دل پڑا ہے رستے میں

31

ڈاکٹر عزیزہ انجم

٭ ذرا آہستہ چلیے۔ بہت جلدی ہے ‘ بہت مصروفیت ہے۔ بہت کام ہیں۔ پھر بھی رکیے۔ ٹہریے۔ذرا آہستہ چلیے ۔
٭ دیکھیے تو راستے میں کسی کا دل پڑا ہے ۔
٭ آپ مصروف بزنس مین ہیں۔ معروف ڈاکٹر ہیں۔ کامیاب وکیل ہیں۔ جج ہیں‘ قابل پروفیسر ہیں‘ مانا کہ آپ بہت کچھ ہیں‘ آپ بہت معزز ہیں۔ محفلوں کی جان ہیں‘ شان ہیں‘ دوستوں کی بیٹھک آپ کے قہقہوں سے آباد ہے۔ آپ کی جیب دوستوں کے لیے کھلی رہتی ہے۔آپ بہت اچھے ہیں‘ قابلِ تعریف ہیں۔ آپ کے موبائل پر آنے والی کالز اور پیغامات ہی ختم نہیں ہوتے اور ایک دن زندگی کا سفر ختم ہو جاتا ہے اور آپ کو سوچنے کی مہلت ہی نہیں ملتی کہ آپ کا ایک گھر بھی تھا۔ گھر میں رہنے والے بیوی اور بچے بھی تھے۔ آپ کی منتظر ماں بھی تھی‘ آپکا بوڑھا باپ بھی تھا ۔
٭ بیویاں جو گھر سجاتی ہیں۔دسترخوان مہکاتی ہیں۔رشتہ داریاں نبھاتی ہیں۔کتنے خوش مزاج ہیں جنکے ہونٹوں کے ایک تبسم کے لئے جنکے چاہت بھرے لہجے کیلیے تعریف کے دو لفظوں کے لیے بیوی کی عمر بیت جاتی ہے۔سینے میں دھڑکتا دل فریاد کناں رہتا ہے۔
٭ معمول کے کاموں سے ہٹ کر روز مرہ کے معمولات سے الگ کوئی دن کوئی گھنٹہ کوئی فرصت کی گھڑی جب شریکِ زندگی سے دل کی بات کی ہو۔ کوئی پھول کوئی خوشبو کوئی اظہارِ محبت کا کارڈ اس کے لیے بھی لیا ہو۔دوسرے شہر سے کوئی محبت بھرا میسج اسے بھی کیا ہو یاد ہے آپکو ؟
٭ بچے اسکول جاتے ہیں اسکول اچھا ہے۔بچے بھی محنت کررہے ہیں۔رزلٹ اچھا آتا ہے۔آپ اس عمل میں کتنے شریک ہیں اور کتنے نہیں۔کبھی بچوں کے ساتھ وقت گزارا۔انکے دل کی بات سنی۔ان کے لطیفوں پر قہقہے لگائے کبھی کہا میری جان یہ غلط ہے یہ صحیح۔آؤ میں تمہیں سائکل پر پیڈل مارنا سکھاؤں۔بائک پر تمہارے پیچھے تمہیں پکڑ کر بیٹھوں تمہارے آئسکریم کے پیالے میں سے چمچ بھر کر کھاؤں اور اپنے پیالے میں سے چمچ بھر کر تمہیں کھلاؤں۔
٭ عمر گزر جاتی ہے۔بچوں کے دل کی کھیتی مرجھائی پڑی رہتی ہے وہ دوسری مصروفیت ڈھونڈ لیتے ہیں اور وقت آگے نکل جاتا ہے۔
٭ ماں باپ زندگی کے سرد وگرم گزار کر ایک تبسم کی کرن پکڑنے کیلیے جھریوں بھرے ہاتھ بڑھاتے رہتے ہیں لیکن مسرت کی کوئی روشنی ان کے ہاتھ نہیں آتی۔آپکی قربت کی دو گھڑی انکا نصیب نہیں بنتی۔
٭ بعض دفعہ آپکے ہی گھر میں۔کبھی کسی بہن بھائی کے گھر میں کمرے کی کھڑکی سے وہ بدلتے موسم کا نظارہ کرتے ہیں۔پچھلی تصویروں کا البم کھولتے بند کرتے ہیں۔ان کی آنکھ کے آنسو ان تصویروں کو دھندلا کر دیتے ہیں۔ آپ نے کبھی سوچا کھانے اور لباس سے آگے انہیں کچھ اور تو نہیں چاہیے۔
٭ انہیں آپکا ہاتھ تو نہیں پکڑنا۔آپکا لمس تو نہیں چاہیے۔آپکے دیدار سے آنکھیں تو ٹھنڈی نہیں کرنی۔
٭ ٹہریے رکیے سوچیے۔وقت کہاں سے نکالا جا سکتا ہے۔ رویوں میں کیا تبدیلی ضروری ہے۔ یہ جو آپ سے وابستہ رشتے ہیں۔یہ جو بہت سارے دل آپکے لیے دھڑکتے ہیں ان کی آواز بھی کبھی سنیے۔
٭ تیز تیز چلتے ہوئے یاد رکھیے ۔۔ راستے میں کسی کا دل پڑا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