مطالعہ – حصول علم و کمال کا زینہ (2)

پڑھنے کی رفتارمیں اضافہ کرنا:۔

تفویض کردہ ہ وقت میں پڑھے گئے الفاظ کی تعداد کو رفتار مطالعہ سے معنون کیا جاتا ہے۔ فی زمانہ مطالعہ کا مواد وافر مقدر میں دستیاب ہے اسی لئے طلبہ میں رفتار مطالعہ تیزتر ہونی چاہئے۔وقت کی بچت اورمطالعہ کی صلاحیت میں اضافے کے لئے مطالعہ کی رفتار کو تیز کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔تاہم ہر قاری اور طالب علم کو علم ہونا چاہئے کہ بغیر سمجھے پڑھے گئے مواد کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی چاہے پڑھنے کی رفتار کتنی بھی تیزکیوں نہ ہو۔تجرباتی شواہد اس بات کے غماز ہیں کہ طلبہ فہم وادراک اور سمجھنے کی صلاحیت کو قربان کئے بغیراپنے مطالعہ کی رفتار میں نمایاں اضافہ کرسکتے ہیں۔اسکولس میں اساتذہ طلبہ کے مطالعہ کی رفتار میں اضافے کے لئے رہنمائی و مدد کریں۔ منظم اور منصوبہ بند طریقے سے طلبہ کے مطالعہ کی رفتارکو بتدریج بڑھایا جاسکتا ہے۔ضرورت سے زیادہ لبوں کی حرکت(excessive lip movement)،الفاظ و جملوں کو دہرانا(Regression) اوربناوٹی آواز یا آواز کو بدلنا(Sub-vocalisation) کی وجہ سے مطالعہ کی رفتار میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔اساتذہ طلبہ کو منتخب مواد(Passages) کو ایک مخصوص وقت تفویض کرتے ہوئے مطالعہ کے لئے فراہم کریں اور دوران مطالعہ سنجیدگی سے ان کی نگرانی اور رہنمائی کے فرائض انجام دیں۔فرہنگ (الفاظ و معنی) کے ذخیرہ میں اضافہ کرتے ہوئے طلبہ کے مطالعہ کی رفتار و شرح میں اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ وجائزہ(Skimming and Scaning)؛۔ مواد مطالعہ سے عمومی نکتہ نظر کو ا خذ کرنے کے لئے کئے جانے والے تحقیقی مطالعہ کو تجزیاتی مطالعہ (Skimming)کہا جاتا ہے۔ دوران مطالعہ قاری کی نظریں مواد مطالعہ کی غرض و غایت اور اس کے نچوڑ کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہیں۔مواد مطالعہ(Reading Material)سے مطلوبہ مواد کا سرعت سے حاصل کرلیناجائزہ (Scanning)کہلاتاہے۔طلبہ کو یہ مہارتیں سکھاتے ہوئے اساتذہ کم وقت میں موادمطالعہ (Passage)کے مرکزی خیال تک رسائی حاصل کرنے میں ان کی مددکر سکتیہیں۔یہ مہارتیں خلاصے اور کتابوں کے تبصرے لکھتے وقت بہت کارگر ثابت ہوتی ہیں۔تجزیاتی اورر جائزہ(Skimming and Scanning) پر مبنی مطالعہ، مختصر وقت میں موادمطالعہ کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مددگار ہوتاہے۔وقت ضرورت skimmingاورScanning کے مہارتوں کے ذریعے طلبہ صرف ورق گردانی (اوراق پرسرسری نظر ڈالتے ہوئے)کرتے ہوئے مواد مطالعہ کی روح تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
