شمسی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی ریس

84

آسٹریلیا میں 30 سے زیادہ ممالک سے شمسی توانائی پر چلنے والی گاڑیاں ڈارون سے ایڈیلیڈ تک کی 3 ہزار کلومیٹر کی ریس میں حصہ لینے کے لیے پہنچیں۔ یہ ریس گزشتہ 30 برس سے سال میں 2 بار منعقد کی جاتی ہے۔ اس ریس میں حصہ لینے والی ٹیم ان طلبہ پر مشتمل ہوتی ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے یہ گاڑیاں بنائی ہوں۔ ریس میں حصہ لینے والوں نے پہلے پریکٹس کی اور پھر 8 اکتوبر کو فائنل ریس میں حصہ لیا۔
بلجیم کی پنچ پاور ٹرین نامی ٹیم نے پول پوزیشن حاصل کی ہے۔ ان کی گاڑی 83.4 کلومیٹر فی گھنٹہ کی اوسط رفتار سے چلی۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ ریس کی قوانین بڑے واضح ہیں۔ ’یہ بات واضح ہے کہ ہزار واٹس کی گاڑی اس ریس کو 50 گھنٹوں میں مکمل کرے گی اس لیے ہر گاڑی کو پانچ کلو واٹ کی توانائی دی جاتی ہے۔ باقی ماندہ توانائی شمسی توانائی سے حاصل کرنا لازمی ہے۔‘
منتظمین نے بتایا کہ قوانین کے مطابق ’ایک بار جب ریس میں حصہ لینے والے ڈارون سے نکلتے ہیں تو وہ شام 5 بجے تک ڈرائیو کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ جہاں بھی ہیں ان کو وہیں کیمپ کرنا ہوتا ہے۔ ہر ٹیم کے پاس کیمپ کرنے کے لیے سامان ہونا چاہیے۔ ریس کے روٹ پر 7 چیک پوائنٹس آتے ہیں۔ ان چیک پوائنٹس پر صرف بنیادی مرمت کی اجازت ہوتی ہے جیسے کہ ٹائروں میں ہوا چیک کرنا اور گاڑی میں سے گند نکالنا۔ ریس میں 3 درجات میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔ چیلنجر کلاس، کروز کلاس اور ایڈونچر کلاس۔

حصہ