مزدور حقوق کیلئے سندھ بھر میں احتجاج کریں گے‘ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن

74

حیدرآباد(نمائندہ جسارت) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن نے 15فروری کو کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا۔ یہ اعلان فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سندھ ایگریکلچرجنرل ورکرز یونین کے صدر علی احمد پنہور، سبھاگی بھیل، لال بخش لالئن اور مشفاق علی شان ودیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ جب اٹھارہویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں لیبر سے متعلق قانون سازی کا حق صوبوں کو منتقل ہوا تو فیڈریشن سمیت مزدور تنظیموں کے دیرینہ مطالبے اور سہ فریقی مشاورت کے نتیجے میں 2013ء میں سندھ اسمبلی سے سندھ انڈسٹریل ایکٹ پاس ہوا جس کے تحت زرعی محنت کشوں اور ماہی گیروں کو قانونی طور پر ورکرز تسلیم کیا گیا اس تاریخ ساز پیش رفت کے تحت سوشل سیکورٹی، پنشن، مختلف گرانٹس، ویلفیئر اسکیموں اور یونین سازی سے لے کر اجتماعی سودا کاری تک ایگریکلچر ورکرز اور ماہی گیروں کا قانونی آئینی حق تسلیم کیا گیا لیکن بد قسمتی سے عرصہ گزرجانے کے باوجود لیبر سے متعلقہ اداروں اور سندھ حکومت نے اس کے عملی اطلاق کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جس کے باعث آج بھی یہ لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں مختلف قسم کے زہریلے اسپرے، کھاد اور ادویات کا بناکسی تحقیق استعمال، حفاظتی تدابیر نہ ہونے کی وجہ سے ہاریوں کی زتدگیوں کو خطرات لاحق ہیں وہ علاج معالجے ودیگر سہولیات سے محروم ہیں۔ دوسری جانب ہاریوں کے نمائندوں کی مشاورت سے اجناس کی قیمتیں مقرر نہ کیے جانے اور سندھ کے ہاریوں اور چھوٹے آباد گاروں کو مکمل طور پر مارکیٹ مافیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دینے سے ان کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے متعدد بار احتجاج کے باوجود ہاریوں کے مسائل کے لیے اقدامات نہیں ہورہے ، جاگیروں، ساہوکاروں، پیروں، وڈیروں اور مذہبی پیشواؤں کے مظالم ، بچیاں اغوا سمیت دیگر واقعات کے خلاف فیصلہ کیا گیا ہے کہ15فروری کو سندھ بھر احتجاج کیاجائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