ٹیگ: احتیاطی تدابیر

اہم بلاگز

 امریکی کانگرس کے بعد اقوام متحدہ!۔

امریکی ایوان نما ئندہ گان کے بعد جنیوا میں قائم اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری حراست ، انسانی حقوق کے ورکنگ گروپ نے بھی پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قید کیا گیا مناسب یہ ہو گا کہ مسٹر خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق انہیں معاوضے کا حق دیا جائے۔ ورکنگ گروپ کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں سائفر اور پہلے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو بنا کسی قانونی جواز کے گرفتار اور نظر بند کیا گیا اور ان پر مقدمات چلائے گئے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تھے تاکہ سابق وزیرِاعظم اور ان کی جماعت کو انتخابات کی دور سے باہر رکھا جا سکے۔ سائفر کیس میں عمران خان کو ہونے والی سزا کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔’بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ ان (عمران خان) کے اقدامات سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہوئی۔‘   ورکنگ گروپ کا مزید کہنا ہے کہ پٹیشن دائر کیے جانے کے بعد انہوں نے حکومتِ پاکستان سے ان الزامات کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی تاہم پاکستان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کی تردید کی غیر موجودگی میں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کے خلاف قائم مقدمات کا تعلق ان کی پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے ہے اور ان مقدمات کا مقصد سابق وزیرِ اعظم اور ان کے حامیوں کو خاموش کروانا اور انھیں سیاست سے دور رکھنا ہے۔‘ امریکی ایوان نما ئندہ گان کے بعد جنیوا میں قائم اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ بانی تحریکِ انصاف عمران خان کے خلاف اقدامات اور مقدمات سے متعلق سب کچھ بخوبی جانتے ہیں ، اس لئے کہ جو کچھ عمران خان اور ان کی حکومت کے خلاف ہوا ، ایبسلوٹلی ناٹ، کے بعد ان کی خواہشات کے مطابق ہوا اور ہو رہا ہے ، امریکہ اور اس کے درباری نہیں جانتے تھے کہ عمران خان ایک عوامی قوت ہیں ، وہ پاکستانیوں کے دل پر راج کرنے والے پاکستان سے مخلص قائد عوام ہیں ۔ لیکن آج امریکہ اور اس کے درباری جان گئے ہیں کہ ہم نے جو کیا غلط کیا ، دنیا کی نظروں میں وہ اپنے منافقانہ کردار میں ننگے ہو گئے ہیں۔ اگر آج امریکہ اور اس کے حواری عمران خان کے حق میں بول رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عمران خان یا پاکستان کی عوام سے مخلص ہیں، دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اپنے کردار میں ہاتھی کی مثال ہے ، اس کے دانت کھانے کے اور ہیں اور دکھانے کے اور ہیں ، ، اس لئے پاکستان کی محب وطن عوام کو ایسی کوئی غلط فہمی نہیں کہ امریکی کانگرس اور اقوام متحدہ کا ورکنگ گروپ عمران خان او ر تحریک انصاف کے زخموں پر مرحم رکھے گا ۔  امریکہ اور اقوام متحدہ نے وقت کے شیطان اسرائیلی حکمران...

