قصور وار کون؟

202

بُرائی کو دل میں بُرا جان کر خاموشی اختیار کرلینا بلاشبہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے، لیکن کیا ہم ایمان کے اس کمزور ترین درجے سے بھی دستبردار ہوگئے ہیں؟ کیا اب ہم برائی کو دل میں بھی برا نہیں سمجھتے؟ کیا ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں؟ تھوڑی دیر کے لیے چہروں پر غموں کی چادر اوڑھ لیتے ہیں اور پھر دوبارہ سے زندگی کے معمولات میں کھو جاتے ہیں۔ جب تک کوئی دوسرا سانحہ رونما نہیں ہوجاتا۔ کیسا مسخرہ پن ہے کہ جو لوگ فحاشی و عریانی پھیلانے میں پیش پیش ہیں آج وہی لوگ بچوں کے حقوق کی بات کررہے ہیں اور اُن کی حفاظت کے لیے تجاویز دے رہے ہیں، کوئی انہیں یہ بتانے کی کوشش نہیں کرتا ہے کہ خدا کے بندوں پر جو گلی گلی میں بُرائیاں پھوٹ پڑی ہیں ان کی آبیاری میڈیا ہی کررہا ہے، پاکستانی میڈیا کی آزادانہ پالیسیوں اور اداکاراؤں کی عریانی اور فحاشی نے ہی معاشرے کو یہ دن دکھائے ہیں۔ ہم سب اس برائی میں برابر کے شریک ہیں، صرف ساحر لودھی کے مارننگ شو میں چھوٹی چھوٹی بچیوں کا عریاں کپڑوں میں بے ہودہ ناچ ہی دیکھ لیں تو عام لوگوں کی ذہنی سطح کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔ یہ حکمران جو آج زینب جیسی بچوں کے گھر چھپ چھپ کر جاتے ہیں اور افسوس کے چند جملے ادا کرکے اپنی ذمے داری سے بری ہوجاتے ہیں۔ کیا یہ حکمران موبائل فونز اور مختلف چینلوں کی فحاشی اور بے حیائی کو روکنے کے مجاز نہ تھے؟ کیسے کیسے پھولوں کو شاخوں سے توڑ کر بے رحمی سے مسل دیا گیا۔ شاید اس تعفن زدہ معاشرے کے نصیب میں اُن پھولوں کی خوشبو ہی نہیں تھی۔
فوزیہ تنویر، ملیر کینٹ فیزI، کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