تمام لٹیروں کے احتساب تک کرپشن فری پاکستان تحریک جاری رہے گی‘ سراج الحق

132
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق تعلقات عامہ کے ذمہ داران سے خطاب کر رہے ہیں
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق تعلقات عامہ کے ذمہ داران سے خطاب کر رہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ عدالت عظمیٰ کے بارے میں نوازشریف کے ریمارکس اعلیٰ عدلیہ کے خلاف اعلان جنگ ہے، بجائے اس کے کہ نوازشریف اپنے ماضی پر نظر ڈالتے اور ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے تعاون کرتے ، وہ عدالت عظمیٰ کو دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن ان دھمکیوں سے احتساب کا عمل رکنے والا نہیں ، کرپشن کے خلاف ہماری تحریک جاری ہے،عوام حکمرانوں سے لوٹی دولت واپس لیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ، قوم عدالت عظمیٰ کی پشت پرکھڑی ہے کسی کے دھمکانے ڈرانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ، حکومت قبائلی عوام کے ساتھ دھوکا اور مسلسل اپنے وعدوں سے انحراف کر رہی ہے ، اعلان کے باوجود انہیں انضما م کا حق نہیں دیا جارہاہے ، حکومت ختم نبوت کے حلف کو ختم کرنے والوں کو بھی ابھی تک سامنے نہیں لائی اور نہ انہیں سزاد ی، قوم پوچھتی ہے کہ حکمران ختم نبوت کے حلف میں نقب لگانے والوں کو کیوں چھپا رہی ہے ؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں شعبہ تعلقات عامہ کے ناظمین کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر راشد نسیم ، اظہر اقبال حسن و دیگر بھی موجود تھے ۔ تربیتی ورکشاپ میں ملک بھر سے جماعت اسلامی کے ضلعی ناظمین شعبہ تعلقات عامہ نے شرکت کی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ احتساب کے ایک مستقل نظام کے بغیر ملک سے کرپشن ختم نہیں ہوسکتی ۔ 70 سال تک لوٹ مار کرنے اور قومی دولت سے جیبیں بھرنے والوں کے کڑے احتسا ب کا مطالبہ پوری قوم کا ہے ۔ نوازشریف چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو ۔ سابق وزیراعظم صرف انہی فیصلوں کو منصفانہ سمجھتے ہیں جو ان کے حق میں ہوں اگر ان کے خلاف فیصلہ آ جائے تو ان کی طبع پر ناگوار گزرتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ عدالت عظمیٰ کے خلاف نوازشریف کے ریمارکس پر عام آدمی کو دکھ پہنچا ہے، لوگ سوچ بھی نہیں سکتے کہ 3 بار وزیراعظم رہنے والا شخص عدلیہ کے خلاف ایسی زبان استعمال کرے گا ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کے خلاف ہماری تحریک جاری ہے اور جب تک کرپٹ مافیا اور بینکوں سے قرضے لے کر معاف کرانے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا ، کرپشن فری پاکستان تحریک جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ پاناما لیکس کے دیگر کرداروں کے خلاف کارروائی کا جلد آغاز کیا جائے اور ساتھ ہی ایک ایسا میکنزم بنایا جائے کہ مال مسروقہ کی ریکوری ہوسکے ، لہٰذا بیرون ملک پڑی ہوئی قومی دولت کو واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ حکومت نے ختم نبوت کے حلف میں ترمیم کرنے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ راجا ظفر الحق کی صدارت میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئی نہ مجرموں کو کوئی سزا دی گئی ۔ لوگ حیران ہیں کہ آخر حکومت ختم نبوت کے مجرموں کی سرپرستی کیوں کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کروڑوں عاشقان رسول ؐ کے جذبات سے کھیل رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے وعدوں سے حکومت پیچھے ہٹ رہی ہے اور حکمران اپنے وعدوں سے مسلسل انحراف کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت قبائلی عوام سے دھوکا کر رہی ہے لیکن فاٹا کے عوام اب انضمام کی تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ حکومت کے لیے بہتر یہی ہے کہ اپنے وعدوں کا پاس کرے اور قبائلی عوام کو ان کی خواہش کے مطابق خیبر پختونخوا میں انضمام کا حق دے ۔

حصہ