کتاب پر خرچ کیا گیا وقت اور پیسہ ضائع نہیں ہوتا‘ قدسیہ جبیں

1002

بہتر لکھنے کے لیے زیادہ پڑھنا‘ کم لکھنا اور ہر لکھی چیز پر نظر ثانی ضروری ہے ۔ نظم آدھی بھی کہی ہوتی ہے تو بچوں کو ضرور سناتی ہوں

مائوں کو بچوں کی تربیت میں کہانیوں اور کتابوں سے مدد لینی چاہیے ۔’’ فیس بک سے آکسفورڈ کی نصابی کتب تک سفر‘‘ پر قدسیہ جبیں کی گفتگو

گفتگو: راحت نسیم

جسارت: اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ تفصیلات بتایئے؟
قدسیہ جبیں: میں نے تحصیل کھاریاں کے ایک چھوٹے سے دیہات چنن میں ایک علمی گھرانے میں پرورش پائی۔ جہاں ہمارے والد علمی ذوق رکھتے تھے وہیں والدہ کو بھی مطالعے کا بے حد شوق تھا۔ ہم چار بہنیں ہیں۔ میں نے نے ابتدائی تعلیم گائوں کے سرکاری اسکول میں حاصل کی۔ گھر پر ملنے والی توجہ اور تربیت نے آگے بڑھنے میں بنیادی کردار ادا کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم چاروں بہنیں قلم اور کتاب سے کی نہ کسی طور پر وابستہ ہیں۔
میں نے پرائیویٹ ایف اے مکمل کیا‘ پھر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے پہلے بی اے اور پھر ایم فل ’اصول دین‘ میں امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ میرا تخصص تفسیر تھا۔ میری شادی منڈی بہائو الدین میں واقع ایک گائوں میں ہوئی۔ میرے سسر رکن جماعت ہیں۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے اپنے گھرانے (میکے) کے بر عکس میرے سسرال کاماحول علمی نہیں ہے۔ شوہر البتہ ہر طرح سے تعاون کرنے والے ہیں ۔ میرا بیٹا عمار بن یاسر 10 برس اور بیٹی 6 سالہ اروی ہے۔ شادی کے بعد میں نے 9 سال لیبیا میں گزارے۔
آج کل میں چنن میں واقع ایک ڈگری کالج میں لیکچرر شپ کر رہی ہوں ۔
کیا آپ کے خاندان میں آپ سے پہلے بھی کوئی شاعر ہے؟
قدسیہ جبیں: جیسا کہ پہلے میں نے بتایا کہ ننھیال اور ددھیال دونوں طرف بہت علمی ذوق کے حامل لوگ تھے۔ پڑھنا پڑھانا بہت اہم سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے دادا دیو بند کے فارغ التحصیل تھے اور مطالعے کے بہت شوقین تھے ۔ ان کے پاس علمی اور ادبی ہر طرح کے رسالے آیا کرتے تھے ۔ دادی نے گو کہ رسمی طور پر تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن اُردو پڑھ سکتی تھیں۔ اخبار وغیرہ باقاعدہ پڑھتی تھیں۔ البتہ ہماری نانی کے والد حکمت کرتے تھے اور فارسی و پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ لوگ ان سے اشعار میں خط لکھوانے آیا کرتے تھے۔ نانی نے فارسی ادب کا عمدہ ذوق اپنے والد سے وراثت میں حاصل کیا تھا۔ اپنی شادی کے بعد انہوں نے اپنے سسرالی گائوں میں خواتین میں قرآن صحیح تلفظ اور ترجمے کے ساتھ اور اردو پڑھنے کی استعداد پیدا کرنے کے لیے اپنے گھر میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا ۔
