موثر تدریسی خصوصیات 

معلومات (سبق) کی پیش کش(Presentation of Knowledge)؛۔تعلیمی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دلکش اور دل پذیر انداز میں معلومات کو پیش کرنے کے فن سے واقف اساتذہ ہی موثر تدریس اور بہتر اکتساب فراہم کرنے میں کامیابی حاصل کر تے ہیں۔تدریس ایک معمولی کام نہیں بلکہ تنظیم و ترتیب ،محنت شاقہ ،سنجیدہ غور و فکر کے تسلسل کا دوسرا نام ہے۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ کمرۂ جماعت میں استادیک عالم ،فاضل شخص کی صورت میں داخل ہوتا ہے اور معلومات کو بغیر کسی تنظیم و ترتیب اور منصوبہ بندی کے روایتی اندا ز میں منتقل کرنے میں جٹ جاتا ہے۔ دوران تدریس طلبہ پر اپنی علمیت کا سکہ جمانے کی سعی و کوشش کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ بچے بے بسی سے استاد کی علم و فضیلت کی اس بے موسم اور غیر متوقع بارش سے سہم جاتے ہیں۔ ان کے پاس پڑھائے جانے والے سبق کو بے دلی سے (passively)سننے کے کوئی دوسرا راستہ نہیں رہتا ۔افتادگی، بے دلی اور بوجھ پن کے ساتھ وہ معلومات کو اپنی بیاضوں (نوٹ بکس) میں تحریر کر نے لگ جاتے ہیں۔،تحریر کردہ نوٹس کو رٹّہ لگاکر ، امتحان گاہ یا پھر کمرۂ جماعت میں لوٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔جب یہ سب ہونے لگے تب ہم کیسے ایک فطری تعلیمی عمل کی توقع کرسکتے ہیں۔ اس طرح کی تدریس سے بچوں کی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوتااوربچوں میں سطحی پن بھی پیدا ہونے لگتا ہے۔ معلومات کی زندگی بہت مختصر ہوتی ہے اور بہت ہی قلیل مدت میں وہ بچوں کے ذہن سے محو بھی ہوجاتے ہیں۔اس طور سے فراہم کردہ تمامتر معلومات کو طلبہ یاد نہیں رکھ پاتے ، جس کی وجہ سے وہ ان معلومات کی شناخت ،اطلاق اور استعمال سے بھی عاجز نظر آتے ہیں۔ ماہرین تعلیم نے کبھی بھی اس طریقہ تدریسکو اعتبار کی نگاہ سے نہیں دیکھا ہے۔کئی مرتبہ اساتذہ اپنے مضمون اور موضوع پر عبور و دسترس کے باوجودعامیانہ اور غیر موثر طریقہ سے معلومات کی پیش کشی کی وجہ سے دلچسپ اکتسابی فضاء پیدا کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ فن تدریس اساتذہ سے کمرۂ جماعت میں اپنے معلومات کی پیش کشی کو بہتر بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔اساتذہ مناسب اور منظم طریقوں کو برؤے کار لاتے ہوئے معلومات کی منتقلی کو یقینی بنائیں تاکہ بامقصد اور کارآمد اکتساب کو پروان چڑھایا جاسکے۔آج کے تصنع اور ریاکاری سے پر سماج نے جہاں طلبہ کو تن آسان ،سہل پسند اور غفلت کا خوگر بنادیا ہے وہیں اساتذہ کی ذمہ داریاں اور پیشہ وارانہ تقاضوں کوپہلے سے کئی زیادہ بڑھا بھی دیا ہے۔ماہر تعلیم ہربرٹ اسپنسر نے سبق کی منصوبہ بندی میں معلومات کی پیش کش (Presentation of Knowledge)کوسب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ معلومات کی پیش کشی کے اثرات کو درس و تدریس اور اکتساب پر واضح طور پر محسو س کیا جاسکتا ہے۔ مضبوط و مستحکم اکتساب کی بنیادیں معلومات کی پیش کش پر تعمیر کی جاتی ہیں۔طلبہ میں پھیلی سستی ،بے فکری اور عدم توجہ کی وجہ سے ان کا مستقبل تبا ہ وتاریک ہو رہا ہے۔ ایسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں طریقہ تدریس کو دلچسپ و موثر بنا تے ہوئے اساتذہ، طلبہ کی صلاحیتوں کوپروان چڑھا نے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ذیل میں صراحت کردہ رہنمایانہ خطوط پر عمل آور کے ذریعے اساتذہ معلومات کی پیش کشی میں اصلاح و ترمیم کے ذریعے سبق کی پیش کش کو مزید دلچسپ اور مفید بنا سکتے ہیں۔
(1)فن تدریس کا سب سے پہلا اصول پڑھانے سے پہلے طلبہ کو پڑھنے کے لئے آمادہ(تیار) کرنا ہے۔سبق کی تدریس سے قبل بچوں میں سیکھنے کا جذبہ ،شوق و ذوق پیدا کیا جائے۔ شوق و ذوق کی بیداری اور محرکے کے بغیر یہ کام انجام دینا بہت ہی مشکل ہے۔بچوں میں محرکہ پیدا کرنے میں سابقہ معلومات کا اعادہ بے حد کارگرہو تا ہے۔سبق یا معلومات کی پیش کش کا آغاز حوصلہ افزا ء سوالات، دلچسپ سرگرمی یاسابقہ معلومات کے اعادہ سے انجام دیں۔یہ طرزعمل سابقہ معلومات اور نئی معلومات میں ایک تسلسل پیدا کرتے ہوئے سبق و معلومات کی تفہیم کو آسان بنا نے میں معاون ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس طریقہ کار کے ذریعے طلبا نئی معلومات کو بہت جلد قبول کر پاتے ہیں۔اساتذہ معلومات کی پیش کش میں بہت احتیاط سے کام لیں۔ نئے معلومات کی ترسیل سے قبل طلبہ کی سابقہ معلومات سے مکمل طور پر آگہی حاصل کریں۔پچھلی جماعتوں میں پیش کیئے گئے معلومات اور مفروضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے نئے معلومات پیش کریں۔ہربرٹ کی نظر میں سبق کو موثر بنانے کے لئے سبق کی موثر تیار ی ضروری ہے۔اگر استاد سبق پڑھنے کی موثرتیاری کرئے گا تبھی طلبہ میں سبق پڑھنے کا شوق اور محرکہ پیدا ہوگا۔ہربرٹ نے بچوں کی سابقہ معلومات سے سبق اور تدریس کو جوڑنے پر بہت زور دیا ہے۔وہ بچوں کی سابقہ معلومات پر سبق کی بنیاد رکھنے کا موئید نظر آتا ہے۔ میرا تدریسی تجربہ بھی اساتذہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تدریس کو مفید اور موثر بنانے کے لئے معلومات پیشکرنے کا آغاز طلبہ کی سابقہ معلومات سے کریں۔اساتذہ مناسب طریقے سے سابقہ معلومات کو پڑھائے جانے والے مواد سے مربوط کردیں تاکہ طلبہ کو نفس مضمون کی تفہیم میں کوئی دقت اور پریشانی نہ ہو۔
(2)معلومات کی پیش کش، کو موثر بنانے میں طلبہ کے نفسیاتی تقاضوں اور ذہنی استعداد کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔معلومات کی وضاحت اور تفہیم ،طلبہ کی علمی سطح کو مدنظر رکھ کر کی جائے تاکہ وہ بغیر کسی الجھن اور دقت کے ذہنی طور پر معلومات کو قبول کر سکیں۔ سوالات کے ذریعے طلبہ کی علمی سطح کی جانچ اور معیار کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔ طلبہ کی ذہنی اور علمی صلاحیتوں سے معلومات کی پیش کشی کو ہم آہنگ کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے تاکہ طلبہ کی لیاقت اور قابلیت میں قابل قدر اضافہ ہوسکے۔مختصراً اس بارے میں اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ’’طلبہ کی ذہنی بالیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اساتذہ معلومات پیش کرنے کے فرائض انجام دیں۔‘‘