عُمَرؓ بن خطاب

جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان اسلام سے پہلے غلافِ کعبہ سے لپٹے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاوت چھپ کر سن رہے تھے تودل میں سوچنے لگے یہ شاعر ہیں ۔ نبی کریم ﷺسُورۃ الحاقہ کی تلاوت فرما رہے تھے یہ کسی شاعر کا قول نہیں۔ عمر نے پھر سوچا یہ ضرور کاہن ہیں۔ نبی کریم نے پھر تلاوت کی اور نہ کسی کاہن کا قول ھے۔ قرآن کی حقانیت اسی وقت دل میں گھر کر گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےدعا کی اے اللّٰہ! عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام (ابو جہل ) میں سے کسی ایک کو میرا مدد گار بنا دے۔ ہدایت ملنے نہ ملنے کا سارا فلسفہ اسی دعا سے ملتا ھے۔ دونوں کرداروں کا جائزہ صرف ہجرت حبشہ سے لیں تو عمر بن خطاب خالہ زاد بہن کے جانے پر ان کے گھر گئے تو اتنی قدآور شخصیت اپنے آنسو نہ چھپا سکی۔ دوسری طرف عمر بن ہشام ہجرت کر نے والوں کو مار نے کے درپے تھا، ان کی زمینوں پر قبضے کر رھا تھا۔ حضرت عمر ایمان لائے تو پہلی بار علی الاعلان نماز پڑھی گئی۔ حضرت عمر کی حکومت کے چند واقعات کا موجودہ جمہوری حکومت سے موازنہ کریں تو اللّٰہ کی زمین پر اللّٰہ کے نظام کی ضرورت و اہمیت کا اندازہ ھوتا ھے۔ جب کسرٰی کاتاج حضرت عمر کے پاس لایا گیا تو فرمایا کیسے ایمان دار لوگ ھیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا قوم نے آپ کو پاکیزہ پایا تو پاکیزہ ہو گئی۔ آج حکمران کرپٹ ہیں تو عوام بھی کرپٹ ۔ ایک مرتبہ گورنر مصر عمرو بن العاص کے بیٹے نے ایک قبطی کو بلا قصور کوڑے مارے تو گورنر مصر کوان کے بیٹے سمیت واپس بلوالیا اور قبطی سے اتنے ہی کوڑے بیٹے کو اور دو کوڑے عمرو بن العاص کو مارنے کا حکم دیا اور فرمایا اے عمرو ! ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا تم نے کب سے ان کو غلام بنا لیا۔ آج ایک کرنل کی بیوی ناحق سرکاری اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دیتی ھے کہ اس کی گاڑی کو کیوں روکا گیا۔ ایک گورنر سے جب بیت المال کا حساب مانگا تو اس نے کہا یہ بیت المال کا اور یہ میرے تحائف ہیں تو گورنری سے معزول کر کے بکریاں چَرانے پر لگا دیا۔ ایک دن بکریاں چرا رھے تھے حضرت عُمَرؓ پاس سے گزرے تو پوچھا کوئی تحفے آئے وہ شرمندہ ہو گئے تو فرمایا تحفے تمہاری ذات کو نہیں سرکار کو ملے اور سرکاری خزانے میں جمع کرنے ہوتے ہیں، آج کروڑوں کے سرکاری تحائف بیچ کر کھانے والے بھی خود کوصادق اور امین سمجھتے ہیں۔ ایک خاتون نےپانی ابلنے کو رکھا کہ بچے کھانا سمجھ کر بہل جائیں اور سو جا ئیں۔ ایسے میں حضرت عمر رات کو گشت پر تھے یہ صورتحال دیکھی تو بیت المال سے کھانے کا سارا سامان لا کر دیا خاتون کہنے لگی اس عمر کو تو میں قیامت میں پوچھوں گی حکمرانی کے لائق تو تم ہو حضرت عمر...