ہم نے ہر وقت ان کے پاس ہر عمر کی عورتوں کا رش دیکھا جس کا سلسلہ علی الصبح ہی شروع ہو جاتا تھا اور غروب آفتاب کے بعد تک جاری رہتا۔ وہ انہیں تعلیم الاسلام کے حصے اور بہشتی زیور بھی پڑھایا کرتی تھیں۔ کچھ شوق اور استعداد رکھنے والوں کو بنیادی عربی گرائمر بھی پڑھاتی تھیں۔ بہنوں اور میری تعلیم گائوں میں ہوئی۔ میٹرک پرائیویٹ کیا کیوں کہ گائوں میں سرکاری اسکول صرف پرائمری تک تھا ۔ ہم جب ہائی اسکول تک پہنچے تو سرکاری اسکول میں ہائی کلاسز شروع ہو گئی تھیں۔ دونوں بڑی بہنوں نجمہ ثاقب اور عابدہ بتول نے بی اے بھی پرائیویٹ کیا ۔ اسی دوران نجمہ ثاقب کا پہلا افسانوں کا مجموعہ شائع ہوا۔ اس کے بعد وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں آنرز کے لیے گئیں۔ ان کا دوسرا افسانوں کا مجموعہ ’انتظار‘ کے نام سے لاہور سے ادبیات نے شائع کیا۔ تیسری بہن قرۃ العین اس وقت امریکا میں مقیم ہیں۔
ہمارے چھوٹے چچا عبدالشکور جو اس وقت الخدمت فائونڈیشن پاکستان کے صدر ہیں وہ بھی لکھنے لکھانے کا ذوق رکھتے ہیں ۔
ایسا کب محسوس ہوا کہ آپ شاعری بھی کر سکتی ہیں؟
قدسیہ جبیں: سچ کہوں تو مجھے اس بات کا احساس نہیں ہوا بلکہ مجھے ہمیشہ یہ لگا کہ مجھ میں کوئی خاص صلاحیت نہیں ہے ۔ ابتدا میں کچھ نثر میں لکھا لیکن وہ مجھے معیاری نہیں لگا۔ لکھنے کے حوالے سے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ اگر لکھا جائے تو معیاری لکھا جائے ورنہ بندہ نہ لکھے۔ شاعری کے بارے میں تو میں نے کچھ سوچا ہی نہ تھا کہ میں شعر بھی کہہ سکتی ہوں ۔
البتہ بڑی دونوں بہنیں ہمارے بچپن ہی میں لکھنا شروع کر چکی تھیں لہٰذا ہم بھی اپنے آپ کو اپنی دانست میں لکھے بغیر ہی ادیب سمجھتے تھے ۔ ایک دو تحریریں لکھیں‘ مضحکہ خیز سی تھیں خوب مذاق اُڑا ۔ اس دور میں آنکھ مچولی بچوں کا معیاری رسالہ تھا ۔ ہمارے ہاں با قاعدگی سے آتا تھا ۔ اس میں ایک تحریر شائع ہوئی۔ مگر با قاعدہ لکھنے کی طرف توجہ نہ ہوئی۔ یونیورسٹی میں جمعیت کی ناظمہ دھونس دے کر کچھ لکھوا لیا کرتی تھیں لیکن زیادہ توجہ مطالعے کی طرف ہی رہی۔ بیچ میں جوش بڑھتا تو کچھ لکھ لیا لیکن چھپوانے کا خیال کبھی نہ آیا ۔ شاعری اپنے بچوں کو سنانے کے لیے کرتی تھی۔و ہیں سے دیکھ کر آکسفورڈ والوں نے فون کیا کہ ہم آپ کی نظمیں اپنی اردو کی کتابوں کے لیے لینا چاہتے ہیں ۔
لکھنے کی عادت اور اس حوالے سے تربیت کیسے ہوئی؟
