نوشہرہ، بھرتیوں میں پروفیشنل ڈگری کی شرط ختم کرنے پر اساتذہ سراپااحتجاج 

65

نوشہرہ (آئی این پی) سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتیوں میں پروفیشنل ڈگری کی شرط ختم کرنے پر ٹیچر پروفیشنل ڈگری ہولڈرز سراپا احتجاج، صوبائی حکومت کا سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتیوں میں ٹیچر پروفیشنل ڈگریز کی شرط ختم کرنا ہماری محنت پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے، حکومت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے بصورت دیگر احتجاج اور عدالت جانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں جس کی تمام تر ذمے داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ اس سلسلے میں ٹیچر پروفیشنل ڈگری ہولڈرز حیدر علی (ڈی ایم)، بلال خان (ڈی ایم)، مراد خان(ڈی ایم)، وحیدخان (ڈی ایم)، یوسف جان (ڈی ایم)، ارشد خان(ڈ ی ایم)، شکیل خان(سی ٹی)، امجد(سی ٹی)، تحسین خان( ڈی ایم)، سکندر خان (سی ٹی)، ندیم(سی ٹی)، عبداللہ(سی ٹی) نے میڈیا کو بتایا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے پروفیشنل ڈگری کی شرط ختم کرکے ٹیچر پروفیشنل ڈگری ہولڈرز کے ساتھ ناانصافی کرکے ان کی حق تلفی کی ہے کیونکہ اساتذہ کی بھرتیوں میں زیادہ تر امیدوار ڈی ایم اور پی ای ٹی ہوتے ہیں اور یہ دونوں کورسز پرائیویٹ نہیں بلکہ ریگولر طورپر کیے جاتے ہیں جس کا دورانیہ تقریباً دوسال کے عرصے سے زیادہ ہوتا ہے اور خرچہ بھی ایک کورس پر چالیس ہزار روپے سے زائد آتا ہے لیکن صوبائی حکومت، محکمہ تعلیم اور وزارت تعلیم کے پالیسی سازوں نے یک دم یہ شرط ختم کردی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیچر کیڈر پروفیشنل ڈگریز کی شرط ختم تو کررہی ہے لیکن اب بھی صوبے کے ایلیمنٹری کالجز میں پی ای ٹی ڈی ایم سمیت کئی کورسز پڑھائے جارہے ہیں، اساتذہ کی بھرتیوں میں پروفیشنل ڈگریز کی شرط ختم کی گئی ہے اور کورسز جاری ہیں، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ اکثریتی طلبہ نے اپنی غربت کے باوجود پی ای ٹی اور ڈ ی ایم کے کورسز مکمل کیے جو کہ اب بالکل بے کار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت پنجاب حکومت کی طرح ٹیچر کیڈر کے پروفیشنل ڈگری ہولڈرز کے لیے وقت متعین کریں اور پنجاب حکومت کی طرح دونوں پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھیں تاکہ نان پروفیشنل اور پروفیشنل ڈگری ہولڈرز دونوں برسرروزگار ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کرے بصورت دیگر ٹیچر کیڈرز کے پروفیشنل ڈگری ہولڈرز اپنے حق کے لیے احتجاج اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوجائیں گے، جس کی تمام تر ذمے داری صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کے پالیسی سازوں پر عائد ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