پرویز مشرف کو جیل میں ڈالا جائے تو مانوں گا عدالت آزاد ہوگئی ، احسن اقبال

32

ملتان(آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس وقت توہین عدالت کے سب سے بڑے مرتکب پرویز مشرف ہیں،عدالت کا رعب تب قائم ہوگا جب مشرف کو بھی نہال ہاشمی کی طرح جیل میں ڈالا جائے گا،تاثر ہے کہ نوازشریف کو ہٹا کر قبل از وقت انتخابات کراکر دھاندلی کی
جائے گی۔ ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ نوازشریف کی نااہلی پر پوری دنیا نے تحفظات کا اظہار کیا ہے جن میں بڑے وکلابھی شامل ہیں،اگر تحفظات کے اظہار سے توہین عدالت ہوتی ہے تو پھرتو جی ٹی روڈ مارچ میں جانے والے سب لوگ توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توہین عدالت کا سب سے بڑا مرتکب پرویز مشرف ہے ،گناہ کبیرہ کرنے والوں کو چھوڑ دیا جائے اور گناہ صغیرہ کرنے والوں کو پکڑیں تو سوالات تو اٹھیں گے،اگر عدالت چاہتی ہے کہ لوگوں کو توہین عدالت سے باز رکھے تو پرویز مشرف کو طلب کرتے اور ان کو آئین شکنی،ججز کو بند کرنے اور چیف جسٹس کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹنے پر ان کو سزا دیتے، ان جرائم کی سزا دینے سے اگرعدالت عظمیٰ قاصر ہے تو پھر بے چارے سیاسی کارکنوں کو بند کرنے سے عدالت کا رعب قائم نہیں ہوگا،جس دن عدالت عظمیٰ پولیس کو کہے گی کہ پرویز مشرف کو پکڑ کر اڈیالہ جیل میں بند کردیں جس طرح نہال ہاشمی کو بند کیا اس دن میں مانوں گا کہ عدالت عظمیٰ آزاد ہوگئی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ اگر پاکستان مسلم لیگ(ن) یا نوازشریف کو نشانا بنایا جائے گا تو لوگ سمجھیں گے کہ قبل از وقت انتخابات کراکر دھاندلی کا ایجنڈا ہے،یہ گمان ہے کہ جس طرح اقامے پر بنایا گیا،الیکشن سے پہلے نوازشریف کو سزا دلوا کر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے خلاف قبل از وقت انتخابات میں دھاندلی کی جائے،یہ باتیں لوگ کر رہے ہیں،نہیں سمجھتا کہ نوازشریف کے خلاف جو اقدامات ہورہے ہیں یہ انصاف پر مبنی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