فرشتے اور جدیدیت

40

محمد عمران خان

فرشتوں کا تصور ہر مذہب وتہذیب میں موجود رہا ہے لیکن مغربی تہذیبWestern Civilization کی علمیت فرشتوں کے تصور کو تسلیم نہیں کرتی۔1857کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمان تناؤ وفشار، مایوسی واضطراب اور خیبتFrustration کا شکار تھے۔ جس کے نتیجے میں تین قسم کے رویہ ظاہرہوئے: ایک رویہ مزاحمت Resistance کا تھا مثلاً سید احمد شہید (1786۔1831) کی تحریکِ جہاد اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی ریشمی رومال تحریک، اسی کی ایک ذیلی شاخ مدرسہ بند طرزِ فکر تھا۔ دوسرا معذرت خواہانہ انداز Reaction Apologetic اختیار کرنے والے مذہبی زعما میں سے مولانا شبلی نعمانی(1857۔1914) تھے جنکی فکر سے مدرسہ فراہی کے مولانا امین اصلاحی اور جاوید احمد غامدی نمایاں ہوئے۔ جبکہ مصالحانہ یا مفاہمانہ Reaction Compromising انداز اختیار کرنے والی نمایاں شخصیت سرسید احمد خان (1818۔98) کی تھی جنھوں نے علمی تحریک علی گڑھ سے برصغیر کی مسلم فکر کو اس حد تک متاثر کیا کہ انھیں پاکستانی ایجوکیشن ریفارمر جانا جاتا ہے۔ مولانا محمود الحسن فرماتے ہیں: اے نونہالانِ وطن جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غمخوار مدرسوں اور مسجدوں میں کم اور اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں۔ (نیشنل یونیورسٹی کا افتتاحی خطبہ صدارت، اکتوبر1920) سرسید احمد خان نے نہ صرف جدید تعلیم بلکہ جدید رسوم و رواج و آداب غرض ’’مغربی تہذیب کی نقالی‘‘ کی دعوت دے کر لارڈ میکالے کے نظریات کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ فزیکل سائنسزکے تحت فطرتNature کا مشاہدہ کیا اور فرشتوں اور معجزات کی بے ڈھب سائنسی توجیہات پیش کرتے ہوئے کہا ’’فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں نیچرل سائنسز بائیں ہاتھ میں اور کلمہ طیبہ کا تاج ہمارے سر پر ہوگا‘‘۔ (تفسیر القرآن: جلد اول29-30,35)۔

عمرانی نقطہ نظر سے سماج یا تہذیب کی تشکیل کے تین مراحل stages ہوتے ہیں: اول ’’مقاصد Intensions‘‘، دوم ان مقاصد پر مبنی ’’علوم Knowledge‘‘ سوم ان علوم پر مبنی ’’طرزِ حیات Lifestyle‘‘۔ مغربی علمیت کا مقصد ’’آزادی‘‘ ہے جس پر ان کے جملہ علوم کی اٹھان ہوئی اور مغربی لائف اسٹائل متشکل ہوا۔ اس کے برعکس مسلم علمیت کا مقصد آزادی ہر گز نہیں ہے بلکہ ’’فرمانبرداری و پرہیزگاری اور عبدیتِ ایزدی‘‘ ہے، حدود وقیود کا اہتمام ہے۔ اس متضاد علمی میراث (جدیدیت کی ’آزادی‘ اور اسلامیت کی ’حدود و قیود‘) سے ایک متضاد رویوں کا حامل مسلمان متشکل ہوا جس کے ذہن میں مانع منطق خانے Compartments Tight Logic پائے جاتے ہیں اور دونوں تصورات ایک دوسرے سے بے خبر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا مذہبی فرد تیار ہورہا ہے جو کسی معاملے میں سخت مذہبی ہے تو کسی معاملے میں سخت غیر مذہبی بھی ہے مثلاً عقائد وعبادات میں وہ کٹر مسلمان ہے مگر معاملات و سماجی تعلقات میں آزاد منش و دنیادار۔ ایک طرف وہ نمازیں پڑھتا ہے تو دوسری طرف ملاوٹ، رشوت ستانی، دھوکا دہی، چور بازاری، بے حیائی کا بھی مرتکب ہو رہا ہے۔ درحقیقت انسان ایک سماجی مخلوق Being Social ہے۔ سماجی رد Rejection Social اور تفرد Isolation میں وہ زندہ نہیں رہ سکتا، اگر ایسا ہو تو نفسیاتی عوارض اس کا روگ بن جائیں۔ وہ اس دوغلے پن و منافقانہ رویوں کے بغیر مارکیٹ اور ملازمت میں چل نہیں سکتا۔ دین اس کو صبر و قناعت کی تعلیم دیتے ہیں تو ملازمت و مارکیٹ حرص و ہوس و خواہشات کا غلام بناتے ہیں۔

