پی آئی اے نے اپنے تمام طیاروں کی تزئین و آرائش شروع کر دی

74

وزیر اعظم کے مشیر برائے ہوا بازی سردار مہتاب احمد خان نے کہا ہے کے پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن ( پی اآئی اے)کو دوبارہ ایک منافع بخش ادارہ بنایا جائے گا ، آئندہ ہفتہ میں بزنس پلان وفاقی کابینہ کی منظو ری کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جس میں پی آئی اے کی ری سٹرکچرنگ سمیت تمام معاملات شامل ہیں ، مسافروں کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے پی آئی اے کے تمام طیاروں کی تزئین و آرائش کی جارہی ہے ۔

 وہ منگل کو اسلام آباد ائر پورٹ پر پی آئی اے کے پہلے بوئنگ 777 طیارے کی تزئین و آرائش کے بعد کراچی سے اسلام آباد آمد پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے ۔ پی آئی اے نے اپنی انجینئرنگ سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے بوئنگ777 طیارہ کی مکمل طور پر دوبارہ سے تزئین و آرائش کر کے فضائی بیڑے میں شامل کر دیا ہے۔ اس طیارے کے بعدپی آئی اے کی موجودہ انجینئرنگ سہولیات کو استعمال کر کے تمام طیاروں کی تزئین کی جا رہی ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ طیارے کے نئے سیٹ کورز، قالین کی تبدیلی اور باریک بینی سے صفائی کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پانچ مزید بوئنگ777 طیاروں کی دوبارہ سے تزئین و آرائش بھی جلد شروع کی جارہی ہے جس میں ان طیاروں میں بزنس اور اکانومی کلاس کی نئی سیٹیں اور دوران پرواز انٹرٹینمنٹ سسٹم کی مکمل بحالی بھی شامل ہے اور اس سلسلے میں پہلا طیارہ اگلے سال میں مکمل ہوجائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کا بزنس پلان تیار کر لیا گیا اور اگلے ہفتے اس کو منظوری کے لئے کابینہ کو پیش کر دیا جائے گا۔ ایوی ایشن انڈسٹری میں بہت ترقی ہو سکتی ہے اور جب بزنس پلان منظور ہو جائے گا تو یہ پی آئی اے کے مفاد میں ہو گا اور اگلے دو سے تین سالوں میں مثبت تبدیلیاں نظر آئیں گی۔

 انہوں نے بتایا کہ بزنس پلان کے مطابق 2019 تک پی آئی اے کا فضائی بیڑہ 50 طیاروں تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نیویارک کیلئے پروازیں عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ اصولی طور پر کر لیا گیا ہے لیکن ابھی اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے پی آئی اے سے ملازمین کی چھانٹی کی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوپن سکائی پالیسی سے مقابلہ بازی کی مثبت فضاء بنتی ہے لیکن اس پالیسی کے تحت غیر ملکی ایئر لائنز کو پروازوں کی اجازت دیتے وقت ملکی ائر لائنوں کے مفاد کو مد نظر نہیں رکھا گیا اور اب غیر ملکی ائر لائنوں کو مزید پروازیں شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

حصہ