(3)اگر بعض وجوہات کی بناء طلبہ کسی مضمون کی مبادی معلومات ،)بنیادی معلومات Basic knowlege) نہ سکھیں ہوں تب ان کو اس موضوع کی مزید)آگے کی ، اعلیadvance Knowledge (معلومات فراہم کرنا بے فیض اور وقت کا زیا ں ہوتا ہے۔بنیادی معلومات کے بغیر اعلی معلومات پیش کرنا بے معنی ہوتا ہے۔طلبہ میں اکتسابی دلچسپی اور تیزی اس وقت دیکھنے میں آتے ہے جب ان کو کسی بھی موضوع کی بنیادی معلومات کا علم ہوتا ہے یاپھر اعلی معلومات کی پیش کشی سے قبل ان کو بنیادی معلومات فراہم کردئیے جاتے ہیں۔اگر طلبہ کی بنیادی معلومات اور ان کی علمی سطح کا ادراک کئیے بغیر تدریسی فرائض انجام دیئے جائیں گے تو یہ ناقص تدریس ہی کہلائی گی۔ اعلی معلومات کی پیش کشی کے دوران استاد کو اس بات کا علم ضروری ہے کہ پیش کردہ معلومات طلبہ کی سابقہ معلومات سے ہم آہنگ اور ان کے معیار کے مطابقہیں۔ اگر طلبہ کسی مخصوص موضوع و مضمون کی مبادیا ت سے نا واقف ہوں تب استاد اعلی معلومات کی فراہمی سے قبل ان کو بنیادی معلومات فراہم کرے تاکہ طلبہ میں نئے معلومات کو حاصل کرنے کا شوق و ذوق پیدا ہوسکے۔
(4)معلومات کی تفہیم و وضاحت کے دوران معروف)معلوم Known)سے غیر معروف)نامعلوم (Unknown کارشتہ جوڑیں۔معروف معلومات سے غیر معروف کی جانب پیشرفت کرتے ہوئے اساتذہ طلبہ کو جذباتی اور ذہنی طور پر اکتساب کے لئے ابھارسکتے ہیں۔ معلومات کی پیش کش کے وقت اس بات کا خاص خیال ر ہے کہ پیش کی جانے والی معلومات طلبہ کی سابقہ معلومات سے مربوط ہوں۔اگر سابقہ معلومات (معروف معلومات) پیش کیئے جانے والے معلومات (نامعلوم معلومات)میں ربط ہوگا تب بچے نئی معلومات آسانی سے سیکھیں گے۔معلوم حقائق کے بل پر غیر معروف حقائق کو آسانی سے سیکھاجا سکتا ہے۔
(5)اساتذہ کو ا درسی کتاب( جو طلبہ کی ضروریات کی تکمیل کی متحمل نہ ہو ) پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ یہ ایک معرو ف حقیقت ہے کہ طلبہ کو استاد پڑھتا ہے نا کہ درسی کتاب۔اساتذہ طلبہ کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لئے دیگر تعلیمی وسائل، ٹولس(تدریسی معاون اشیاء)اور دیگر درسی کتابوں کا بھر پور استعمال کریں تاکہ پریزنٹیشن(پیش کش ) کو موثر بنایا جاسکے۔ سبق کی تدریس ہو یا معلومات کی پیش کش استاد اور طالب علم دونوں کی شراکت ضروری تصور کی جاتی ہے۔ بشب مویشو(Bishop Moisshou)کی کتاب ثانوی درجات کی تدریس سے ایک سطر بیان کرنا میں بے حد ضروری تصور کرتا ہوں تاکہ اساتذہ کو دروان درس و تدریس کوئی شک و شبہ نہ رہے۔”