مطالعہ میں لچک کا مظاہرہ(Demonstrating Flexibility in reading)؛۔مطالعہ میں لچک کی مہارت کے ذریعہ قاری ہر مواد مطالعہ کوایک ہی طرح سے نہیں پڑھتا ہے اور اس کے انداز مطالعہ میں مواد مطالعہ کے تنوع سے تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔مواد مطالعہ کی نوعیت کے مطابق اپنے مطالعہ کی رفتار و شرح کو تبدیل کرتے ہوئے قاری اپنی ذہانت کا مظاہر ہ کرتا ہے۔ جہاں بغیر سمجھے کیا جانے والا تیزرفتار مطالعہ متن کے پوشیدہ پیغام تک رسائی میں مانع ہوتا ہے وہیں فہم اور تیز رفتاری کے ساتھ انجام دینے والے مطالعہ کو سست روی سے انجا م دینا بھی عقل سے بعید نظر آتا ہے۔ایک سمجھدار قاری مطالعہ کے وقت مختلف مضامین کو پڑھتے وقت اس کی نوعیت کے مطابق مطالعہ کی رفتار اور شرح کو بروئے کار لاتا ہے۔اساتذہ طلبہ کو مطالعہ کے مواد کے مطابق مطالعہ کی رفتار و شرح کی مہارت کو اختیار کرنے کے گر سکھائیں۔ مخصوص سوالات کے جوابات تلاش کرتے وقت یا اہم معلومات کو اکٹھا کرتے وقت طلبہ کے لئے وقت ایک اہم عنصر ہوتا ہے تب وہ رفتار کو ملحوظ رکھتے ہوئے پرسکون انداز میں مطالعہ کو یقینی بنائیں۔بعض معلومات جو اہم ہوتے ہیں اور جن پر عبور پیدا حاصل کرنا بھی مقصود ہوتا ہے انھیں توجہ اور آہستگی(کم رفتار) سے پڑھنا چاہئے اس کے برعکس اخبارات،ناولوں اور کہانیوں کے مشمولات (Items)کا مطالعہ تیز رفتاری سے کیا جانا چاہئے۔
مطالعہ میں لچک، قاری کے مطالعہ کی اعلیٰ صلاحیت کی غمازی کرتی ہے۔اساتذہ اخبارات (جسے مطالعہ میں لچک پیدا کرنے والے چند اہم مثالی ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے)کے مطالعہ سے طلبہ کو مطالعہ میں لچک پیدا کرنے کی تربیت فراہم کرسکتے ہیں۔ ایسے اخباری تراشے(News Items) یا معلومات جو واقعی اہم اور ضروری نہیں ہوتے ہیں انھیں تیزرفتاری سے پڑھا جاسکتا ہے۔ایسی خبریں جن سے اہم اور کارآمد معلومات کو اخذ کیا جاسکتا ہے ان کو آرام اور توجہ کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔ طلبہ کا مطالعہ کی اس اعلیٰ صفت پر عبور حاصل کرنا ان کی آنے والی زندگی کے لئے نہایت ہی کارگر اور سود مند ثابت ہوتا ہے۔طالب علم کو ایک لچکدار قاری میں تبدیل کرنے میں جب اساتذہ کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تب ان کے مطالعہ سے ایک واضح مقصد چھلکنے لگتا ہے۔کم وقت میں وہ موادمطالعہ کی نوعیت کے مطابق اور اس کی مختلف رفتار و شرح کے استعمال سے زیادہ سے زیادہ معلومات اخذ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
تنقیدی و مبصرانہ مطالعہ کی مہارت کا فروغ؛۔تنقیدی مطالعہ کے وقت قاری اپنی معلومات کو برؤے کار لاتے ہوئے مصنف کے بیان کردہ مفروضات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی دانش و بینش کو استعمال کرتا ہے۔ڈی بوئیرDe Boerکے مطابق”Critical reading involves the search for relevant materials,the evaluation of the data,the identification and comparison of sources and the synthesis of the findings”(تنقیدی مطالعہ میں متعلقہ مواد کی تلاش،اعداد و شمارکی جانچ،ذرائع کی شناخت وموازنہ اور دریافت کردہ نتائج و حقائق کاتجزیہ شامل ہوتا ہے)۔قاری تنقیدی مطالعہ کے دوران مصنف کے بیان کردہ فیصلوں اور اس کی ترجمانی کو برقرار رکھتا ہے۔اساتذہ کوجلداز جلد اس وصف و مہارت سے طلبہ کو متصف کرناچاہئے کیونکہ اس مہارت پرعبور حاصل کرنے کے لئے وقت اور مسلسل رہبری کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔اخبارات کے چند گوشے(سیکشنسSections) جیسے ایڈیٹر کے نام خط وغیرہ طلبہ کے لئے رہنمائی کا باعث ہوتے ہیں جس میں قارئین اپنے شخصی فیصلوں و آراء کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ ادارتی تحریر بھی متعلقہ حقائق کی عقلی ترجمان ہوتی ہے۔