چین کی دفاعی ترقی کے حوالے سے امریکی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں،چین

251
چین کی دفاعی ترقی کے حوالے سے امریکی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں،چین

بیجنگ:  امریکی محکمہ دفاع نے ’’چائنا ملٹری اینڈ سیکیورٹی ڈیولپمنٹ رپورٹ” حال ہی میں جاری کی جس میں چین کی قومی دفاعی پالیسی اور فوجی حکمت عملی کو مسخ کیا گیا ۔

چین کی دفاعی پیش رفت کے بارے میں بے بنیاد قیاس آرائیاں کی گئی ہیں اور امور تائیوان کے حوالے سے چین کے داخلی معاملات میں سنگین مداخلت کی گئی ۔

چین نے اس پر سخت عدم اطمینان اور شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے اور اپنا احتجاج بھی درج کروایا ۔چین پرامن ترقی کے راستے پر گامزن ہے، قومی دفاعی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ہمیشہ عالمی امن کا معمار ، عالمی ترقی میں شراکت دار اور بین الاقوامی نظم و نسق کا محافظ رہا ہے۔

چین کی فوجی طاقت کی ترقی کا مقصد قومی اقتدار اعلی، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ ہے، اور چین کبھی بھی بالادستی یا توسیع پسندی کی کوشش نہیں کریگا۔

دوسری جانب امریکہ نے اپنے قیام سے لے کر اب تک تقریبا 250 سالوں میں صرف 16 سال کا عرصہ بنا کسی جنگ کے گزارا ہے ،اس نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے ہر جگہ شعلوں کو ہوا دی، دنیا میں تقسیم اور محاذ آرائی پیدا کی اور جہاں بھی گیا وہاں افراتفری اور آفات کا موجب رہا ہے۔حقائق نے بارہا ثابت کیا ہے کہ امریکہ عالمی امن و استحکام کو متاثر کرنے والا سب سے بڑا فسادی اور تخریب کار ہے۔

تائیوان ، چین کا تائیوان ہے اور امور تائیوان کو دیکھنا چینی کا داخلی معاملہ ہے اور چینی عوام اس حوالے سے فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہیں ۔اس وقت آبنائے تائیوان میں تنا کی بنیادی وجہ چند امریکی حلقوں کی جانب سے چین کو روکنے کیلئے ’’تائیوان کا استعمال‘‘ہے۔

چینی مسلح افواج’’تائیوان کی علیحدگی‘‘کے حوالے سے کسی بھی بیرونی مداخلت اور علیحدگی پسند کوششوں کو ناکام بنانے اور مادر وطن کی مکمل وحدت کے ادراک کا اعتماد اور صلاحیت رکھتی ہیں۔چین اپنے دفاع کے لیے جوہری حکمت عملی پر سختی سے عمل پیرا ہے ،کسی بھی وقت اور کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی پر ہمیشہ عمل پیرا ہے ۔

چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کرے اور دونوں ممالک اور دونوں افواج کے درمیان تعلقات کو صحت مند اور مستحکم ترقی کی راہ پر واپس لانے کے لئے سنجیدگی سے ٹھوس اقدامات کرے۔