یہاں میں اجتماعیت کے نظام تربیت کا تذکرہ ضرور کروں گی ۔ یونیورسٹی دور میں لکھنے کی جو تھوڑی بہت مشق ہوئی اس میں زیادہ ہاتھ جمعیت کا ہے۔ اسی دور میں پر خلوص‘ ہم ذوق اور انتہائی محبت کرنے والی دوستیاں ملیں‘ جن سے آج بھی گہرا قلبی تعلق ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ بچپن اور لڑکپن میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس کے بڑے دیر پا اثرات ہوتے ہیں۔ مثلاً بچپن میں ہمارے دادا کے ہاں ’بتول‘ اور ’’نور‘ رسالے آتے تھے جو کہ ہم باقاعدگی سے پڑھتے تھے۔ پھر نعیم صدیقی کی ادارت میں نکلنے والے چراغ راہِ کی فائلیں اور کراچی سے ایک رسالہ مشیر نکلتا تھا جس میں ادبی انتخاب ہوتے تھے۔ پھر بنت الاسلام اور مائل خیر آبادی کی بچوں کے لیے مرتب کی گئی کتب۔ لہٰذا اہم بات یہ ہے کہ اسلامی حلقہ ادب کے اثرات بہت دیر پا اور گہرے تھے۔
جسارت: بچوں‘ گھراورملازمت کو ایک ساتھ کیسے نبھاتی ہیں؟
قدسیہ جبیں: میرے پاس شروع سے کوئی ملازمہ نہیں رہی۔ سب کام صفائی سے لے کر دانوں کی پسائی تک میں خود ہی کرتی ہوں ۔ پھر اس وقت ہم بہنیں اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہیں ۔ جیسا کہ ذکر کیا تھا کہ ہمارا کوئی بھائی نہیں‘ والدین کے عمر رسیدہ ہونے پر ہم میں سے کوئی نہ کوئی بہن امی ابو کے پاس رہتے تھے۔ امی کی نظر تقریباً بند ہو چکی ہے۔ابا بہت سرگرم اور سارے کام خود کرنے والے تھے۔ گزشتہ جنوری میں اپنی کتابوں کی چھوٹی سی دکان میں برین ہیمرج کی زد میں آ گئے۔ جسم کا دایاں حصہ بالکل مفلوج ہو گیا ہے۔ اب ہم ابا کے پاس منتقل ہو گئے ہیں۔ والدین کی خدمت ایک بڑی سعادت ہے ۔
جسارت: ایسے میں شاعری کس طرح کر لیتی ہیں‘ اس کے لیے تو یکسوئی اور تنہائی چاہیے؟
قدسیہ جبیں: میں اپنی شاعری کو بھی اسی طرح سے دیکھتی ہوں۔ میں نے زیادہ نظمیں اپنے ابا کی بیماری کے دوران شدید مصروفیت میں لکھیں‘ اس پر میری سہیلی ہمیشہ یہ ہی تبصرہ کرتی ہے کہ یہ اللہ نے تم سے لکھوائیں ۔
جسارت: کیا بچوں کو اپنی نظمیں سناتی ہیں؟ ان کے تاثرات کیا ہوتے ہیں؟
قدسیہ جبیں: بس چلتے پھرتے سناتی ہوں۔ کام کرتے کھانا کھلاتے ہوئے بھی جب موقع ملتا ہے۔ ’’محمد ﷺ مسکراتے ہیں‘‘ والی نظم روٹی پکانے کے دوران ’’مسکراتے تھے‘ مسکراتے تھے‘‘ کے الفاظ گنگنا رہی تھی۔ تصور میں تو رسول اللہؐ کا احساس تھا لیکن ان کا نام نہیں لگایا تھا… بیٹی نے سنا تو پوچھا کون مسکراتے تھے بس پھر نام کے ساتھ گنگنایا تو لگا کہ یہ تو مصرع ہو گیا۔ بس پھر نظم کہہ دی گئی ۔
بچوں کے لیے نظم اگر کوئی آدھی بھی کہتی ہوں تو وہ ہی سنا دیتی ہوں۔ آواز دے کر بچوں کو بلاتی ہوں‘ بچے سن کر دلچسپی لیتے ہیں ۔ بعد میں اگر ترمیم اور اضافہ کروں تو بچوں کی طرف سے اعتراض آتا ہے کہ اصل میں تو ایسا تھا ۔
اپنے بچوں کو سنانے کا کام میں بہت کرتی ہوں وہ میرے بہت اچھے سامعین ہیں۔ میں اپنی ہر چیز پڑھ کر سناتی ہوں اور پھر مفہوم بھی ۔ ان کی فرمائش پر کہانیاں بھی سناتی ہوں۔ چلتے پھرتے جھاڑو لگاتے ، کھانا کھاتے ہوئے۔ میرے دونوں بچے کہانی اور نظم کے رسیا ہیں ۔ کبھی نہیں اکتاتے ۔ ایک کہانی کے وعدے پر پوری کتاب سن لیتے ہیں ۔ چھوٹی بیٹی تو بہت ہی لطف لیتی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ وہ بھی لکھنے لکھانے کی طرف راغب ہوں گے۔
