پاکستان چین کی مقامی کرنسیوں میں تجارت ، ڈالر کو زوال

294
پاکستان چین کی مقامی کرنسیوں میں تجارت ، ڈالر کو زوال

اسلام آ باد: چینی کرنسی آر ایم بی کو امریکی ڈالر کو شامل کیے بغیر براہ راست پاکستانی روپے میں تبدیل کرکے مالیاتی کرنسی کے نئے انتظامات کے نفاذ کے ساتھ، چینی سرمایہ کار 10 ملین روپے کے ہر لین دین پر 0.5 ملین پاکستانی روپے کی بچت کر سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار گوادر میں ہینگینگ ٹریڈ کمپنی کے جنرل منیجر (جی ایم)لیاو لونگ ٹائی نے کیا ۔ گوادر پرو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے طریقہ کار سے ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور مزید سرمایہ کار پاکستان میں بالعموم اور گوادر میں بالخصوص سرمایہ کاری کے لیے آئیں گے۔

پچھلے مالیاتی نظام میں چینی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پہلے آر ایم بی کو امریکی ڈالر میں اور پھر پاکستانی روپے میں تبدیل کرنا پڑتا تھا۔ امریکی ڈالر کی غیر مستحکم قیمت کی وجہ سے، شرح مبادلہ کا نقصان چینی تاجروں کو برداشت کرنا پڑا جس سے وہ پریشان رہتے تھے۔ نئے آر ایم بی ،روپے کے براہ راست تبادلوں کے طریقہ کار نے آخر کار چینی سرمایہ کاروں کے لیے نقصان کو ختم کر دیا ہے۔

گوادر پرو کے مطابق پاکستان میں سیکڑوں چینی کمپنیاں توانائی، ٹیلی کام، آٹوموبائل، زراعت، ادویات، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر، صنعت اور بہت سے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ ہینگینگ ٹریڈ کمپنی کے جی ایم لیاو لونگٹائی ان ہزاروں چینی حکام میں شامل ہیں جنہوں نے اس ترقی کو ایک واٹرشیڈ لمحہ قرار دیا ہے جو پاک چین تجارت کو متحرک کرنے جا رہا ہے۔

اس پیش رفت نے سی پیک منصوبوں میں نئی سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھنے والے ممکنہ چینی کاروباری اداروں کے درمیان ہچکچاہٹ کے احساس کو بھی ختم کر دیا ہے۔ ماضی میں ان کے بڑے خدشات میں سے ایک پاکستان میں غیر متوقع شرح مبادلہ کی وجہ سے مالی نقصانات تھے۔

پیپلز بینک آف چائنا (PBOC) اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان تعاون کی یادداشت کے مطابق، پی بی او سی نے انڈسٹریل اینڈکمرشل بینک آف چائنا (ICBC) کی کراچی برانچ کو پاکستانی آر ایم بی کلیئرنگ بینک کے طور پر کام کرنے کا اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے، ۔ پی بی او سی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ یہ سپروائزری اور ریگولیٹری ذمہ داریاں نبھائے گا۔

آئی سی بی سی کے حکام نے چینی قونصلیٹ کراچی اور بینک آف چائنا کے سینئر حکام کے ساتھ اس ہفتے گوادر کا دورہ کیا تاکہ سی پیک منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔گوادر پرو کے مطابق لاہور اوورسیز چائنیز ایسوسی ایشن کے صدر لو جیانکسو نے کہا کہ چینی اور پاکستانی کرنسیوں کے براہ راست تبادلے سے کیپٹل ایکسچینج کی لاگت میں بچت ہو سکتی ہے اور اب امریکی ڈالر کی شرح تبادلہ میں تبدیلی سے متاثر نہیں ہوں گے۔

گوادر پرو کے مطابق لاہور میں چینی قونصلیٹ کے کمرشل قونصلر یان یانگ نے کہا کہ 13 جولائی 2021 کو چین اور پاکستان نے 30 ارب آر ایم بی (730 ارب روپے) کے پیمانے کے ساتھ دو طرفہ کرنسی سویپ معاہدے کی تجدید کی۔ یہ اچھی بات ہے کہ پاکستان آریم بی سیٹلمنٹ کلب میں داخل ہو گیا ہے کیونکہ بیلٹ اینڈ روڈ ممالک کے ساتھ چین کی آریم بی سیٹلمنٹس 2021 میں 5.42 ٹریلین یوآن (763.4 بلین امریکی ڈالر)رہی جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 19.6 فیصد زیادہ ہے۔

پیپلز بینک آف چائنا کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ 2021 میں چین کے آریم بی کے کل سرحد پار استعمال کا 14.8 فیصد تھا۔گوادر پرو کے مطابق 2021 کے آخر تک، چین نے بیلٹ اینڈ روڈ ے منسلک 22 ممالک کے ساتھ دو طرفہ کرنسی کے تبادلے کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے اور بیلٹ اینڈ روڈ کے سے منسلک آٹھ ممالک میں آر ایم بی کلیئرنگ کے انتظامات قائم کیے تھے۔

گوادر پرو کے مطابق پاکستانی حکومت سی پیک کے سرمایہ کاروں، خاص طور پر گوادر فری زون میں کمپنیوں کے لیے آر ایم بی میں کام کرنے کے لیے ایک آپشن پر غور کر رہی تھی تاکہ انہیں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی گراوٹ سے ہونے والے مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔

یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب سی او پی ایچ سی ایل کے چیئرمین چانگ باوچونگ نے چند ماہ قبل گوادر کے اقدامات پر وفاقی سٹیئرنگ کمیٹی کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کو کرنسی کی قدر میں کمی سے متعلق گوادر میں چینی سرمایہ کاری کے خدشات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے درخواست کی کہ چینی سرمایہ کاروں کو ان کی سرمایہ کاری کی رقم کو روپوں میں تبدیل کیے بغیر گوادر فری زون میں آرایم بی میں اکاونٹس برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے۔

گوادر پرو کے مطابق قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)کو ہدایت کی کہ وہ چین اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کے لیے آر ایم بی اور روپے کے استعمال کے لیے انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا (ICBC) اور بینک آف چائنا کے ساتھ اجلاس بلائیں۔گوادر پرو کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کو یہ ہدایات رواں سال 30 مئی کو چینی تاجروں سے ملاقات کے دوران دیں۔

چینی کرنسی میں تجارت کے فروغ کے لیے پہلے مرحلے میں ایک پائلٹ پروجیکٹ متعارف کرایا جائے گا جس میںآر ایم بی قیمتوں کا تعین’ شامل ہے۔ دوسرے مرحلے میںآرایم بی کی تصفیہ اور مالیاتی پالیسیوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق، دونوں ممالک کی کرنسیوں کی شرح تبادلہ چائنا فارن ایکسچینج ٹریڈنگ سسٹم (سی ایف ای ٹی ایس)اور چین اور پاکستان میں سرحد پار کرنسی مارکیٹ کے طور پر اعلان کردہ مجاز بینکوں میں طے کی جائے گی۔