مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

مولانا کھلے بازووں سے ملئیے

سینے سے چمٹا لیجئیے

خوب بھینچ کر والہانہ پن سے

مناسب خیال فرمائیں تو ماتھے پر ایک آدھ بوسہ  بھی دے دیجئیے

شاباش دیجئیے، کوئی اچھا کام نظر آئے تو تحسین فر ما دیجئیے

موقعہ پا کر کوئی نصیحت کوئی آیت کوئی حدیث مبارکہ بھی سنا دیجئیے کہ یہ دل نرم کرتیں اور عمل پر ابھارتی ہیں

اور اس سب کچھ کے بعد اگر آپ کو جذبہ نہی عن المنکر بیدار اور بے چین کرے تو یہ بھی پوچھ لیجئیے گا کہ

مدینہ کی ریاست میں اللہ کے بندوں پر اللہ کی زمین پر بس اللہ کا قانون چلتا تھا جناب عمران خان اس طرف سال بھر میں کیا پیش رفت ہوئی ہے ؟

عمرفاروق رض چور کا ہاتھ کاٹ دیا کرتے تھے تمہاری ریاست میں یہ کب ہونے جا رہا ہے؟

مولانا صاحب ممکن ہو تو لگے ہاتھوں یہ بھی پوچھ کر ہمیں بتائیے گا کہ مدینہ کی ریاست میں  یہودی ،نہیں بلکہ مسلم ساہو کارون کا بڑھتا چڑھتا سود کب اور کیسے ختم ہو گا

اگر کچھ وقت بچ جائے حاکم وقت اجازت دیں اور ان کے منہ کا ذائقہ خراب نہ ہو تو پوچھئیے گا کہ

غیرت مندبھائی مر جاتے ہیں بہنوں کو یوں تنہا دشمنوں کے بیچ چھوڑ کر نہیں لوٹتے  تم بتاو اس دیس سے لوٹے ہوتو بہن کہاں ہے ؟ اس کے بغیر لوٹنے کو دل کیسے مانا ؟دل کٹ نہیں گیا؟

یہ بھی کہئیے گااپنی بیٹی کو تو نہ لا سکے ان کی گستاخ رسول ص بیٹی آسیہ بی بی کوبھجوا دیا؟

کل کس منہ سے جام کوثر  کے امیدوار بنو گے؟

مگر شاید نہیں

آپ بھلا یہ سب کیسے پوچھ پائیں گے؟

آپ تو خوش لباس اور نرم گفتاربڑے عالم ہیں

آپ توساتھی بھائی پیارے میٹھے خوش خلقی عفو درگزر معافی رحم کرم کی تعلیم دینے والے ہیں

چلئیے پھر ہم منتظر ہیں کسی ایسے مجاہد کے کہ جو اس عظیم المرتبت صحابی رسول رض کی طرح وزیر اعظم ہاوس کے قالینوں میں اپنی تلوار کی نوک سے ٹیک لگاتا چھید کرتا ہوا جائے گا، جس نے ٹاٹ کے کپڑے پہنے ہوں گے ،جس کا پیٹ روزوں کی کثرت سے اس کی پیٹھ سے چپکا ہو گا اور اس کے رعب سے  حاکم وقت گنگ ہو گا اور وہ کڑک دار آوازمیں غیر ت حمیت عزت جہاددشمن کو للکارنے     عیسائیوں اوریہودیوں سے دبنے نہیں برتری کی سطح پر  بات کرنے جیسے الفاظ استعمال کرے گا ۔۔۔

اللہ ہمین ایسے دین دار عطا فرمائے گا۔۔!آپ میٹھی میٹھی نصیحتیں جاری رکھئیے مگر یاد رکھئیے

مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر۔۔۔

حصہ

1 تبصرہ

  1. بالکل درست بات ہے
    ایک بات یہ بھی ہےکہ طارق جمیل صاحب حاکمِ وقت کے دربار میں حاضری دیتےوقت کتنے خوش ہیں کیا ریاستِ مدینہ میں ایسا ہیہوتاتھا؟

جواب چھوڑ دیں