Stduent is the centre of the whole educational process, he is the life of the teachers effort.”اس قول کی روشنی میں اساتذہ درسی کتاب پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے علم کی منتقلی کی جانب اپنی توجہ مرکوز کریں۔ استاد کتنا پڑھا چکاہے یہ بات میری نظر میں اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ میرے نزدیک بچوں نے کتنا سیکھا یہ بات بہت اہم ہے۔نصاب (syallabus)کی تکمیل کتاب کے پہلے صفحے سے آخری صفحے تک اوراق پلٹنے کا نام نہیں ہے بلکہ درسی کتاب میں پوشیدہ علوم کو طالب علم نے کتنا سیکھا یہ بہت اہمیت والی بات ہے۔سبق کی تدریس میں اساتذہ صرف درسی کتب پر اکتفاء نہ کریں اور درسی کتب کی صحت اور معیار پر مکمل اعتبار نہ کریں ۔اپنے علم اور تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تدریسی فرائض انجام دیں۔
(6) منظم تدریس اور پر کیف اکتساب کو پروان چڑھانے کے لئے مناسب مثالوں اور وضاحتوں سے کام لیں۔تدریسی مرحلوں میں منطقی ترتیبکو ملحوظ رکھیں۔روزانہ کی اساس پر سبق کی منصوبہ بندی کریں۔منصوبہ بندی کے دوران استاد روزانہ کے اسباق کی منصوبہ بندی کو پورے نصاب سے مربوط وہم آہنگ رکھے تاکہ نصاب کے مقاصد کو باآسانی حاصل کیاجاسکے۔ماہر تعلیم مائیکل کے مطابقکسی مخصوص دن،ایک خاص مقررہ وقت پر سلسلہ وار اکتسابی تجربات کو سبقکہتے ہیں۔”A lesson may be defined as a series of learning experiences which occur in a single block of time on a particular day.”موثر پیش کش کے لئے اساتذہ کا تعلیمی مواد ، تدریسی معاون اشیاء،تدریسی سرگرمیوں اور دیگر تعلیمی وسائل سے باخبر ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایک باخبر استاد ہی ایک باشعور معاشرہ تعمیرکر سکتا ہے۔
(7)اساتذہ تفہیم ،تشریح اوروضاحتوں کے بیچ طلبہ کو مختصر وقفہ فراہم کریں تاکہ وہ غور و فکر کر سکیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، اپنے شکوک و شہبات کے ازالہ کے لئے سوالات کر سکیں۔ تفہیم و تشریح کے دوران مختصر وقفہ طلبہ کے لئے سود مند ہوتا ہے۔یہ مختصر سا وقفہجہاں طلبہ کو افہام و تفہیم کے عمل میں ایک فعال کردار اداکرنیپر مائل کرتا ہے وہیں اساتذہ کو بھی آرام و استراحت کا موقعفراہم کر دیتا ہے۔
(8)وضاحت ،تفہیم و تشریح کے لئے استعمال کردہ زبان طلبہ کی معیار کے مطابق ہونی چاہیئے اور اس کے برموقع و برمحل استعمال کے ہنر سے استاد کی آشنائی ضروری ہوتی ہے۔ اساتذہ اہم نکات کی تفہیم کے لئے الفاظ و جملوں پر زور دینے اور مخصوص اشاروں (gestures)کے استعمال سے ہرگز گریز نہ کریں۔
(9)معلومات کی پیش کش کے دوران طلبہ کی جانب سے کیئے جانے والے سوالات کا احیتاط سے سامنا کریں۔طلبہ کے سوالا ت سے بدمزہ اور غصہ ہونے کے بجائے خوش گواری سے پیش آئیں اور سوالات کو تدریس میں ایک موثر وسیلہ کے طور پر استعمال کریں۔
(10)اہم نکات کی مناسب اور وضعی تکرار اہم معلومات کے تعین میں مددگار ہوتی ہے۔ جہاں بھی ضرورت ہو وضاحتی اور تفہیمی خلاصہ پیش کریں۔
