قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

148

ادھر سے موسیٰؑ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا آتے ہی اس نے کہا ’’بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کر لیتے؟‘‘ اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھا ئی (ہارونؑ) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا ہارونؑ نے کہا ’’اے میری ماں کے بیٹے، اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر‘‘۔ (سورۃ الاعراف:150)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا اور اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کی حصولِ ثواب کی نیت سے تو وہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کے برابر دور کر دیا جائے گا۔ میں نے کہا اے ابو حمزہ خریف کے کیا معنی؟ انہوں نے کہا: اس کے معنی ’’سال‘‘ کے ہیں‘‘۔ ’’ستر سال کی مسافت‘‘ کا ذکر یہ بتانے کے لیے ہے کہ وہ دوزخ سے بہت دور کر دیا جائے گا‘‘۔ (ابو داؤد)