’’تبدیلی کو سلام ‘‘

کراچی سے چارگھنٹے 43 منٹ چلنے کے بعد گاڑی جب شہر قائد سے 314 کلو میٹر مسافت پر صوبہ سندھ کے شہر مورو میں رکی تورات کے12:30 بج رہے تھے۔سردی میں اضافہ ہو چکا تھا ۔موسم کی تبدیلی کے آثار بتا رہے تھے کہ گاڑی پنجاب اور سندھ کے سنگم پر کھڑی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اگر کسی چیز کا تہ تک مشاہدہ کرنا ہوتوآپ کوس اس میں ڈھالنا پڑتا ہے۔قلم کار کبھی بھی موقع ضائع نہیں جانے دیتا ۔جہاں اسے ناانصافی ،ظلم ہوتا نظر آتا ہے ،اپنے تائیں کوشش ضرور کرتا ہے کہ اس جبر کو کسی طرح روکا جائے۔مقتدر حلقوں ،ایوانوں تک عوامی مسائل پہنچائے جائیں ،تاکہ ملک کی خوش حالی میں اپنا ایک نامکمل ہی سہی ،حصہ شامل ہوجائے۔جولائی کے بعد سے ملک میں آنے والی تبدیلی کو سب نے دیکھ لیا۔یہ تبدیلی اپنا اثر کہاں تک جما چکی ہے اس کا درست اندازہ تب ہی ممکن ہے جب عام آدمی کے حالات پر اس تبدیلی کے اثرات نظر آنے لگ جائیں۔تبدیلی کے نفاذ کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے لیکن غریب آدمی کے حالات جوں کے توں ہیں۔
یہ عام لوکل بس تھی جو نیشنل ہائی وے کے مصروف ترین ہوٹل پہ آکر رکی تھی۔یہاں ہوٹل پر موجود عملہ ،ویٹر گاڑیوں سے اترنے والی سواریوں کو زورشور سے اپنی طرف متوجہ کررہاتھا۔قطار در قطار دس پندرہ بسیں یہاں کھڑی تھیں جن سے تقریباََ 500 سے 700 افراد اتر کر ادھر اُدھر ٹہل رہے تھے۔ا س ہوٹل کا نام ہر اس شخص کو یاد ہوگا جو ان لوکل بسوں میں سفر کرتا رہتا ہے۔اور ساتھ یہ بھی اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس ہوٹل اورسپر ہائی وے پر موجود ایسے کئی ہوٹلوں کی مافیا کس طرح مسافروں کی کھال ادھیڑتے ہیں۔ڈرائیوروں ،کنڈیکٹروں کے لیے مرغ مسلم ،انواع و اقسام کے کھانے ،بوتلیں ،سیگریٹیں اور ناجانے کیاکیا لوازمات کا اہتمام ان ہی محنت کشوں کی جیب سے کیا جاتا ہے۔عام آدمی فوڈا یٹم مہنگے داموں ملتے ہیں۔یہ ہوٹل مافیا کھلے بندوں اتنی فراخ جگری سے لوٹ مار کرتے ہیں کہ شیطان بھی ان سے پناہ مانگتا ہوگا۔منافع خوری ،سینہ زوری کے اس بازار میں کھلم کھلا عوام کا استحصال اہلکاروں کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔بسسز ،ہوٹل مافیا کی ملی بھگت سے لوٹ کا یہ مکروہ کام کئی سالوں سے جاری وساری ہے۔مقتدر حلقے ، قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول نمائندگانِ ایوان کی بے ضمیری کی اس سے بڑھ کر کون سی دلیل ہو سکتی ہے کہ ان کے لیے یہ مسائل مسائل نہیں ہیں۔
ہوٹل پہ موجود قانون کے محافظ اس گھنونے کام میں ملوث پائے گیے۔وہاں کھڑی پولیس کی گاڑی میں چوکس حولدار صاحب سرکاری گاڑی میں فیملی کو سیر سپاٹے کراتے پھررہے تھے ۔جب راقم نے حوصلہ کرکے اپنا تعارف کرایا اور اپنا مدعی بیان کیا کہ جناب آپ کی موجودگی میں یہ سب کیوں ہو رہا ہے تو وہی روایتی جواب کے علاوہ صاحب کچھ نا بول سکے۔سر نہ پیٹیں تو کیا کریں ۔جس ریاست کے محافظ ڈیوٹی ٹائم میں باوردی گھر والوں کو سیرو تفریح کرواتے پھررہے ہوں۔ان کی موجودگی سے ڈاکوؤں کو تقویت ملتی ہوپھر اس ریاست مدینہ کا جنازہ پڑھ لینا چاہیے۔مورو شہر میں تبدیلی دروتک نظر نہیں آئی ،دیکھا تو صرف غریب کو لٹتا دیکھا۔عام آدمی کی زندگی آسان ہونا تو دور مزید ابتر ہو چکی ہے ۔کیا یہی حکومت وقت کا سلوگن تھا؟ عام آدمی تبدیلی کی ہوا کو بھی ترس گیا ہے۔اسے ووٹ کی طاقت کا مستعمل اس صورت ملنے کی امید کبھی نہ تھی کہ سالوں سے چلی آئی لوٹ مار کو ختم کیا کرنا، اس میں اضافہ ہی ہوا ۔غریب آدمی کی مایوسی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔کیا آسروں،وعدوں اور تکمیلِ مشیعت تک یہ غریب زندہ رہ سکے گا ۔تبدیلی سننے کو بھلی لگتی ہے ،مگر کہیں دکھے توسہی۔اگر یہی تبدیلی ہے جو مورو شہر میں نظر آئی تو ایسی تبدیلی کو سرخ سلام۔
