بھارتی چوہے، اسرائیلی کیڑے اور پاکستان

119

حسیب اصغر

میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، ایک جملہ مسلسل سنتا آیا ہوں کہ Pakistan about to collapse (پاکستان ختم ہونے والا ہے، پاکستان تباہ ہونے والا ہے)۔ یہ جملے میری سماعتوں کےلیے اتنے عام ہوچکے ہیں کہ اب اگر کوئی یہ جملہ دوہراتا ہے تو ایک بے ساختہ سی مسکراہٹ میرے لبوں پر دوڑ جاتی ہے کیونکہ جب عالمی میڈیا اور اس کے پالتو اور کرائے کے دشمن یہ جملے استعمال کرتے ہیں تو اسی دوران اللہ اپنی شان سے اسی پاکستان کے ہاتھ کوئی ایسا کام کرا دیتا ہے جو دشمنوں کو دانتوں تلے انگلیاں دبانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
پاکستان کا ہر محب وطن شہری اپنے ملک کی بقا کےلیے اپنی عزت و آبرو، جان و مال اور کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔ ان ہی کے بے مثال جذبے کے باعث آج یہ ملک دنیا کے نقشے پر قائم ہے اور اپنے وجود سے 100 گنا بڑے دشمنوں کو، جو وسائل اور ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہیں، گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتا ہے۔
اس کی ایک مثال سوویت یونین ہے جس کے رقبے کا یہ عالم تھا کہ ملک کے ایک حصے میں دن ہوتا تھا تو دوسرے حصے میں گہری رات۔ لیکن اس اتنی وسیع ریاست کو صرف 796,095 کلومیٹر پر پھیلے ایک ایسے ملک نے تہس نہس کردیا جس کی شرح خواندگی اور معاشی شرح نمو عالمی اوسط سے بھی نیچے تھیں۔ جس ملک کی زراعت اور دیگر معاشی شعبے ترقی پذیرتھے۔ اس کے باجود ایک عظیم الشان ملک کو توڑ کر 15 چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل کردیا۔
سویت یونین کا قصور کیا تھا؟ اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے افغانستان کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے وسائل پر قبضہ اور اس کے گرم پانیوں تک رسائی کی جسارت کی تھی۔ اس کی اس ناپاک سازش کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے ایسی سزا دی کہ وہ عظیم الشان ملک اپنا آدھا وجود ہی کھو بیٹھا۔
اس کی دوسری مثال امریکا بہادر ہے جس کو پاکستان نے افغانستان میں اسی کی جنگ میں ایسے الجھا دیا ہے کہ افغانستان اس کے حلق کی ہڈی بن گیا ہے جسے نہ وہ اگل سکتا ہے اور نہ ہی نگل سکتا ہے۔ افغانستان میں 2 لاکھ امریکی اور نیٹو فورسز آج تک ایک صوبے کا مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرسکے ہیں اور صاحب بہادر ٹرمپ چلے ہیں پاکستان کو دھمکانے۔
ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی تاریخ میں 12 آرمی چیف، 25 وزرائے اعظم اور 14 صدور نے اپنے فرائض انجام دیے۔ پہلے صدر اور وزیراعظم کے عہدہ سنبھالتے ہی جو پہلا خدشہ سننے میں آیا تھا وہ یہ تھا کہ پاکستان خدانخواستہ اب قائم نہیں رہ سکے گا، پاکستان کے قائم رہنے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں یا ختم ہورہے ہیں۔
پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کےلیے کبھی مذہبی رواداری، نسلی عصبیت، فرقہ واریت اور کبھی سیاست کے نام پر وسیع پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ کبھی بیرونی عناصر نے ملک دشمن تنظیموں کی بنیاد رکھی، کبھی زبان اور علاقے کی بنیاد پر لڑائی اور نفرت پیدا کی گئی تو کبھی زبان اور حقوق کے نام پر گمراہ کیا جاتا رہا۔ غرض یہ کہ اس ملک کو تباہی کے دہانے تک لےجانے کےلیے کبھی سیاستدانوں کو خریدا گیا تو کبھی اسلام کا نام استعمال کیا گیا۔ ایسا ضرور ہے کہ دشمن اپنی کاری ضربوں میں کسی حد تک عارضی طور پر کامیابی حاصل کرتا رہا تاہم جس منزل کی وہ امید کررہا تھا وہ اب تک اس سے کوسوں دُور ہے۔
پاکستان کو غیرمستحکم کرنے میں عالمی طاقتیں ہمیشہ ہی ایک صفحے پر رہی ہیں۔ تقسیم ہند کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کی علاحدہ تاریخ، تہذیب اور تمدن تھا۔ حضرت قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی قیادت میں خطے کے مسلمانوں نے ہندوؤں اور انگریزوں سے ایک الگ اور خود مختار وطن حاصل کرلیا، تو تب سے آج تک ہندو بنیے اور دیگر اسلام دشمن طاقتیں اس مملکت خداداد کوخدانخواستہ تباہ کرنے کے درپے ہیں۔