جسارت: آپ اچھی تحریر کے حوالے سے لکھنے والوں کو کیا مشورہ دیں گی؟
قدسیہ جبیں: مطالعے کا تنوع اور مشاہدہ دونوں تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے ۔ اچھے ادیبوں کو پڑھنا اور ان کے طرز و اسلوب تحریر پر غور کرنا بہت ضروری ہے ۔ مثلاً ہمارے ہاں بچوں کی کہانیاں سیدھی سادی لکھی جاتی ہیں جس میں آخر میں سبق اور نصیحت کر دی جاتی ہے ۔ لیکن اگر آپ امتیاز علی تاج ، قاسمی ، شوکت تھانوی کے قلم سے لکھا گیا بچوں کا ادب پڑھیں تو بالکل مختلف ہو گا ۔ فن اور تکنیک کو پیش نظر رکھ کر لکھا گیا ہو گا ۔بنت الاسلام کی مرتب کی گئی کتب میں بھی یہ صلاحیت ہے کہ ایک تو بچہ زبان سے کھیلنا سیکھتا ہے اور دوسرا قصے کے بعد کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
بین الاقوامی ادب پڑھنے سے بھی موثر اسلوب سیکھنے میں مدد ملتی ہے ۔ زیادہ پڑھنا ۔ کم لکھنا اور ہر لکھی ہوئی چیز پر بار بار نظر ثانی کرنا ۔ ویسے میری ذاتی رائے ہے کہ لکھی ہوئی چیز چھپوانا بھی ضروری نہیں ۔
جسارت: آپ مائوں کو کیا مشورہ دیں گی کہ بچوں کے علمی ذوق اور اچھی اٹھان کے لیے انہیں کیا کرنا چاہیے؟
قدسیہ جبیں: بچوں کی تربیت میں کہانیوں اور کتابوں سے مدد ملیں ۔ بچوں کو پڑھ کر سنائیں جیسے کہ آج یہ کہا جاتا ہے کہ بچے پڑھنے کا رجحان نہیں رکھتے۔ مائیں رسالے اور کہانی کی کتابیں نہیں خریدتیں۔ انہیں وقت کے ضائع ہونے کا بھی احساس ہوتا ہے لیکن یقین رکھیں کتابوں پر خرچ کیا گیا وقت ضائع ہوتا ہے نہ پیسے ۔ اگر بچے نہ پڑھیں آپ انہیں پڑھ کر سنائیں۔ بڑے ہو جائیں تو بھی پڑھ کر سنائیں ۔ اس کے اثرات ضرور ہوتے ہیں باتیں ذہن میں رہ جاتی ہیں ۔
مجھے یاد ہے بچپن میں ہمارے لیے بچوں کے رسالے ہر ماہ آیا کرتے تھے ۔ پہلے پہل اردو ڈائجسٹ کے زیر اہتمام نکلنے والا بچوں کا ڈائجسٹ پھر وہ مالی خسارے کے باعث بند ہو گیا تو ابا نے بہت چھا ن پھٹک کر کے آنکھ مچولی کا انتخاب کیا۔ اس زمانے کے لوگ جانتے ہیں کہ آنکھ مچولی کی ادارتی ٹیم کس قدر جانفشانی اور محنت سے اس کا معیار بر قرار رکھتی تھی ۔ پھر اس کی ادارتی ٹیم تبدیل ہو گئی تو پھر پھول پر گزارہ کرنے لگے ۔ مائوں کو اپنے بچوں کے لیے معیاری کتب اور رسالوں کا انتخاب کرنا چاہیے اور چھوٹی عمر سے انہیں پڑھ کر سنانا چاہیے ۔ اگر بچے بڑے ہو گئے ہیں تب بھی انہیں پڑھ کر سنانا چاہیے ۔ یہ سنایا گیا ان کے ذہن میں ضرور رہتا ہے ۔ اور اثر انداز ہوتا ہے ۔
جسارت: قدسیہ جبیں آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا۔ امید ہے کہ آپ سے کی گئی گفتگو قارئین کی دلچسپی اور معلومات کا باعث ہوگی۔