ان اقسام کے مطالعہ کے مواد کو مناسب طریقے سے استعمال کرتے ہوئے طلبہ میں تنقیدی مطالعہ کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔مزید براں اساتذہ کوکمرۂ جماعت میں کتابوں سے کچھ منتخب موادپڑھ کرطلبہ کو اپنے اختلافات،تصورات اور ردعمل پیش کرنے کے مواقع فراہم کرنے چاہئے۔
تنقیدی فکر کی روشنی میں تنقیدی مطالعہ سے یقینا طلبہ کے ترجمانی اور قوت فیصلہ کو وسعت و اعتماد حاصل ہوتا ہے۔طلبہ کو جب تنقیدی مطالعہ کی قدر و قیمت اور اہمیت کا اندازہ ہوجاتا ہے تب یہ مہارت ان کے مطالعہ کا ایک جزو لاینفک بن جاتی ہے اور اس مہارت کو پروان چڑھانے کے لئے اساتذہ کی مدد اور رہنمائی کی مستقل ضرورت درپیش ہوتی ہے۔
دوران مطالعہ جسم کی بہتر وضع و حالت اورانہماک
سودمند مطالعہ کے لئے مطالعہ کے دوران جسم کو بہتر وضع و حالت(postures)میں رکھنے کے تعلق سے ماہرین نے متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔ذیل میں چند ایسے کارآمد مشوروں کو پیش کیا گیا ہے جومطالعہ کے دوران بد ن کی حالت کو بہتر انداز میں قائم رکھنے(good postures) میں کارگر ثابت ہوئے ہیں۔
(1)پیٹھ کو سیدھا اور پیروں کو فرش پر اس طرح رکھیں (پیروں کو لٹکا کر نہ رکھیں) کہ کمر فرش سے 90ڈگری پر رہے۔ پڑھنے کے دوران طویل وقت تک اس طرح بیٹھنے سے ریڑھ کی ہڈی سیدھی رہتی ہے،خون کی گردش میں اضافہ ہوتا ہے اور حواس واعصاب موثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔ اس طرح بیٹھنے سے حواس کے ذریعے نشر کردہ پیغامات کی آزادنہ طور پر دماغ تک ترسیل عمل میں آتی ہے۔
(2)کتابوں کو براہ راست آنکھوں کے سامنا رکھیں کیونکہ آنکھیں جب سیدھے آگے کی جانب دیکھتی ہیں تو وپوری طرح سے کھلی اورچوکس رہتی ہیں اس کے علاوہ نگاہ کا محیط وسیع ہوجاتا ہے۔کتابیں آنکھوں سے بہت زیادہ قریب یا گود میں رکھ کر پڑھنے سے پلکوں کے بند ہونے اور تھک جانے کا میلان بڑھ جاتا ہے۔
(3)آنکھوں کو غیر مناسب دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لئے مسلسل پڑھنے کے دوران آنکھوں کو وقتافوقتا آرام دینا ضروری ہے۔لیٹ کر پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔لیٹ کر پڑھنا نیند کو دعوت دیتا ہے جس سے مطالعہ کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
موثر مطالعہ کے لئے توجہ و انہماک اہم عوامل گردانے گئے ہیں۔اگر پڑھنے کے دوران مناسب دلچسپی نہ ہوتب توجہ وانہماک مجروح ہوجاتا ہے۔ جب طلبہ دلچسپی اور توجہ کے ساتھ مطالعہ میں جٹ جاتے ہیں تو حاصل کردہ فہم کی گہرائی اور ذہنی لذت میں نمایاں حد تک اضافہ ہوتا ہے۔ابتدا میں اساتذہ کتابیں فراہم کرتے ہوئے طلبہ میں مطالعہ کا شوق و ذوق پیدا کریں پھر ان کو دوران مطالعہ توجہ و انہماک کی برقراری کی مہارتوں سے متصف کریں۔طلبہ میں جب یہ صلاحیت راسخ ہوجاتی ہے تب انھیں مطالعہ سے ذہنی لذت و اطمینان حاصل ہونے لگتا ہے اور وہ سنجیدہ اور موثر قاری کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔
