مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم نہیں کریں گے، مشتاق خان

118
پشاور،امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان قبائلی جرگہ سے خطاب کررہے ہیں 
پشاور،امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان قبائلی جرگہ سے خطاب کررہے ہیں 

پشاور (آئی این پی) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ بیت المقدس پوری ملت اسلامیہ کے لیے سرخ لکیر ہے، امریکا کی اپنے سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) منتقلی اور مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر نا عالم اسلام پر براہ راست حملہ ہے، امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ عالم اسلام کے حکمران غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں اور امریکا سے ہر قسم کے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کریں اور امریکا کا ہر قسم کا بائیکاٹ کریں۔ہم ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہیں ۔ جماعت اسلامی امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف آج پورے صوبے میں احتجاجی مظاہرے کرے گی۔ جے آئی یوتھ، جمعیت اتحاد العلما ، اسلامی جمعیت طلبہ اور جمعیت طلبہ عربیہ امریکی اعلان کے خلاف بھر پور احتجاج کریں۔ امریکی صدر ایک ارب ستر کروڑ مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی ہے اور غاصبوں اور قابضین کو تقویت دی ہے۔ اس اعلان کے بعد انسانیت کے دعویدار امریکا کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ ترکی کے صدر طیب اردگان کی جانب سے او آئی سی اجلاس بلانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، امت کو درپیش مسائل پر رجب طیب اردگان کا کردار قابل فخر ہے۔ طیب اردگان امت مسلمہ کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے غازی میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سوشل میڈیا انچارج صداقت محمود غازی کے والد کی وفات پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی تحصیل غازی کے امیر عقیل الرحمن، جماعت اسلامی ضلع صوابی کے سابق امیر سعید زادہ یوسفزئی، صداقت محمود غازی اور دیگر ذمے داران بھی موجود تھے۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر او آئی سی کے اجلاس میں سخت اور دو ٹوک فیصلے ہونے چاہییں۔ امت مسلمہ کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے فیصلے اور اقدامات کریں کہ جس سے امریکا کو اس فیصلے کی سنگینی کا احساس ہو اور وہ اسے واپس لینے پر مجبور ہوجائے۔ عوام، علما کرام، طلبہ اور تمام طبقہ فکر کے افراد آج امریکی فیصلے کے خلاف سڑکوں پر آئیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