محمدﷺ مسکراتے تھے

قدسیہ جبیں

محمدﷺ مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے
وہ اتنے خوب صورت
صاف ستھرے
نکھرے نکھرے
پیارے پیارے تھے
کہ جب بھی ، مسکراتے تھے
تو ان کے موتیوں سے دانت
جھلمل جھلملاتے تھے
محمدﷺ مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے
——–
گلی میں کھیلتے بچوں سے
خود جا کر ، ملا کرتے
وہ ان سے کھیلتے تھے
گود میں لیتے
ہنساتے تھے
وہ ان کو گدگداتے تھے
کمر پر لاد کر اپنی
سواری بھی کراتے تھے
محمدﷺ مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے
——-
وہ کہتے تھے
کہ بچے پھول ہیں ،
جگنو ہیں ،خوشبوہیں
کبھی نہ مارتے ان کو
وہ نرمی اورمحبت سے
سکھاتے تھے
دعا دیتے تھے اور
وہ جو کچھ سکھاتے تھے
وہ خود کر کے دکھاتے تھے
محمدﷺ مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے
———
وہ جب باہر سے آتے
اونٹ پر ہوتے یا گھوڑے پر
تو اپنے راستے میں کھیلتے بچوں کے
خود ہی پاس جاتے تھے
وہ سب کو باری باری
اپنے گھوڑے پر بٹھاتے تھے
انہیں جھولا دلاتے تھے
محمدﷺ مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے
———
وہ جب بھی دیکھتے
بچوں کے
منہ اور ہاتھ میلے ہیں
تو ان کو گود میں لے کر
وہ انکا منہ دھلاتے تھے
وہ ان کو چومتے تھے
اور پاس اپنے بٹھاتے تھے
محمدﷺ مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے
——–
وہ مسجد ہو یا ان کا گھر
کوئی کھانے کی چیز آتی
تو بچوں سے شروع کرتے
انہیں وہ سب سے پہلے دے کے
اوروں کو کھلاتے تھے
محمدﷺ مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے
———
محمد ﷺ کی طرح میں بھی
ہمیشہ مسکراؤں گا
میں جب جنت میں ان سے
خود ملوں گا ،یہ بتاؤں گا
مجھے ان سے محبت ہے
میں ان سے پیار کرتا ہوں
کہ جب میں چھوٹا بچہ تھا
توان کو سوچتا تھا
یاد کرتا، مسکراتا تھا
کہ تب ہر رات کو
سونے سے کچھ پہلے
مجھے ابو بتاتے تھے
محمدﷺ مسکراتے تھے
ہمیشہ مسکراتے تھے

کون سی چیز کہاں رکھی ہے؟

قدسیہ جبیں

کون سی چیز کہاں رکھی ہے
اپنی اپنی جا رکھی ہے
آسماں کی ساری چیزیں
گھومتی ہیں اپنے چکر میں
سورج ، چندا ماموں ، تارے
باری باری آئیں سارے
نہ ہی افراتفری کوئی
نہ ہڑبونگ مچا رکھی ہے
کون سی چیز کہاں رکھی ہے
اپنی اپنی جا رکھی ہے
——–
چندا ماموں گویا دلہا
تارے گردا گرد کھڑے ہیں
آنکھیں اپنی جھپک جھپک کر
دور سے ہم کو دیکھ رہے ہیں
کیسی پیاری محفل ان کی
کیا ترتیب بنا رکھی ہے
کون سی چیز کہاں رکھی ہے
اپنی اپنی جا رکھی ہے
——–
ہلکی چیزیں اوپر جائیں
بھاری چیزیں نیچے آئیں
گائے کو اڑتے نہ دیکھا
تتلی کو چلتے نہ پائیں
مچھلی پانی ہی میں تیرے
اور اڑنے کو فضا رکھی ہے
کون سی چیز کہاں رکھی ہے
اپنی اپنی جا رکھی ہے
———
سارے چہرے غور سے دیکھو
اک دوجے سے رنگ جدا ہے
کوئی گورا، کوئی کالا
سب کا خالق ایک خدا ہے
سب کے ہی دو کان ہیں، دیکھو
سب کا ماتھا ایک جگہ ہے
آنکھیں ہیں ماتھے کے نیچے
بیچ میں ناک جما رکھی ہے
کون سی چیز کہاں رکھی ہے
اپنی اپنی جا رکھی ہے
————
تم بھی پیارے پیارے بچو
دیکھو،غور کرو اور سمجھو
اپنی اپنی ساری چیزیں
ان کی خاص جگہ پر رکھو
جوتوں کو خانے میں رکھ کے
کپڑے الماری میں رکھو
پنسل کو بستے میں ڈالو
رنگوں کو ڈبے میں رکھو
جب بھی امی تم سے پوچھیں
کون سی چیز کہاں رکھی ہے
تم سب اک آواز میں بولو
’’اپنی اپنی جا رکھی ہے
اپنی اپنی جا رکھی ہے‘‘
(ماں کی ہر وقت کی کھپائی کے
پس منظر میں ایک لا حاصل سی کوشش)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