوبصورت بات کہی ہے:
’انجیر کو نہار منہ کھانے کی تاثیر عجیب و غریب ہے‘۔
انجیر پرانی قبض کا بہترین علاج ہے۔ اس کے گودے میں پایا جانے والا دودھ ملین ہے اور اس میں پائے جانے والے چھوٹے چھوٹے دانے پیٹ کے حموضات میں پھول کر آنتوں میں حرکات پیدا کرنے کا باعث ہوتے ہیں۔ پرانی قبض کے مریض اگر کچھ دن باقاعدہ انجیر کھائیں اور بیت الخلا جانے کا باقاعدہ وقت مقرر کریں تو یہ تکلیف ہمیشہ کے لیے رخصت ہوسکتی ہے۔
انجیر میں خوراک کو ہضم کرنے والے عناصر کی ترکیب نہایت عمدہ ہے۔ جن لوگوں کی آنتوں میں ہمیشہ سڑاند رہتی ہے ان کے لیے اس سے بہتر کوئی دوائی موجود نہیں۔ اس کی فعالیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر اسے پیس کر یا گھوٹ کر کچے گوشت پر لیپ کردیا جائے تو یہ گوشت 2 گھنٹوں میں اتنا گل جاتا ہے کہ اسے انگلیوں سے توڑا جاسکتا ہے۔
انجیر خون کی نالیوں میں جمی ہوئی غلاظتوں کو نکال سکتی ہے اور اس کی اسی افادیت کو حضور نبی کریمؐ نے بواسیر میں پھولی ہوئی وریدوں کی اصلاح کے لیے استعمال فرمایا۔ اکثر اوقات بلڈ پریشر میں زیادتی خون کی نالیوں میں موٹائی آجانے سے ہوتی ہے۔ انجیر اس مشکل کا بہترین حل ہے۔ کیونکہ یہ جسم سے چربی کو گلا کر بھی نکال سکتی ہے۔ بڑھاپے میں جب خون کی نالیاں تنگ ہوجاتی ہیں اور دماغ میں خون کی قلت مریض کو نیم بیہوش یا مخبوط الحواس بنادیتی ہے۔ اعضا میں بھی فالج کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ اس بیماری میں انجیر اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ مریض ایک کثیر مقدار پانچ چھ مہینے مسلسل استعمال کرے۔
گردوں کے فیل ہوجانے کے متعدد اسباب ہیں۔ اس میں مرض کی اندرونی صورت یہ ہوتی ہے کہ خون کی نالیوں میں تنگی کی وجہ سے گردوں کی کارگزاری متاثر ہوتی ہے۔ یہی کیفیت پیشاب میں کمی اور بلڈ پریشر میں زیادتی کا باعث بن جاتی ہے۔ ان حالات میں اگر زندگی کو اتنی مہلت مل سکے کہ کچھ مدت انجیر کھائی جائے تو اللہ کے فضل سے وہ بیماری جس میں گردے اگر تبدیل نہ ہوں تو موت یقینی ہے، شفایابی پر منتج ہوتی ہے۔
خون کی نالیوں کی موٹائی کے علاوہ وہ حالات جب کسی وجہ سے شریانوں یا وریدوں کے اندر خون جم جائے انجیر عجیب فوائد کی حامل ہے۔ نبیؐ نے اس کیفیت میں جب یہ دل میں ہو تو کھجور کی گٹھلی اور کھجوریں مرحمت فرمائی ہیں۔ جس کی تفصیل کھجور کے عنوان میں موجود ہے۔ لیکن ایسے مریضوں کو کچھ مدت کھجور دینے کے بعد وقفہ دیا گیا۔ اس وقفہ میں انجیر دی گئی۔ نتیجہ بہت بہتر رہا۔ خیال یہ تھا کہ ایک ہی وقت میں کھجور اور انجیر ملا کر دیے جائیں مگر ابن القیم نے رسول اللہؐ سے ایک روایت منسوب کی ہے جس کے مطابق انجیر اور کھجور کو جمع کرنے کی ممانعت فرمائی گئی۔ اس رہنمائی کی وجہ سے دونوں یکجا تو نہ کیے جاسکے البتہ نہار منہ کھجور کی گٹھلیاں دینے کے بعد عصر کے وقت بعض مریضوں کو انجیریں دی گئیں۔ فوائد کسی ایک کے استعمال سے بہت بہتر رہے۔
خشک انجیر کو توے پر جلا کر دانتوں پر اس راکھ کا منجن کیا جائے تو دانتوں سے رنگ اور میل کے داغ اُتر جاتے ہیں۔ مسوڑھوں کی سوزش کے لیے جتنے بھی منجن بنائے جاتے ہیں اگر ان میں انجیر کی راکھ شامل کرلی جائے تو فائدہ زیادہ جلد اور اچھا ہوتا ہے۔
انجیر کے تازہ پھل سے نچوڑ کر دودھ نکال کر اگر مسوں پر لگایا جائے تو وہ گرجاتے ہیں۔ اس کے پتوں کو کوٹ کر پھوڑوں کو پکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
(طبِ نبویؐ اور جدید سائنس)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