سڈنی ٹیسٹ،ڈیوڈ وارنر نے کئی ریکارڈ اپنے نام کرلیے

72

آسٹریلوی ٹیم کے مایہ ناز اوپننگ بلے بازڈیوڈ وارنرنے سڈنی ٹیسٹ میں کئی اعزاز اپنے نام کرلیے۔

جارح مزاج آسٹریلوی اوپنرڈیوڈ وارنر ٹیسٹ میچ کے پہلے سیشن میں سنچری داغنے والے دنیا کے 5 ویں بیٹسمین بن گئے، آسٹریلوی اوپنرنے سڈنی ٹیسٹ میں صرف 78 گیندوں پر یہ سنگ میل عبور کرتے ہوئے الیٹ کلب کو جوائن کر لیا، اس سے قبل 1976ء میں پاکستان کے سابق کپتان ماجد خان نے کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے پہلے دن کھانے کے وقفے سے پہلے تھری فیگر اننگز تراشی تھی، ڈان بریڈ مین 1930، چارلس میکارنٹی 1926، وکٹر ٹرمپر 1920 میں پہلے روز لنچ سے قبل سنچری سکور کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں، تینوں بیٹسمین آسٹریلوی اور حریف ٹیم انگلینڈ تھی۔

ڈیوڈ وارنر بطور اوپنر زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے دنیا کے 23ویں بلے باز بن گئے، وارنر نے پاکستان کے خلاف شروع ہونے والے آخری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 113 رنز کی دلکش اننگز کھیل کر سابق ہم وطن بلے باز جسٹن لینگر اور سابق انگلش بلے باز جان ہوبز کا بطور اوپنر زیادہ رنز کا ریکارڈ توڑ دیا، لینگر نے 5112 اور ہوبز نے 5130 رنز بنا رکھے تھے جبکہ وارنر نے اب تک بطور اوپنر 107 اننگز میں 5167 رنز بنا رکھے ہیں۔ بطور اوپنر زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے کا عالمی اعزاز انگلش قائد ایلسٹرکک کو حاصل ہے جنہوں نے 240 اننگز میں 10430 رنز بنا رکھے ہیں۔

اس کے علاوہ اوپننگ بلے باز ڈیوڈ وارنر نے پاکستان کے خلاف شروع ہونے والے آخری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں شاندار سنچری داغ دی، یہ ان کے کیریئر کی 18ویں سنچری ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایڈم گلکرسٹ اور سٹیون سمتھ کی زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ توڑ دیا اور ملک کی طرف سے زیادہ سنچریاں بنانے والے 13ویں بلے باز بن گئے۔کینگروز کی جانب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا اعزاز رکی پونٹنگ کو حاصل ہے جنہوں نے 41 سنچریاں سکور کر رکھی ہیں۔

ڈیوڈوارنر نئے سال کے پہلے ٹیسٹ میچز میں مسلسل تین سنچریاں بنا کر دنیا کے چوتھے بلے باز ہونے کا اعزاز بھی پا لیا، وارنر نے 2015ء سال کے شروع میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ میں 101 اور 2016ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف نئے سال کے پہلے ٹیسٹ میں 122 رنز کی دلکش اننگز کھیلی تھیں۔ نئے سال کے ابتدائی ٹیسٹ میچز میں مسلسل زیادہ سنچریاں بنانے کا عالمی اعزاز ویلے ہامنڈ کو حاصل ہے جنہوں نے 4 سنچریاں بنا رکھی ہیں، وی وی ایس لکشمن اور ڈیوڈ بون نے مسلسل تین سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے۔

 دوسری جانب ڈیوڈ وارنر اس بات سے قطعی لاعلم تھے کہ وہ ٹیسٹ میچ کے پہلے روز پہلے ہی سیشن میں سنچری داغنے والے ریکارڈ میں حصے دار بن رہے ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے 80 رنز بنانے کے بعد سوچنا شروع کیا کہ لنچ میں 25 منٹ رہ گئے ہیں، 100 رنز مکمل کر سکتا ہوں، میری اصل توجہ اس بات پہ تھی کہ تیزی سے رنز بناتے ہوئے اپنی ٹیم کو بہترین آغاز اور حریف کو دباؤ میں لانے کا موقع فراہم کروں۔ ریکارڈ کے حوالے سے آؤٹ ہونے کے بعد ڈریسنگ روم میں واپسی پر ٹیم ڈاکٹر پیٹر برکنر نے بتایا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