بچوں کی شادی کے فیصلے

اولاد کی تعلیم و تربیت والدین کی ذمہ داری ہے ۔جس میں یہ مقدس ہستیاں اپنی تمام  effort serve كرتی ہیں ۔جیسے جیسے اولاد جوان ہورہی ہوتی ہے اب والدین کو ان کی شادیوں کی فکر لاحق ہوجاتی ہے ۔لیکن یہاں یہ سوال ہے کہ فقط شادی کروادینا ہی کمال ہے یا  شادی کروانے سے پہلے اہم اور ضروری باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے ۔کہیں ایسا نہ ہوکہ شادی  جیسا بڑاایونٹ تو سجا لیا سرمائیہ بھی صرف ہوا۔لیکن بعد میں معلوم ہواکہ وہ بیٹے یا بیٹی کا رشتہ کسی طور پر بھی معقول نہیں تھا ۔ قارئین:بعد کے رونے سے پہلے والدین  کو چاہیے کہ سوچ سمجھ کر فیصلے کریں ۔یہاں ہم کچھ باتیں آپ سے shareكرنے جارہے ہیں جو بچوں کے رشتے اور شادی کے حوالے سے والدین کے لیے کافی مددگار ثابت ہوں گیں ۔آئیے جانتے ہیں ۔ کھلی بات چیت:Open Communication:ْ  ایک ایسے ماحول کو فروغ دیں جہاں والدین اور ان کے بچے کے درمیان کھلی بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔منگنی ،شادی وغیرہ کے معاملے میں بچوں کے  خیالات، خواہشات اور خدشات کو سنیں۔ باخبر فیصلہ کرنے میں ان کے نقطہ نظر کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ انفرادی انتخاب کا احترام کریں:Respect Individual Choices: اپنے بچوں کو اقرار و انکار اور انتخاب کا حق دیں ۔تاکہ وہ آپ کے سامنے اپنی ترجیحات، اقدار اور خواہشات کا اظہارکرسکیں ۔ ان کی خودمختاری کا احترام کریں اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں فعال طور پر حصہ لینے کی اجازت دیں۔ اس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے کہ فیصلہ ان کی خوشی اور بھلائی کے مطابق ہے۔نیز پھر آئندہ یہ اپنی ذمہ لیتے ہوئے اس رشتے کو بھرپورانداز میں نبھانے کی کوشش بھی کریں گے ۔ مطابقت پر غور کریں: Consider Compatibility: اپنے بیٹے و بیٹی کا رشتہ طے کرتے ہوئے اس بات کا ضرور اندازہ کرلیجئے کہ آپکے بیٹے یا بیٹی اور سامنے والے بچے بچی میں کس حد تک خیالات و طبیعت میں کس حد تک مطابقت ہے ۔یہ  مطابقت شادی کی کامیابی اور خوشی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خاندانی پس منظر کا اندازہ کریں:Evaluate Family Dynamics: آپ والدین ہیں آپکی ذمہ داری بھی اہم ہے ۔چنانچہ اپنے بچوں کے ہمسفر کا انتخاب کرنے چلے ہیں تو ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ آپ اس خاندان کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کریں تاکہ آپ کو ان کی طبیعت ،مزاج ،ترجیحات کا اندازہ ہوسکے ۔یہ معلومات آپ کو رشتوں کو سمجھنے اور بچوں کی ازدواجی زندگی بحال رکھنے میں بہترین  مددگار ثابت ہوگی ۔ مشورہ طلب کریں: Seek Advice: ہم اس دنیا میں تنہا نہیں جی سکتے چنانچہ کہیں ہمارے خونی رشتے ہوتے ہیں اور کہیں ہمارے سماجی رشتے ہوتے ہیں چنانچہ آپ بچوں کی زندگیوں کا فیصلہ کرنے چلے ہیں تو لازمی لازمی خاندان کے بھروسہ مند افراد، دوستوں، یا بزرگوں سے مشورہ لیں جنہیں اسی طرح کے فیصلے کرنے کا تجربہ ہے۔ان کی بصیرت اور نقطہ نظر ممکنہ شادی کے ساتھی کی مناسبت  کا اندازہ لگانے میں قابل قدر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ان کا تجربہ ،ہمدری اور دعائیں آپ کے اہم اور ذمہ داری...

دسترخوان کی رونق

دعوتوں میں بڑے سے دسترخوان پر طرح طرح کے کھانے دسترخوان کی رونق بڑھاتے ہیں اور ان سے اٹھتی ہوئی خوشبوئیں بھوک بڑھاتی ہیں۔ کھانوں میں سب کی پسند اپنی اپنی ہوتی ہے کچھ کھانے علاقائی ہوتے ہیں جو ان کے دسترخوان کی شان بڑھاتے ہیں اور کھانوں کا مزہ دوبالا کرتے ہیں۔ اکثر لوگوں کی رائے ہوتی ہے کہ دعوت میں بریانی کے بغیر تو دسترخوان سونا ہی ہوتا ہے بریانی ہی دسترخوان کی شان ہوتی ہے۔ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر کھانے کے بعد میٹھا نہ ہو تو کھانا نامکمل سا رہ جاتا ہے انہیں ایسا لگتا ہے میٹھا کھا کر ہی کھانے کا اختتام ہوتا ہے۔ بعض لوگ اپنے دسترخوان پر اچار، چٹنیاں ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ دسترخوان کی رونق بڑھاتے ہیں ۔ کچھ گھرانے اپنے دسترخوان خوبصورت سلاد کی پلیٹ سے سجاکر بارونق کرتے ہیں۔ اسی طرح گھر کے دسترخوان پر کئی طرح کے کھانے موجود ہوں کچھ گرم اور کچھ ٹھنڈے کھانے اور ان سے اٹھنے والے خوشبوئیں بھوک بڑھا رہی ہوں یا اس کے مقابلے میں کسی گھر کے دسترخوان پر صرف ایک ہی کھانا موجود ہومگر، اصل میں تو دسترخوان کی رونق "ماں" ہے۔ دسترخوان پر "ماں" کی موجودگی دسترخوان کی رونق بڑھا دیتی ہے۔ اور کھانوں میں ذائقہ آجاتا ہے ۔"ماں" ہر کسی کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے دسترخوان سجاتی ہے۔ ماں کی توجہ کھانے کے دوران اپنی پلیٹ پر کم اور بچوں کی پلیٹ پر زیادہ ہوتی ہے ۔ماں کی نظریں بچوں کی پلیٹ میں موجود کھانے کو تولتی ہیں کہ "نہیں اتنا کم کھانا لیا ہے اور لو کھاؤ گے نہیں تو طاقت کیسے آئے گی"۔ ماں ایک بچے کو کھانا کھلائے یا پانچ چھ بچوں کو ہر ایک پر اس کی خاص توجہ ہوتی ہے کوئی بچہ ماں کی نظروں سے بچ نہیں سکتا۔ بچے بڑے بھی ہو چکے ہوں پھر بھی ماں کو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بچے نے کم کھانا کھایا ہے ۔ روزانہ کے کھانے کے وقت ماں کو لگتا ہے آج دعوت ہے گھر کے ہر فرد پر مہمانوں کی طرح خاص توجہ ہوتی ہے۔ دسترخوان پر شوہر اور بچوں کو خاص پروٹوکول دیناماں کی ہی خاصیت ہے ۔ماں کے ہاتھ کے کھانے کا ذائقہ کبھی نہ بھلانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔ جس کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا۔ شاید ماں کے اندر یہ صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ وہ بچوں کے معدے میں جھانک کر دیکھ لیتی ہیں کہ معدہ کتنا خالی ہے۔ اسے اور کھانا کھانا چاہیے کہیں یہ کمزور نہ ہو جائے ۔ اگر کبھی کھانا کم پڑ جائے تو اپنی پلیٹ آگے بڑھا کر یہ کہہ کر اٹھ جاتی ہیں کہ "میں نے کھا لیا آج زیادہ بھوک نہیں ہے"۔ گھر کے کسی فرد کو کھانا اچھا نہیں لگ رہا ہو تو ہنگامی خدمات کے لئے فورا اٹھ کھڑی ہوتی ہیں اور جھٹ پٹ بن جانے والے کھانوں کی فہرست کھول دی جاتی ہے۔ "یہ اچھا نہیں لگ رہا تو سینڈوچ بنا دوں؟ انڈا تل دوں ؟ کباب تل دوں؟ یا پھر نوڈلز...

