مالاکنڈ ڈویژن گرینڈ جرگہ

176

پاکستان میں قومی زندگی کے مسائل کے ساتھ مختلف علاقوں کے خصوصی مسائل بھی شہریوں کے لیے مشکلات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ انہیں مسائل میں صوبہ خیبر پختون خوا، اور قبائلی علاقے بھی شامل ہیں۔ یہ خطہ امریکی وار آن ٹیرر اور فوجی آپریشن کی وجہ سے خصوصی طور پر متاثر ہوا ہے۔ ان مسائل کا اظہار ایک گرینڈ جرگہ نے کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی صدارت میں مالاکنڈ کے مسائل کے بارے میں گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں مالاکنڈ ڈویژن کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ گرینڈ جرگہ نے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جس میں اس علاقے کو ٹیکس فری زون قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سراج الحق نے تفصیل کے ساتھ اس خطے کے مسائل پر روشنی ڈالی۔ اس خطے کے باشندوں نے بدامنی، دہشت گردی، فوجی آپریشن، داخلی ہجرت اور سیلابوں کی صورت میں تباہی دیکھی ہے جس نے عوام کی معیشت تباہ کردی ہے۔ جرگے نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ہیت مقتدرہ کی طرف سے پیدا کردہ مشکلات، خصوصاً امن وامان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 2005ء کے زلزلے کے بعد عسکریت پسندوں نے مالاکنڈ ڈویژن میں ڈیرے ڈال دیے، امن وامان کی خراب صورت حال کی وجہ سے قریباً ایک عشرے تک کاروبار زندگی معطل ہو کے رہ گیا۔ 2010ء میں تباہ کن برف باری اور سیلاب نے معیشت کو نقصان پہنچایا۔ 10 سال تک فوجی آپریشن نے معاشی سرگرمی کو معطل رکھا، ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اب ایسے ٹیکس قوانین نافذ کیے جارہے ہیں جس پر وہاں کے عوام کو تشویش ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن کی تمام سیاسی سماجی تنظیموں نے اپنے مطالبات حکومت سے منظور کرانے کے لیے عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ خطہ قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ سیاحت کے اعتبار سے بھی امکانات بھرپور ہیں۔ سیاحت کے لیے سہولتیں فراہم کرکے زرمبادلہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن کے بیش تر مسائل کی جڑ طرزِ حکمرانی میں ہے۔ بالخصوص فوجی آپریشن نے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ اس خطے کے باشندوں نے بیک وقت دہشت گردی اور ریاستی جبر دونوں کا بیک وقت مقابلہ کیا ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال اس خطے کے عوام کے مسائل حل کرنے میں حکومتوں نے ہمیشہ ناانصافی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور کیا ہمارے حکمران اس خطے کے باشندوں کی آواز سنیں گے؟