1981ء کا ایک واقعہ گوش گزار کرتا چلوں کہ جب پاکستان کے ازلی دشمن بھارت اور پاکستان کے نظریاتی دشمن اسرائیل نے پاکستان کے خلاف پہلے جارحانہ حملے کی حکمت عملی مرتب کی۔ ہوا کچھ یوں کہ اسرائیل نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کو تعمیر کے ابتدائی مرحلے ہی پر کامیابی سے تباہ کیا۔ عراق نے اس مقصد کےلیے بغداد میں زیرِ تعمیر ’اوزیراک‘ کے نام سے ایٹمی پلانٹ لگایا۔ اسرائیل کو جب اس ری ایکٹر کا علم ہوا تو یہ اس کےلیے ناقابل قبول تھا۔ لہٰذا اسرائیل نے عراقی ایٹمی ری ایکٹر کو تباہ کرنے کےلیے ’آپریشن اوپیرا‘ کیا، جسے ’آپریشن بے بی لون‘ (آپریشن بابل) بھی کہا جاتا ہے۔ یوں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے عراق کا زیرتعمیر ایٹمی ری ایکٹر ’اوزیراک‘ تباہ کردیا۔
عراق کے بعد پاکستان دوسرا مسلمان ملک تھا جو ایٹمی قوت بننے کےلیے کوششیں کررہا تھا۔ کسی بھی مسلمان ملک کا ایٹمی قوت حاصل کرنا اسرائیل کےلیے ناقابل برداشت تھا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کے دشمن کا دشمن آپ کا دوست ہوتا ہے، یہ پاکستان کی دشمنی ہی تھی جس نے اسرائیل کو بھارت کا دوست بنا دیا۔ بھارت کےلیے تو پاکستان کا وجود ہی ناقابل برداشت ہے، لہٰذا اگر پاکستان جوہری طاقت بن گیا تو اس کے ’اکھنڈ بھارت‘ کا خواب چکنا چور ہو جانا تھا۔ اس لیے بھارت نے اسرائیل سے رابطے مضبوط کیے اور یوں ان دونوں دشمن ممالک نے مشترکہ طور پر پاکستان کے نیوکلیئر ری ایکٹر ’کہوٹہ‘ کو تباہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔
عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کو تباہ کرنے کے بعد اسرائیل یہ سمجھا کہ اب تو اس کی راہ میں جو بھی آئے گا اس کو تباہ کرنے سے کوئی بھی اسے روک نہیں سکتا، کیونکہ اسرائیل کو امریکا کی مکمل حمایت حاصل تھی جو تاحال جاری ہے۔ اسی بنا پر اسرائیل کے حوصلے بہت بلند ہوگئے اور اس نے بھارت کے ساتھ مل کر کہوٹہ میں واقع، پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔
اس منصوبے کی پوری تفصیل مشہور کتاب
Deception: Pakistan, The United States and the Global Nuclear Weapons Conspiracy میں موجود ہے۔
یہ 80ء کی دہائی کا درمیانی عرصہ تھا۔ بھارتی گجرات کی ائرفیلڈ پر اسرائیلی جہازوں کا ایک اسکواڈرن پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر حملہ کرنے کےلیے بالکل تیار تھا۔ انہوں نے پاکستان کا ایک بڑا مسافر بردار جہاز گرانے کا ارادہ کیا تھا، دشمن کا منصوبہ تھا کہ وہ ایک ٹائٹ گروپ (قریب پرواز کرتے ہوئے طیاروں کے گروپ) کی شکل میں پاکستانی حدود میں داخل ہوں گے، کہوٹہ ایٹمی ری ایکٹر پر بمباری کرکے اسے تباہ کردیں گے اور وہاں سے سیدھے جموں و کشمیر پہنچیں گے جہاں بھارتی فوج کی بہت بڑی تعداد اور فضائی اڈے بھی موجود ہیں۔ وہاں سے وہ اپنے طیاروں کی ری فیولنگ کرکے واپس اسرائیل کےلیے روانہ ہوجائیں گے۔
لیکن اسی دوران، ہمیشہ کی طرح، اللہ رب العزت کی غیبی مدد نصیب ہوئی اور مملکت خداداد کے خفیہ اداروں نے حملے سے صرف چند گھنٹے قبل اس گھناؤنی سازش کا سراغ لگا لیا۔ جنرل ضیا کوچند گھنٹے قبل اسرائیل اور بھارت کے مکروہ منصوبے کی اطلاع دی گئی۔ جنرل ضیا کے سیاسی اقدامات سے لوگ نالاں ہوسکتے ہیں، مجھے ان کے سیاسی شعورکاعلم نہیں، لیکن جنرل ضیا ایک ذہین اور کمال عسکری حکمت عملی کے حامل فوجی جنرل تھے۔ ان کی عسکری ذہانت کا بھارت کی سابق وزیراعظم اور فوجی عہدیداروں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا ’جنرل ضیا ایک خطرناک فوجی حکمت عملی کے حامل اور کمال جنرل ہیں جو جنگ کے ہر محاذ کا پانسہ پلٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
دشمن کے منصوبے کا علم ہوتے ہی جنرل ضیا نے فوری فیصلہ کیا کہ حملے کو روکا نہیں جائے گا بلکہ ناکام بنایا جائے تاکہ پاکستان کو جوابی حملے کا جواز مل سکے اور فوراً ہی ایک بھرپور جوابی حملے کا پلان بنایا گیا۔
امریکا، جو بھارت اور اسرئیل کو تمام دستیاب امداد فراہم کررہا تھا، اس کے سٹیلائیٹ سسٹم میں پاکستانی جہازوں کی غیر معمولی نقل و حرکت نظر آگئی اور اس نے اسرائیل اور بھارت کو پاکستان کی نقل و حرکت سے بروقت آگاہ کردیا۔ یوں دشمن نے اپنے مشن سے پسپائی اختیار کرلی۔
اس وقت پاکستان نے اسرائیل کو باضابطہ طورپر خبردار کیا اور کہا کہ یاد رکھو! پاکستان عراق ہے نہ پاکستانی فوج عراقی فوج ہے۔ آئندہ ایسی کسی بھی مہم جوئی کو اسرائیل کےلیے ایک

بھیانک خواب میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
یہ تو تھا وہ سلوک جو نظریاتی دشمن اسرائیل کے ساتھ پاکستان نے کیا جبکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت جو روزانہ ہی پاکستان کے خلاف کوئی نہ کوئی سازش یا تخریب کاری کرتا رہتا ہے، زیادہ تر تو پاکستان کی خفیہ ایجنسی ناکام بنادیتی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت بھارتی نیوی کا حاضرسروس کمانڈر کلبھوشن یادیو ہے جسے خفیہ ایجنسی نے اپنی نگاہ میں رکھا ہوا تھا اور اسے اس وقت پکڑا جب وہ ملک پاکستان کو بہت بڑا نقصان پہنچانے کی پوری تیاریوں میں تھا۔
بھارت اور اسرائیل مسلمانوں کے تو کھلے دشمن ہیں ہی لیکن یہ پاکستان کے خاص طور پر دشمن ہیں اور پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے۔ بلکہ بھارت اور اسرائیل، پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کےلیے اپنے بجٹ میں بڑی رقم مختص کرتے ہیں۔ بھارت پاکستان کو ختم کرکے اکھنڈ بھارت کا خواب پورا کرنا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل پاکستان کو مسلم نظریات پرقائم ہونے کی وجہ سے تباہ کرنا چاہتا ہے۔
امریکا کے مسخرے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی سنگین بیان دیے جبکہ پاکستان کی جوہری تنصیبا ت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا حالانکہ اس کا کوئی جواز ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں کیا جارہا ہے کہ جب امریکا، اسرائیل کی خواہش پر بھارت کو افغانستان میں تھانیدار کا کردار ادا کروانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
افغانستان کی سیکورٹی پاکستان سمیت خطے کےلیے انتہائی اہم ہے۔ ان تمام مناظر کو اگر دور اندیشی سے دیکھا جائے تو اس سلسلے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورہ بھارت کو نظرانداز ہرگز نہیں کیا جاسکتا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے 130 رکنی وفد کے ساتھ بھارت کا 6 روزہ دورہ کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے وفد میں موجود زیادہ تر افراد کاروباری اوردفاعی شعبوں سے تعلق رکھتے تھے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے اس دورے کو تاریخی قرار دیا ہے جس میں دونوں ممالک تجارت اور دفاع کے ساتھ سفارتی تعلقات کو فروغ دیں گے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دورہ بھارت کے موقع پر اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے دشمن نہیں لہٰذا پاکستان کو بھی ان سے دشمن کی طرح برتاؤ نہیں کرنا چاہیے۔ نیتن یاہو نے لائن آف کنٹرول سے متعلق بھارتی مؤقف کی حمایت کرکے ہٹ دھرمی کا اظہار بھی کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دوستی کسی ملک کے خلاف نہیں۔
یہاں پاکستان کو بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ سے پہلے سے بھی زیادہ ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اندرونی اور بیرونی سازشوں میں جس طرح گرفتار ہے اور اس نے دہشت گردوں کے خلاف جس وسیع پیمانے پر کامیاب آپریشن کیا ہے، وہ دشمنوں کو کسی بھی صورت قبول نہیں ہوسکتا۔
دشمنوں کی تمام تر سازشوں اور عیاریوں کے باوجود میرا ایمان ہے کہ اس ملک خداداد کو خدائے بزرگ و برتر نے صبحِ قیامت تک قائم رکھنے کےلیے بنایا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی غفلتوں کی وجہ سے قومی سطح پر خدانخواستہ نقصان اٹھا سکتے ہیں، لیکن یہ ملک جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور اللہ کے دین کے نفاذ کےلیے وجود میں آیا ہے، اسے بھارتی چوہے اور اسرائیلی کیڑے تو کیا، پوری دنیا بھی متحد ہوکر نہیں مٹاسکتی۔
خدا پاکستان کی حفاظت کرے، آمین۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