عجیب پاکستانی ہوں

پاکستانی اتنے غریب نہیں ہونگے جتنے عجیب ہیں۔ ہر مرد عورت اپنے آپ میں ایک وکھرا نمونہ ہے۔ پاکستانیوں میں ایک عادت بڑی ” عام ” ہے۔ جو ہر پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان میں بدرجہ اتم موجود ہوگی۔ اتنے چسکورے ہیں کہ ہر بات کا پتہ ہونے کے باوجود منہ کراراے کیے جاتے ہیں۔ جیسے کوئی ” چائے ” پی رہا ہو تو دوسرا باہر سے آنے والا بصارت جیسی نعمت سے مستفید ہونے کے باوجود بھی حیرت سے پوچھے گا ” چائے پی رہے ہو ”۔ اب ظاہر ہے چائے کے کپ میں خون پینے سے تو بندہ رہا۔
ہمارے رشتہ داروں میں میں کسی کے آنے پر اسے آواز نہ کرنا پرلے درجے کی گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ آواز کرنے سے مراد یہ کہنا ہوتا ہے ” آئے ہو ” اگر کوئی بزرگ ہو تو بس لفظ کو ذرا کھینچ کر لمبا کر کے ” راااااااااااااالے ” کہنا ضروری ہے اور ایسا نہ کرنے والے کی مٹی ایسی پلید کردی جاتی ہے کہ دنیا کے نکھٹو، منحوس، اور بے ادب بھگوڑا انسان کی مہر اس پر لگا دی جاتی ہے۔ جب بھی ہری پور جانا ہوا جس رشتہ دار کی طرف بھی جاؤ پہلا سوال یہی ہوگا ” آئی ہو ” جس پر میں آرام سے بس یہی کہہ دیتی ہوں۔
” نہیں! ابھی راستے میں ہوں۔” اب بندہ پوچھے راستے میں ہوتا تو گھر کیسے تشریف لاتا ظاہر ہے گھر تک پہنچا ہے تو آیا ہی ناں۔
اچھا __ اگر آپ بازار چلے جاؤ اور بدقسمتی سے کوئی واقف مل جائے تو چھوٹتے ہی یہی سوال پوچھے گا ” بازار آئے ہو ”۔ اس بے تکے سوال پر بندہ ہونق بنا بٹر بٹر دیکھنے لگتا ہے کہ شاید غلطی سے پہلوانوں کے اکھاڑے یا کسی فیکٹری میں تو نہیں گھس گیا۔
چلو پہلے جوتا خریدتے ہیں اس سوچ کے آتے بندہ اچھی طرح تسلی کرنے کے بعد جیسے ہی شوز ہاؤس میں داخل ہوتا ہے دکاندار کا پہلا سوال حواس باختہ کردیتا ہے۔
” ہاں جی! میڈم جوتا لینے آئے ہیں ”
” نہیں بھائی! گرم مصالحہ، برتن دھونے والا صابن اور ہاں ساتھ ایک سرف کا پیکٹ بھی دے دو ” کوفت سے سوچتے چپ چاپ جوتا پسند کرنے میں ہی بندہ بہتری جانتا ہے۔
کچھ دن پہلے افطار کے لیے کچھ مہمان آئے۔ جیسے ہی مہمان خاتون نے واش روم کی طرف قدم بڑھائے میں نے مروتاً، جبراً، کنایتاً، اشارتاً غرض ہر طرح سے دانتوں کی نمائش کرتے حق میزبانی کے ساتھ حق پاکستانی ادا کیا۔
” آنٹی جی! واش روم جارہی ہیں ”
” نہیں بیٹا! ایک میٹنگ ہے وہی اٹینڈ کرنے جارہی ہوں ” سادگی سے دیے گئے جواب نے بھرپور شرمندہ کروا دیا۔ خجالت سے مسکرا دی کہ چلو وطن کی بیٹی اور محب الوطن پاکستانی ہونے کا حق تو ادا کردیا۔
اب انسان کیا شرمندہ ہو! ہماری یہی ڈھٹائی تو ایک دوسرے کے لیے ہنسی کا باعث بنتی ہے ورنہ تو آج کا انسان معاشی بوجھ میں اس قدر دب چکا ہے کہ بتیسی کو ہی ٹھنڈ لگوا بیٹھا ہے۔
” میں بھی ” عجیب پاکستانی ہوں ” سے اقتباس

حصہ

جواب چھوڑ دیں