قطر اسپتال سمیت سندھ کے بیشتر نرسنگ اسکول بغیر پرنسپل چلائے جانے کا انکشاف 

75

کراچی (اسٹاف رپورٹر) 5 برس گزر جانے کے باوجود اسکول آف نرسنگ سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال برائے خواتین کا بجٹ ہی منظور نہیں ہو سکا۔ نرسنگ اسکول آف قطر اسپتال سمیت سندھ بھر کے بیشتر نرسنگ اسکولوں میں کوئی مستقل پرنسپل بھی موجود نہیں، نرسنگ انسٹرکٹر کو پرنسپل کے اضافی اختیارات دے کر کام چلایا جا رہا ہے۔ قطر اسپتال میں اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر پرچی کلرک کو ترقی دے دی گئی۔ ذرائع کے مطابق سندھ گورنمنٹ اسپتال قطر میں
2012ء میں اسکول آف نرسنگ قائم کیا گیا تھا جس کے لیے 50 نشستیں مختص کی گئی تھیں لیکن اس کے لیے کوئی بجٹ محکمہ ہیلتھ کی جانب سے تاحال منظور نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہاں کی نرسنگ اسٹوڈنٹس کو ماہانہ وظائف کی ادائیگی ایک سال سے تاخیر کا شکار ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سندھ بھر کے بیشتر اسکولز آف نرسنگ کی طرح اسکول آف نرسنگ سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال میں بھی کوئی مستقل پرنسپل موجود نہیں ہے اور یہاں بھی نگراں پرنسپل سے کام چلایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال میں قریباً 27 زیر تربیت ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں جن کو حکومت سندھ کے محکمہ صحت کی جانب 45 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے جو اب محکمہ صحت کی جانب سے اضافے کے بعد 65 ہزار روپے ہو چکا ہے لیکن یہ اضافہ بھی تا حال محکمہ صحت کی جانب سے قطر اسپتال کے سالانہ بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے تاہم اسپتال کے اکاؤنٹنٹ عارف کی جانب سے یہ اضافہ شدہ رقم زیر تربیت ڈاکٹرز کو ادا کی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسپتال کا سالانہ بجٹ مستقل خسارے میں جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ عارف ایک سیاسی جماعت کے دور میں بطور پرچی کلرک بھرتی ہوا تھا اور اس کے پاس اکاؤنٹنٹ کی پوسٹ کے لیے نہ تو کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی کوئی ڈگری ہے لیکن وہ سیاسی بنیادوں پر اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر کام کر رہا ہے۔ اس ضمن میں قطر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عنایت اللہ کاندھرو سے ’’جسارت‘‘ نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ نرسنگ اسٹوڈنٹس کے وظائف کا معاملہ کافی پرانا ہے اور قطر اسپتال میں اسکول آف نرسنگ تو قائم کردیا گیا تھا لیکن 5 برس گزر جانے کے باوجود تا حال اس کا کوئی بجٹ منظور نہیں کیا جا سکا ہے اسی لیے یہاں کوئی مستقل پرنسپل بھی تعینات نہیں کی جا سکی ہے۔ ڈاکٹر عنایت اللہ کاندھرو کا مزید کہنا تھا کہ اسپتال کے سالانہ بجٹ میں جو زیر تربیت ڈاکٹرز کی تنخواہوں کی مد میں جو رقم آ رہی تھی اس میں سے کچھ رقم بچ جایا کرتی تھی تو اس میں سے نرسنگ طلبہ کو وظائف کی مد میں ادائیگی کر دی جاتی تھی۔ ڈاکٹر عنایت اللہ نے بتایا کہ میں احتجاجی نرسنگ طالبات کے ساتھ فنانس ڈپارٹمنٹ گیا تھا جہاں ہماری بات ہوئی ہے اور ہم نے اسکول آف نرسنگ قطر اسپتال کے بجٹ کی منظوری کے لیے ہیلتھ سیکرٹری کو خط دے دیا ہے جو امید ہے کہ ان کی جانب سے پیر کو فنانس سیکرٹری کے حوالے کردیا جائے گا۔ ڈاکٹر عنایت کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ10 سے 15 دن کے اندر اندر حل ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں ینگ نرسز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر اعجاز علی کلیری نے بھی صوبائی محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسکولوں کے نرسنگ طلبہ کو وظائف جاری کیے جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