طاغوتی یلغار

گزشتہ چند دنوں سے ہر طرف دو الفاظ "جاہل اور طاغوت" نے غلغلہ مچا رکھا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ٹی وی کے ایک پروگرام میں خاتون میزبان، ایک مشہور اسکالر اور ایک رائٹر کو بلا کر حقوق نسواں کے حوالے سے بات کر رہی تھیں۔ دوران گفتگو، اسکالر صاحب نےمثال دینے کے لئے مرد و عورت دونوں کے لیے جاہل کا لفظ استعمال کیا( تناسب کے فرق سے) ۔اس کے بعد ہوا کیا؟ پروگرام میں پہلی قطار میں موجود ایک خاتون جو کہ اس چینل کی کنٹینٹ رائٹر بھی ہیں مائک پکڑے بیٹھی تھیں۔ ان کی رگ فیمینزم فوراً جاگ اٹھی اور انہوں نےاسکالر سے معافی کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ انھوں نے پاکستان کی 95 فیصد خواتین کو جاہل کیسے کہ دیا۔(حالانکہ پروگرام کو اگر پورا دیکھا جائے تو صاف سمجھ میں آرہا ہے کہ جاہل کن معنوں میں کہا گیا ہے) بعض لوگوں کا خیال ہے کہ محترمہ نے محض اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے یہ پلان کیا تھا ۔۔۔کچھ صداقت تو اس بات میں نظر آتی ہے کیونکہ وہ ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد اس پروگرام کی ریٹنگ آسمان کو چھونے لگی۔ گویا بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا لیکن کہتے ہیں نا کہ اللہ شر سے خیر نکال لیتا ہے تو یہاں بھی کچھ ایسے ہی معاملہ نظر آ رہا ہے ان اسکالر نے دوران گفتگو کئی بار لفظ طاغوت کا استعمال کیا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ (خاص کر نوجوان نسل )ایسے ہیں جو واقعی پڑھے لکھے جاہل ہیں جنہیں آج تک لفظ طاغوت کا مطلب نہیں معلوم ،اس واقعے کے بعد اب لوگ کم از کم اس کے بارے میں جان جائیں گے ۔ طاغوت کا لفظ دراصل طغی سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں حد سے گزر جانا ،سرکش ہوجانا۔ جیسے دریا میں جب طغیانی آتی ہے تو پانی دریا کے کناروں سے نکل کر باہر کی طرف انا شروع ہو جاتا ہے۔ طاغوت لغت کے اعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا جو اپنی جائز حد سے تجاوز کر گیا ہو۔ قرآن کی اصطلاح میں "طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے ،جو اللہ کی بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خود بندوں سے اپنی بندگی کرائے"۔ قران مجید میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے،،،،،، ترجمہ : جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں (البقرہ 257) اس دنیا میں انسان کو قدم قدم پر طاغوت کا سامنا ہے سب سے بڑا طاغوت تو شیطان ہے جس کی بندگی کرتے ہوئے انسان اپنے نفس کا غلام بن جاتا ہے۔اس کے علاوہ بیوی ،بچے،خاندان،دوست احباب،قوم،رہنما،پیشوا،حکومت یہ سب کے سب طاغوت ہی ہیں جو انسان کو اپنی بندگی پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ کسی بھی معاشرے میں قائم کردہ نظام خواہ وہ سیاسی، معاشرتی، معاشی ،اخلاقی یا اعتقادی ہو۔۔۔ اللہ اور اس کے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