اسلام ایک کلیت و جامعیت کانام ہے جس میں عقائد واخلاقیات، معاشرت و معیشت، سیاست و تعلیم غرض تمام شعبہ ہائے حیات شامل ہیں، وہ فرد کو اس کی انفرادی زندگی سے اجتماعی زندگی تک ایک مکمل پیکج فراہم کرتا ہے جس میں رہ کر افراد کا باہمی تعلق صحت مندانہ بنیادوں پر استوار رہتا ہے۔ رسول عربی کی ریاستِ مدینہ سے تاریخِ عالم کی اعلیٰ ترین الہامی تہذیب نے نہ صرف جنم لیا بلکہ قریب ہزار سال تک دنیا کا فطرت سے دوطرفہ مفید تعلق برقرار رکھا، اس کے برعکس مغربی تہذیب انسانی و آفاقی ہر دو فطرتوں سے متصادم نظر آتی ہے جس کا نتیجہ عظیم تباہی و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔

فرشتے اور سائنس:

سائنس سے بے پناہ مرعوبیت، مصنوعات کے لامحدود پھیلاؤ اور اس پر بڑھتی انحصاریت کی وجہ سے مغربی انسان نے اپنے فطری رجحان tendency inborn (الست بربکم۔ قالوا بلیٰ: کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ سب نے اقرار کیا کیوں نہیں۔ (الاعراف7: 172) کی تسکین کی خاطر ’’سائنس ‘‘ ہی کو خدا کی جگہ رکھنا شروع کر دیا ہے جسے سائنس ازم Scientism کہا جا رہا ہے۔ اور عیسائیت میں Scientology کی صورت میں مزید ریفارمز جاری ہیں۔ مغرب مقلد انسان جو کہ لبرل و سیکولر اور دیگر اِزموں کا حامی ہے دیکھتے بھالتے اس مادیت پرستی میں اپنے دین و ایمان کے مطلوب، آخرت کی کامیابی کو بھلا کر دنیا پرستی کی دوڑ میں سر پٹ دوڑ رہا ہے۔

پروفیسر آرتھر جیمس کے بقول دورِ جدید میں علم الفرشتگان Angelology کو نظر انداز کرنے کی وجہ علم سائنس و ٹکنالوجی پر زیادہ یقین رکھنا ہے (مسیحی علم الہیٰ کے لزوم)۔ ’’وہن‘‘ حْب الدنیا و مخافۃ الموت (دنیا سے محبت اور موت کے خوف) نے انسانوں کے طرزِ فکر اور ورلڈ ویو کو یکسر بدل دیا ہے اور وہ فرشتوں کو اپنا دوست سمجھنے کے بجائے دشمن باور کرنے لگے ہیں:

So the trend of making Gabriel (angel) a “bad guy”… accepting the Renaissance convention that the unnamed angel with the trumpet in Revelation is Gabriel, and finishes with the (widespread) assumption that the end of this world would be a very bad thing.) Was Gabriel a bad angel? How was this theory born?

ترجمہ: یہ رجحان کہ فرشتہ جبرائیل ایک ’بری ہستی ‘ہے۔ یہ رجحان نشاۃِ ثانیہ کے بعد سے پیدا ہوا کہ حاملِ صور بے نام فرشتہ جس کا (مسیحی) الہام میں تذکرہ ہے وہ جبرائیل ہی ہے۔ اور اب یہ عام تصور تھا کہ دنیا کا اختتام ایک بہت بری بات ہوگی (لہذا فرشتہ جبرائیل جو دنیا کے خاتمہ کا سبب ہے ایک بری شخصیت ہے)۔

(www.quora.com/Was-Gabriel-a-bad-angel-How-was- this- theory-born)

حصہ