کتابوں پر تبصرے (بک ریو)لکھنا
طلبہ کو ان کی مطالعہ کردہ کتب پر تبصرے (بک ریوز)لکھنے پر راغب کرنے سے نہ صرف ان کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ پڑھنے اور لکھنے کی(تحریری) صلاحیتیں بھی پروان چڑھنے لگتی ہیں۔طلبہ کو لائق قاری بنانے اور کتابوں پر عمدہ تبصرے لکھنے کے لئے واضح ہدایات کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے فہم کی گہرائی و گیرائی کی پیمائش و اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں۔اساتذہ طلبہ میں فن تبصرہ نگاری کے فروغ کے لئے اسکول میں تمام اقدامات کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کو تعلیمی فوائد سے بہرور کریں۔ ان کے فہم کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے لئے درجہ ذیل حکمت عملیوں سے کام لیں تاکہ وہ منظم اور سازگار طریقے سے کام کرسکیں جس سے ان کے مطالعہ کی صلاحیتوں کو نمو حاصل ہو۔
(1)ایسی کتابوں کا انتخاب کریں جس سے مطالعہ کے ابتدائی(primary)اور دوسرے/ ثانوی(Secondary)مقاصد کی تکمیل ہوسکے۔یاد رہے کہ مطالعہ کا ابتدائی مقصد پڑھنا اور بہتر معلومات کا حصول ہے جب کہ مطالعہ کا دوسرا یعنی کہ ثانوی مقاصدکتابوں پر تبصرے لکھنا ہے جس سے پڑھنے کی اور لکھنے کی(تحریری) صلاحیتوں کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔
(2) طلبہ منظم طریقے سے ذہنی طور پر مطالعہ کی عادت کو اپنائیں جس کے ذریعے وہ ہر اقتباس(passage)سے مطالعہ کے نچوڑ نکالنے کے لائق ہوسکیں۔”کیا لکھاہوا“ کے بجائے اس کے معنی مفہوم پر زور دیں تاکہ مصنف کے نکتہ نظر سے آگہی پیدا ہوسکے۔غیر ضروری نکات سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف خاص موضوعات اور اہم نکات کو ہی قلم بند کریں۔
(3)تمام بنیادی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مسودہ (خاکہ)ترتیب دیں۔جہاں تک ممکن ہو پڑھے ہوئے معلومات،خیالات،واقعات کو اسی ترتیب میں تحریر کریں جس طرح مطالعہ کردہ موادمیں موجود ہیں۔تحریرکردہ مسودہ(خاکہ) کی زبان کے معیار کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ زبان میں بہتری بعد میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔
(4) کتب یا مواد مطالعہ میں موجود تمام مثالوں اور تشریحات کوکم سے کم کردیں یا ان کو اختصاری (compressed)شکل میں لے آئیں۔
(5)کتاب کا جب جائزہ لکھاجائے توذاتی تبصرے،وضاحتوں اورتجاویز سے گریز کرنا چاہئے اور اگر اوریجنل خیالات کا اظہار مطلوب ہوتب اظہار کا بلاواسطہ طریقہ استعمال کرنا چاہئے۔
(6)مسودہ کا مطالعہ کرتے ہوئے معلومات کو درست کریں۔حذف و اضافہ سے کام لیں۔زبان کو درست کریں۔ان امور پر عمل پیرا ہوکرمطالعہ کردہ کتاب کاجائزہ کامیاب سے تحریر کیا جاسکتا ہے۔

بچوں میں مطالعہ کی عادت کی تشکیل کے لئے اساتذہ کی حکمت عملیاں
