یہ بستی مردہ پرستوں کی بستی ہے

بستی، بستے بستے‘ بستی ہے, بستی، بستا کھیل ہے۔ اس مشہور قول کو معاشرت پرستی کی فطرت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ارسطو انسان کی اس فطرت کی بھر پور عکاسی کرتے ہوئے لکھتا ہے، ”انسان معاشرتی حیوان ہے۔“ بقول ارسطو انسان اپنے جیسے انسان کے بغیر زندگی بسر نہیں کرسکتا اور فطرت معاشرہ کو جنم دیتی ہے۔ فرد سے فرد کا رشتہ معاشرتی اداروں کو جنم دیتا ہے۔

ایک فرد اپنے جیسے دوسرے فرد سے مل کر جب محبت کے ساتھ رہنے لگے تو ایک ”خاندان“ بنا دیتا ہے۔ اسی طرح جب وہ بہت سے لوگوں کے ساتھ مل کر رہنے لگتا ہے، گویا اس نے ایک ”گاؤں“ بنا دیا۔ اس صورت میں انسان مزید اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر جب رہنے لگتا ہے تو گاؤں پھر ایک ”ریاست“ کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ اب اس ریاست کو چلانے کے لیے بہت سی ضروریات کا ہونا لازمی بن جاتا ہے، تب انسان ایک دوسرے کو امن و محبت کا پیغام دیتا ہے اور کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو اس لیے قانون بناتا ہے۔

 اب اس گلشن بہار میں بڑے مزے سے اپنی زندگی بسر کرتے ہوئے اچانک ایک ایسی بھیانک شکل سامنے لاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس جنت نظیر وادی کو جو دنیا بڑی مشکل اور کٹھن مراحل سے بناتا ہے، اس کو جہنم بنا دیتا ہے۔ یہ ایک زندہ مثال ہے۔ 1857ء کی ہولناک جنگ جس میں یہی انسان ایک دوسرے کا گلہ کاٹ کر اس جنت نظیر بستی کو مردہ پرستوں کی بستی بنا دیتا ہے۔

اس سے مزید ہمیں پاکستان میں موجود موہنجوداڑو کا ثبوت سامنے ملتا ہے، جو کبھی جنت نظیر وادی تھی۔ جہاں کبھی کوئی تکلیف یا پریشانی نہیں آئی تھی۔ آج کھنڈرات ہیں اور یہ سب کس نے کیا؟ کیا کوئی دوسری مخلوق تھی؟ نہیں جناب یہ بھی اسی انسان نے کیا ہے جو امن پسند ہے، جو محبت کا پیغام بن کر دنیا کا سفیر بنا ہوا ہے۔ آخر یہ سب کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ صرف خود غرضی، لالچ اور اقتدار کی حوس نے اپنے ہی بھائی کا خون بہا دیا۔

؎ خدا کے بندے تو ہیں ہزارروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اس کا بندا بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے ہو گا پیار 

اس شعر نے ہمارے زندگی میں بہت تبدیلیاں پیدا کی ہیں، کیونکہ اگر زندگی بسر کرنی ہے تو اس کا کوئی مقصد ہونا لازمی ہے۔ ہمارے اردگرد ہزاروں ایسے افراد موجود ہیں جو روزانہ اس مخلوق کی مدد کرتے ہیں، لیکن بغیر کسی لالچ کے صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بہت چھوٹے چھوٹے کام جو ہم اپنی زندگی میں کرتے ہیں، وہ ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔

آج اس گلشن بہار کو ہم صرف اپنے مقصد اور اپنے دکھاوے کی بھینٹ چڑھا دیا ہے، اگر ہم نے کوئی اچھا کام یا کسی غریب کی مدد کرنی ہے تو ہم پہلے چار لوگ جمع کرتے ہیں اور بنا مطلب کسی کی مدد نہیں کرتے۔ ہماری لالچ نے ہمارے اندر کی انسانیت کو دفن کر دیا ہے۔ اگر انسانیت نہیں تو انسان کیسا؟ پھر بستی کیسی؟ یہ تو بے ضمیر لوگوں کی بستی ہے، جس میں صرف اپنی فکر ہے اور دوسری مخلوق کی کوئی پروا نہیں۔

گویا یہ قبرستان ہے، جہاں مردے کو صرف اپنی فکر ہے۔ کسی دوسرے مردے سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے کہتے ہیں ”یہ بستی تو انسانوں کی ہے، کیونکہ انسان زندہ ہے۔ چل پھر رہا ہے، لیکن ہے۔“ انسانیت نا ہونے کی وجہ سے یہ بستی مردہ پرستوں کی بستی ہے۔

بقول شاعر: جوانی بھٹکتی ہے بدکار بن کر

جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر

یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر

خون بہایا جاتاہے درندہ صفت انسان بن کر

حصہ
mm
نوید احمد جتوئی کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ میں آخری سال کے طالب علم ہیں لکھنے کا شوق، حالات حاضرہ میں نظر رکھتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا میں متحرک ہیں۔ روزنامہ جسارت کی ویب ڈیسک پر خدمات انجام دے رہیں ہیں۔