معصوم بچےبچیوں کے ساتھ زیادتی کب تک؟

                پاکستان میں معصوم بچے اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ہر حکومت اور ہر انتظامیہ ان کی روک تھام میں مکمل ناکام نظر آئی ہے۔ دو برس قبل معصوم زینب کے بہیمانہ قتل نےپورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس پر ملک گیر احتجاج ہوا، پولیس حرکت میں آئی ، قاتل گرفتار ہوا اور اسے سزا بھی ہوئی۔ کچھ عرصے واقعات تھم گئے، ان میں کچھ کمی واقع ہوئی، لیکن اب دوبارہ ایسے واقعات شروع ہوگئے۔رواں ماہ( مئی 2019) میں اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ سے محض ایک کلو میٹر کے فاصلے پر 10 سالہ بچی فرشتہ کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، درندوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ 4روز تک اسے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کو سفاکی سے قتل کردیا گیا۔ معصوم بچی کے والدین جب اس کی گمشدگی کی رپورٹ لکھوانے تھانے جاتے ہیں تو ان کی ایف آئی آر نہیں کاٹی جاتی بلکہ ان کو کہا جاتا ہے کہ’’ تمہاری بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی۔‘‘ یہ حال ہے ہماری انتظامیہ کا۔

                جب بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں، میڈیا پر شور شرابا ہوتاہے، احتجاج ہوتا ہے ۔ کچھ مخصوص ٹولے اس کی آڑ میں اسلام کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے لیے شاید ایسا واقعات رونما ہونے کی دعائیں مانگتا ہے۔کیوں کہ جیسے ہی ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے۔ یہ مخصوص گروہ فوراً آگاہی، شعور اور بیداری کے نام پر اسکول کے طلبہ و طالبات کو جنسی تعلیم Sex Education کا منجن بیچنے کھڑا ہوجاتا ہے۔

                ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور دوبارہ کہہ رہے ہیں اور بار بار کہیں گے کہ ایسے واقعات کا تدارک بچوں کو جنسی تعلیم دینےسے نہیں ہوگا ۔ ان واقعات کا کسی بھی طرح کا تعلق جنسی تعلیم سے نہیں ہے بلکہ یہ سارے واقعات فوجداری جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے سدِ باب کے لیے جنسی تعلیم کے بجائے قوانین پر عمل در آمد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعلیم دینے، شعور دینے اور بیدار کرنے کی ضرورت ہے نا کہ بچے بچیوں کو اسکولوں میں جنسی تعلیم دی جائے۔

                یہ سارے واقعات اغوا اور زیادتی کے ہیں۔ بچے تو بچے ہوتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی بالغ اور پڑھی لکھی لڑکی کو بھی اغوا کرکے اس کے ساتھ زیادتی کی جائے تو وہ اس معاملے میں بے بس ہوتی ہے۔ حال ہی میں پنڈی کی 22 سالہ طالبہ کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی زیادتی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان واقعات کا تعلق جنسی تعلیم کی کمی سے نہیں ہے بلکہ قانون پر عمل درآمد نہ ہونے سے ہے۔لیکن ان واقعات کو بنیاد بنا کر جنسی تعلیم کی راہ ہموار کرنے کا مقصد سوائے معاشرے میں مزید انارکی پھیلانے کے اور کچھ نہیں ہے۔

                سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے کہ جن معاشروں اور ممالک میں کئی دہائیوں سے اسکول کے بچوں کو جنسی تعلیم دی جارہی ہے، کیا وہاں جنسی جرائم کا گراف کم ہوا ہے یا بڑھا ہے؟ کیا وہاں جنسی تعلیم کے بعد لوگوں کوجنسی شعور آیا ہے یا جنسی بھوک میںمزید اضافہ ہوا ہے؟ اس کا جواب بہت واضح ہے۔ ایسے ممالک بشمول امریکہ اور برطانیہ جنسی جرائم میں کمی نہیں آئی ہےبلکہ ان کا گراف بڑھا ہے۔ اسی طرح وہ مغربی معاشرہ جہاں جنسی تعلیم فراہم کی جاتی ہے، وہاں بھی لوگوں کو کوئی جنسی شعور نہیں آیا ہے بلکہ لوگوں کی جنسی بھوک اور جنسی درندگی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔اگر اسکول اور کالج میں جنسی تعلیم فراہم کرنے سے لوگوں کو  شعور آتاتو آج مغربی معاشرہ ہم جنس پرستی کی طرف راغب نہ ہوتا۔ مرد ، مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کررہا ہے، عورت ، عورت سے جنسی تسکین حاصل کررہی ہے۔ ہم جنس شادیوں کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے۔ یہ تمام باتیں اس جانب اشارہ کررہی ہیں کہ مغرب زدہ جنسی تعلیم سوائے معاشرے کو مزید جنس زدہ بنانے کے اور کچھ نہیں ہے۔ اگر یہ جنسی تعلیم لوگوں کو شعور اور آگاہی فراہم کرتی تو آج ان معاشروں کا یہ حال نہ ہوتا۔

                دور کیوں جائیں پڑوسی ملک بھارت کو دیکھ لیں۔ جنسی زیادتی کے اعتبار سے اس وقت یہ غیر محفوظ ترین ممالک میںسرِ فہرست ہے۔ بھارت میں 2006 میں جنسی تعلیم کا منصوبہ سامنے لایا گیا لیکن عوام کے احتجاج کے بعد اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ 2008 میں انڈیامیں باقاعدہ طورپرجنسی تعلیم کا آغاز کیا گیا، اس کو نہ صرف یہ کہ نصاب کا حصہ بنایا گیا بلکہ اس کو امتحان میں بھی شامل کیا گیا ہے۔اب آپ ذرا غور کیجیے کہ 2008میں وہاں اسکولوں میں جنسی تعلیم کا آغاز کیا جاتا ہےاور 4 سال کے بعد وہ مشہور سانحہ پیش آتا ہے جس کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی۔ وہ مشہور واقعہ تھا ایک چلتی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی ۔نہ صرف یہ بلکہ گزشتہ9 برسوں میں بھارت میں پے درپے ایسے واقعات پیش آئے ہیں جنہوں نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ وہاں بچیوں کے ساتھ زیادتی، خواتین کے ساتھ زیادتی، لڑکیوں کے ساتھ زیادتی، حتیٰ کہ غیر ملکی خواتین کے ساتھ بھی زیادتی کے کئی واقعات سامنے آئے، جس کے بعد جنسی زیادتی کے اعتبار سے انڈیا غیر محفوظ ملک قرار پایا ہے۔یہ بھی بتاتا چلوں کہ جنسی زیادتی(RAPE)کے واقعات کی بڑھتی تعداد اپنی جگہ ، اس کے علاوہ اس معاشرے میں جو جنسی بے راہ روی پھیل رہی ہے، اسکول اور کالج کے طلبہ و طالبات جس طرح باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کررہے ہیں، وہ اپنی جگہ ہے۔ جب کہ جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے عمر کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ (البتہ لبرل ازم کے پیروکار اور جنسی تعلیم کے حامی صرف قانونی جنسی تعلق یعنی شادی کے لیے عمر کی حد متعین کرنے پر زور دیتے ہیں۔)

                یہاں ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ سیکس ایجوکیشن یا جنسی آگاہی کے نام پر صرف ’’ محفوظ جنسی طریقوں ‘‘ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس تعلیم کا مقصد صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے ایسے طریقے استعمال کیے جائیں کہ حمل نہ ٹھہرے،جنسی تعلق قائم کرتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ ایڈز وغیر ہ سے بچا جاسکے اور فطری جنسی تعلق کے علاوہ ایک مرد اور عورت کس طرح ایک دوسرے سے جنسی تسکین حاصل کرسکتے ہیں۔( قارئین کو یہ باتیں شاید بہت عجیب سی لگیں اور شاید وہ ہمیں کوئی انتہا پسند سمجھیں، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے ذرا گوگل پر جاکر سرچ کریں کہ جنسی تعلیم سے کیا مراد ہے اور اس کا نصاب ابواب یا چیزوں پر مشتمل ہے۔)

                یہ ساری تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسکول کے بچے بچیوں کو جنسی تعلیم دینا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر کچھ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

(۱)  سب سے پہلے معاشرے میں جنسی ہیجان پھیلانے والے اسباب ( ایسے ڈرامے، فلمیں، اشتہارات جن سے لوگوں کے جذبات برانگیختہ ہوں ) پر پابندی لگائی جائے۔

(۲)  اسلامی قوانین کو نافذ کیا جائے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم یہ تو کریں کہ اس حوالے سے جو قوانین موجود ہیں، ان پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔

(۳) قانون نافذ کرنے والے ادارو ں کے اہلکاروں پر سختی کی جائے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے۔ جس تھانے کی حدود میں ایسے واقعات پیش آئیں اور مجرم نہ پکڑے جاسکیں تو اس تھانے کے ایس ۔ایچ۔ او۔ اور متعلقہ اہلکاروں کو صرف معطل نہ کیا جائے بلکہ ان کو نوکری سے برخاست کرکےان پر نااہلی اور فرائض سے غفلت برتنے کا مقدمہ دائر کیا جائے۔

(۴)  معاشرے میں نکاح کو آسان بنایا جائے۔ جہیز پر پابندی عائد کی جائے تاکہ لڑکیوں کی جلد شادیاں ہوسکیں۔

( ۵) شادی کی تقریب کو سادگی سے منانے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے تاکہ غریب سے غریب لڑکے لڑکیاں بھی شادی کے بندھن میں بندھ جائیں اور بے راہ روی کا خاتمہ ہو۔یاد رکھیے۔ زنا، زیادتی RAPE  کے لیے صرف تھوڑی سی جگہ اور تنہائی درکار ہوتی ہے ، اس لیے زنا آسان ہوچکا ہے ، جب کہ نکاح اور شادی جیسے مقدس کام کو ہم لوگوں نے بے اجا اخراجات، فضول رسومات اور اپنی ناک اونچی رکھنے کی ضد کی وجہ سے مشکل بنادیا ہے۔

(۶)  لڑکیوں کے لیے شاد ی کے لیے عمر کی حد 18 سال سے کم کرکے کم از کم 15 سا ل کی جائے۔( اس پر لبرل طبقے کو بہت تکلیف ہوتی ہےلیکن یہ عجیب سی بات ہے کہ اسکول کے بچے بچیوں کوجنسی تعلیم فراہم کرکے، انہیں ’’محفوظ جنسی تعلق‘‘ قائم کرنے کے طریقے بتا کر ان کے جذبات کو ابھارا جائے، انہیں زنا کی طرف تو مائل کیا جائے لیکن لڑکیوں کی جلد شادی نہ کی جائے اور اس کے خلاف کام کیا جائے۔)

(۷) بچے ، بچیوں سے جنسی زیادتی کے واقعات پر اپنی دکان چمکانے اور جنسی تعلیم کا پروپیگنڈہ کرنے کے بجائے اسلامی شعار کو فروغ دیا جائے۔ حیا کے کلچر کو عام کیا جائے۔

                اسی طریقے سے ہم معاشرے میں پھیلی ہوئی بے راہ روی کو روک سکتے ہیں۔اسی طریقے سے ہم اپنے بچے بچیوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر یہ سانحات ہوتے رہیں گے، بچیاں  بچے استحصال کا شکار ہوتے رہیں گے اور بے بس والدین روتے رہیں گے۔اس لیے اپنی آواز بلند کریں ۔ جنسی تعلیم کے بجائے اسلامی تعلیم، زنا کے کلچر کے بجائے نکاح کا کلچر عام کریں۔

حصہ
mm
سلیم اللہ شیخ معروف بلاگرہیں ان دنوں وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیچرز ٹریننگ بھی کراتے ہیں۔ درس و تردیس کے علاوہ فری لانس بلاگر بھی ہیں اور گزشتہ دس برسوں سے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر مضامین لکھ رہے ہیں۔ ...

جواب چھوڑ دیں