مختلف درجوں اور سطحوں پر تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ طلبہ میں مطالعہسے دلچسپی پیدا کرنے اور سود مند اکتساب کو فروغ دینے والے عوامل سے آگہی حاصل کرتے ہوئے انھیں اپنی روزمرہ کے تدریسی افعال کا حصہ بنائیں۔مطالعہ کے فروغ اور طلبہ و کتاب کے مابین اٹوٹ وابستگی پیدا کرنے کے لئے درکار وسائل اور مواقعوں کا مناسب استعمال کریں۔طلبہ اور اساتذہ کی دوطرفہ سعی و کاوشوں سے طلبہ میں مطالعہ کی بیش قیمت عادت کو باآسانی تشکیل دیا جاسکتا ہے۔اساتذہ کی اولین کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہ سب سے پہلے طلبہ کو مختلف کتابوں اور مطالعہ کے مواد سے متعارف کروائیں۔مطالعہ کی اہمیت و افادیت ان کے ذہنو ں میں پیوست کرتے ہوئے ان میں مطالعہ کا شوق و ذوق پیداکریں۔دوسری کوشش کے طور پر انھیں درجہ بہ درجہ مرحلہ وار سطح پر مطالعہ کی مختلف مہارتیں جو مطالعہ کو فروغ دینے میں معاون و کارگر ہوں سکھانے کا اہتمام کریں۔بہتر مطالعہ کے فروغ میں مددگار عملی اقدامات کو ذیل میں پیش کیا گیا ہے جن پر عمل پیرائی کے ذریعہ بچوں میں مطالعہ کے ذوق اور مہارتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
(1)طلبہ کا کتب خانوں (لائبریری) اور کتابوں سے تعارف و تعلق پیدا کریں۔ان کی علمی اور ذہنی سطح کو ملحوظ رکھتے ہوئے مطالعہ کے مواد یا کتابوں کا انتخاب کرتے ہوئے انھیں مطالعہ پر مائل کریں۔کتب خانوں کے موثر اور بہتر استعمال کی ترغیب و تربیت فراہم کریں۔
(2)طلبہ میں باقاعدگی سے اخباربینی کی عادت ڈالیں۔اخبارات دلچسپ،متنوع خبروں و معلومات کی فراہمی کا سب سے موثر ذریعہ ہوتے ہیں۔اخباربینی کے ذریعہ طلبہ میں متنوع معلومات کو مختلف طریقوں سے پڑھنے کی تربیت ہوتی ہے۔
(3)طلبہ کو کارآمد کتابیں خریدنے کا درس دیں۔ان کی دلچسپی پر مبنی کتب کے علاوہ مختلف موضوعات کی کتابیں جمع کرتے ہوئے انھیں گھر میں ایک مختصر لائبرئیری (کتب خانہ) قائم کرنے کی تلقین کریں۔
(4)مختلف کتابوں کے مطالعہ سے حاصل کردہ معلومات پر مشتمل مضامین تحریر کرنے کے لئے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں۔
(5)عام معلومات اور الفاظ کے ذخیرہ میں اضافے کے لئے مختلف کتابوں اور دیگر مواد مطالعہ کو پڑھنے کی ترغیب دیں۔
(6)طلبہ سے مطالعہ کے بعد تحریر کردہ مضامین یا پھر منتخب مواد مطالعہ کو کلاس و اسکول کے بلٹین بورڈ پرآویزاں کرائیں۔
(7)طلبہ میں تنقیدی مطالعہ کو فروغ دیں۔تنقیدی مطالعہ کے دوران انھیں اپنے مفروضات کو پس پشت ڈال کر مصنف کے خیالات و نظریات کی عمدہ ترجمانی پر مائل کریں۔
(8)طلبہ میں ڈرامہ نگاری اور دیگر پروگرامس جیسے تحریری مقابلے اور دیگر بحث ومباحثوں کے فروغ کے لئے مختلف موضوعاتی کتابوں کے مطالعہ سے استفادہ کرنے کا جویا پیداکریں۔
(9)موثر مطالعہ کی عادتوں اور ذوق مطالعہ کو جلا بخشنے والی مہارتوں کے فروغ کے لئے چھوٹے چھوٹے ورکشاپس کا جماعت واری اور اسکولی سطح پر انعقاد عمل میں لائیں۔
اساتذہ جب مذکورہ بالاعملی اقدامات پر کاربند ہوکر انھیں اپنے کمرۂ جماعت اور اسکول میں نافذ کرتے ہیں تب وہ نہ صرف بچوں میں اکتسابی مقاصد کے حصول اور ذوق مطالعہ کی آبیاری میں کامیاب ہوجاتے ہیں بلکہ بچوں میں زندگی بھر کبھی نہ فنا ہونے والے ذوق مطالعہ اور اکتسابی عمل کی بنیادیں استوار کرجاتے ہیں۔

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں