قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

200

ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدمؑ کو سجدہ کرو اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ پوچھا، ’’تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟‘‘ بولا، ’’میں اْس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اْسے مٹی سے‘‘۔ فرمایا، ’’اچھا تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے نکل جا کہ در حقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں‘‘۔ (سورۃ الاعراف:11تا13)

رسول اللہؐ نے فرمایا: مومن اپنے گناہ کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑی کے نیچے بیٹھا ہو اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس پر گر نہ جائے اور بدکار گناہوں کو ناک پر بیٹھنے والی مکھی کی طرح ہلکا سمجھتا ہے جب وہ اسے اڑاتا ہے تو اڑ جاتی ہے۔ (بخاری)
سیدنا ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: یارسول اللہ ؐ کون سے وقت کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ ارشاد فرمایا: رات کے آخری حصہ میں اور فرض نمازوں کے بعد۔ (ترمزی)