(11)تفہیم و وضاحت کے لئے جہاں کہیں ضرورت محسوس ہو تدریسی معاون اشیاء کا استعمال کریں۔تدریسی معاون اشیاء (ٹیچنگ ایڈس) کا استعمال طلبہ میں اکتسابی دلچسپی کو پروان چڑھانے کے ساتھ مشکل تصورات کو عام فہم اور آسان بنانا کر پیش کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
(12)سبق کے آخر میں طلبہ کی جانچ اور اعادہ سے ان کے اکتساب کی سطح کا علم ہوتاہے ۔پریز نٹیشن (پیش کش ) کے اختتام پر جانچ اور اعادہ سے اساتذہ کی تدریسی تاثیر اور جامعیت کا بھی اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔اسی لئے اساتذہ اپنے ہر پریزنٹیشن کے اختتام پر جانچ اور اعادہ (Evaluation @ Recapitulation)سے ضرور کام لیں۔
(13)سبق کا آغاز جس قدر اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح سبق کا اختتام بھی اہم ہوتا ہے۔ بہتر اختتامیہ طلبہ کے ذہنوں پر کبھی نہ مٹنے والے نقش بنادیتا ہے۔سبق کے اختتام پر اساتذہ تھوڑا تجسس باقی رکھیں تاکہ طلبہ میں خود اکتسابی ،تحقیق اور جستجو کی کیفیت پیدا ہو سکے۔اختتام پر کوئی ایسا پہلو نا تمام چھوڑ دیں جس سے طلبہ خود کو تشنہ کام محسوس کر نے لگے ۔یہی تشنگی طلبہ کو تحقیق اور جستجو کی جانب مائلرکھے گی۔ طلبہ میں خوداعتمادی کی کیفیت پروان چڑھے گی ،وہ آزاد اور خود کار اکتساب کی جانب گامزن ہوجائیں گے۔
کمرۂ جماعت (کلاس روم) میں اساتذہ بغیر کسی منظّم منصوبہ بندی کے تیز رفتاری سے اسباق اور نصاب کی تکمیل میں مصروف رہتیہیں۔اسباق و نصاب کی تکمیل کے دوران وہ اکثربھول جاتے ہیں کہ جو معلومات وہ طلبہ کو فراہم کر رہے ہیں کیا طلبہ کے ذہن انھیں جذب بھی کر پا رہے ہیں یا نہیں۔سبق کی تدریس اورمعلومات کو پیش کرنے کے فن (تکنیک) سے اساتذہ کا آراستہ ہونا بے حدضروری ہے۔استاد خواہ کتنا ہی لائق اور قابل ہو اگر وہ معلومات اور سبق کی پیش کش کے فن سے نابلد ہوتب وہ طلبہ میں اکتسابی گراوٹ اور بیزارگی پیدا کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔درس و تدریس کی کامیابی کا انحصار خواہ وہ کوئی بھی مضمون ہواساتذہ کی معلومات (سبق) کی پیش کش پر ہوتا ہے۔سبق طلبہ کے ذہنوں میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتا ہے اگر استاد اس کو دلچسپ اور دل پذیر بناکر پیش کرے۔پیش کش جس قدر موثرہوگی اکتساب کا معیار بھی اتنا ہی بلند و ارفع ہوگا۔تدریس میں تاثیر اور اکتساب میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے تدریس کے فنی اصولوں پر اساتذہ کو کاربند ہونے کی سخت ضرورت ہے۔جب اساتذہ فنی اصولوں کی باریکیوں کو سمجھنے میں کامیاب ہوجائیں گے تب درس و تدریس ان کے لئے نہایت سہل اور دلچسپ سرگرمی بن جائے گی۔اساتذہ یہ بات اپنی ذہنوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیں کہ درس و تدریس صرف پڑھانے کا نہیں بلکہ پڑھنے کا بھی نام ہے۔(جاری ہے)

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں