شدت پسند? اور تنازعات ?? باعث لوگ اپن? گ?ر بارچ?و?ن? پر مجبور

53

جنیوا میں قائم مرکز برائے داخلی نقل مکانی نے اپنی نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شدت پسندی اور تنازعات کے باعث زیادہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو رہےہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2014میں دنیا بھر سے تین کروڑ اسی لاکھ افراد داخلی طور پر بے دخل ہوئے، جس میں گھر بار چھوڑنے والوں کی تعداد ایک کروڑ ہیں اوران اعدادوشمار میں 10 لاکھ نئے افراد بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ تین کروڑ 80 لاکھ کے عدد کا اندازہ لندن، نیویارک اور بیجنگ کی مجموعی آبادی کے مساوی ہے اور یہ کہ گذشتہ سال منظر پہ آنے والی تشدد کی کارروائیوں کی بنا پر روزانہ 30000 افراد کی شرح سے لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔

اس رپورٹ میں 60 ممالک کے لوگ شامل ہیں، گذشتہ سال نقل مکانی کرنے والے ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کا تعلق صرف پانچ ملکوں سے تھا، جن میں عراق، جنوبی سوڈان، شام، جمہوریہ کانگو اور نائجیریا شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بدترین حالات عراق میں واقع ہوئے جہاں داعش کے شدت پسند گروہ کے ڈر خوف سے بچنے کے لیے 22 لاکھ افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

ادھر داخلی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد شام میں ہے، جہاں کم از کم 40 فی صد آبادی یا 76 لاکھ افراد اپنے ہی ملک میں مہاجربن بن چکے ہیں۔

ایک دہائی بعد یورپ میں بھی بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہوئے، جس کا سبب یوکرین کی لڑائی تھا، جہاں سنہ 2014 میں 646500 افراد نے نقل مکانی کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