کہاں کی بات کہاں نکل گئی

قارئین کا صاحبِ مضمون سے متفق ہونا لازم ہے کیونکہ یہ تحریر اسی مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو نصحیت کرنے کا جان لیوا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جہاں کچھ غلط سلط ہوتا دیکھتے ہیں زبان میں کھجلی اور پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتا ہے ایسا ہم نہیں کہتے ان لوگوں کے پند و نصائح وارشادات سننے والے متاثرین کہتے ہیں۔ اللہ معاف کرے اکثر نوجوانوں کو نصحیت کرنے کے جرم کی پاداش میں ہماری ان گنہگار آنکھوں نے ان بزرگوں کو کئی مرتبہ منہ کی کھاتے دیکھا ہے۔ مگر نہ وہ اپنی روش سے باز آتے ہیں اور نہ ہی کتے کی ٹیڑھی دم سیدھی ہوتی ہے۔ اب قریشی صاحب کی بیوہ کو ہی لے لیجیے عمر دراز کی ستر بہاریں دیکھ چکی ہیں، بیوگی کے پچاس سال گزارنے والی اپنی زندگی سے سخت بیزار ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی موصوفہ نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔ دن رات صبح شام وہی گھسا پٹا راگ الاپتی رہتی تھیں تمہارے ماں باپ کی خدمت میں کیوں کروں؟ تمہارے سارے کام میں کیوں کروں؟ میں غلام نہیں ہوں۔ جو تمہاری ہر بات مانوں وغیرہ وغیرہ۔ قریشی صاحب بھلے مانس آدمی تھے شرافت اور منکسر المزاجی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ کان دبائے، نظریں جھکائے بیوی صاحبہ کے فرمودات سنتے اور سر دھنتے رہتے۔ ان کا یہ معصومانہ انداز بیوی صاحبہ کے تن بدن میں آگ لگا دیتا پھر جو گھمسان کی جنگ چھڑتی جس میں بیوی صاحبہ فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد قریشی صاحب سے اپنے تلوے چٹوا کر انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فرد جرم عائد کر کے سزا سنا دیتیں۔ قید بامشقت کے تیسرے سال ہی قریشی صاحب کے کُل پرزے جواب دے گئے۔ گھر کی مسند صدارت و وزارت پر بیوی صاحبہ براجمان تھیں بیچارے قریشی صاحب کی حیثیت کا قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گنے چنے چند سالوں کی رفاقت کے بعد ایک شام قریشی صاحب داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ لواحقین میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔ ماں کے طور اطوار، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور انداز کا مہلک زہر اولاد کی نسوں میں اتر چکا تھا۔ اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزیاں رنگ پکڑتی چلی گئیں۔ موصوفہ کی کل کائنات بس یہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ پانچوں کنورای جو شادی کے نام پر ایسے اچھلتی ہیں جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ قبر میں پیر لٹکائی قریشی صاحب کی بیوہ صبح شام خود کو کوستے رہتی ہیں کہ اس جیسے چاہو جیو کے سلوگن نے ان کی دنیا و آخرت ملیامیٹ کر کے رکھ دی۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو کتنی چیزیں ہیں جو کہ ہم غلط سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی کرتے ہیں نہ جاننا اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا کہ جان کر حقیقت سے نگاہیں چرانا ہوتا ہے۔ چچ چچ ہم آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کے عادی بنا دیے گئے ہیں۔ 2021ء میں گھریلو تشدد کا بل اسمبلی سے منظور کروا کر ہماری نوجوان نسل کو یہ پیغامِ تقویت...

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

ہمارے بلاگرز