سندھ سے پنجاب جانے والے روز ان بسوں میں سفر کرتے ہیں ۔یہ ایک مکمل منصوبہ بندی اور گٹھ جوڑ کے ساتھ کام ہورہا ہے اوران پرڈیرے سیاست دانوں کی کرم نوازی پشت پناہی ہے۔موٹروے پولیس کی کارکردگی بھی آٹے میں نمک جتنا ہے۔کراچی سے باہر نکلتے ہی چیک پوسٹ پر جو خانہ پوری ہوتی ہے وہ ہمارے سکیورٹی نظام کا مفلوج اعضا ء ہے۔ بسوں کی چھتوں پہ رکھے سامان کی چیکنگ کی جاتی ہے،نہ ہی مسافروں کی صحیح شناخت ہوتی ہے۔کئی بسوں کی چیکنگ پر ایک رینجر اہلکار تعینات ہے جو بس میں سوار ہوتے ہی گیٹ میں کھڑے ہو کر سرسری سی نگاہ ڈال کر چلتا بنتا ہے۔ریاست آج تک اکیس سالوں میں موٹروے کو سکیورٹی سیف نہیں بناسکی،نہ ہی ڈیوٹی پہ موجود آفیسروں کی، چیکنگ اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکاہے۔ سالوں سے کام چلاؤ پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔اگر تین یا چار رینجرز اہلکار چیکنگ کے فرائض انجام دیں تو ہم سندھ پنجاب میں دہشت گردی کی روک تھام کر سکتے ہیں۔ہم موٹر وے پولیس کو بھی وقت گزار جگاڑو محکمہ کہنے میں حق بجانب ہیں۔آپ کسی دن تجربہ کرلیں ،ساٹھ سیٹر بس میں ستر سے اسی افراد ٹھونس دیے جاتے ہیں۔یہ ستر اسی انسانی جانیں ایسے انسان کے ہاتھ میں دے دی جاتے ہیں جسے ملک کا ،موٹروے کا کوئی قانون غلط ڈریوو کرنے سے نہیں روک سکتا۔یہ کئی جانوں کے رکھوالے بن کر ڈرائیونگ قوانین کی دھجیاں اڑادیتے ہیں ۔کیوں ان کے خلاف موٹروے قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے ،سخت سزاؤں کا اطلاق نہیں کیا جاتا۔شہریار افریدی صاحب تبدیلی کے کارواں کے روح رواں ہیں۔ان تک ہماری آواز پہنچ جائے تو اپیل ہے کہ اس سنگین صورت حال کو ٹھیک کریں۔اس میں نہ تو معیشت کمزور ہوگی ،نہ ہی آپ کو کشت کرنے کی ضرورت پڑے گی۔یہ چھوٹے چھوٹے عوامی مسائل سدھار دیں آپ کی تبدیلی کا بول بالا ہوجائے گا۔وگرنہ ایسی تبدیلی کو مؤرخ سلام پیش کرے گا۔
غربت ،جہالت ،ناانصافی کے خلاف جہاد کرنے والوں کو ان مسائل کے حل کے لیے کوششیں کرنا ہوں گیں۔عوام کب تک ایسے ظالموں کے ظلم سہتے رہے گے۔یہ ایسی آتش ہے جس کا صرف غریب شکار ہوتا ہے۔نیشنل ہائی وے پہ موجود کرپشن کے یہ اڈے ریاست کے چہرے کو سیاہ کررہے ہیں۔سفر میں عام آدمی ہی مسائل و مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔غریب طبقہ جو کچھ کماتا ہے وہ یہ مافیا راستے میں اینٹھ لیتے ہیں۔ان منافع خوروں کو بھی کرپشن کی ذیلی شق سمجھ کر ان کے خلاف گھیراتنگ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ سفری سہولیات دینا ،عوام کو ایسے درندوں سے بچانابھی ریاست کا فرض ہے۔اور اس فرض میں آج تک حکومتیں ناکام رہی ہیں۔موجودہ حکومت سے عوام کو بڑی توقعات ہیں کہ یہ غریب کی ہڈیوں کاچورا نہیں ہونے دے گی۔غریب کا کمایاہوا روپیہ روپیہ ان فرعونوں کی تجوری میں جانے سے روکے گی۔عوام چاہتی ہے کہ ہائی وے کو ان لوٹیروں سے پاک کیا جائے۔یہ روز لاکھوں کی لوٹ مار کرتے ہیں حکومت وقت ان ناجائز منافع خوروں کی پکڑکرے۔اور ان کو یہ مسائل سنجیدگی سے حل کرنے ہوں گے۔تبدیلی کا جو چاٹ موجودہ حکومت نے بنا رکھا ہے اس میں ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اول الذکر لکھنا ہوگا۔نہیں تو تبدیلی کتابوں میں ہی ملے گی۔

حصہ
mm
محمد عنصر عثمانی نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات و عربی کیا ہے،وہ مختلف ویب پورٹل کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں