اسمبلی میں کسی صورت واپس نہیں جائیں گے، عمران خان

206
targeted

اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آڈیو لیک کو الیکشن کمیشن اور (ن) لیگ کی ملی بھگت کا ثبوت قرار دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے پھر استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے  کہا کہ اسمبلی میں کسی صورت واپس نہیں جائیں گے ،لانگ مارچ کیلئے پوری تیاری کے ساتھ آرہے ہیں، عوام کا سمندر اسلام آباد پہنچے گا۔

عمران خان نے کہاکہ  کوئی روک نہیں سکتا، پہلے ہمیں پتا نہیں تھا کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگا لیکن اب اندازہ ہے،ہم نے پہلے دن سے کہا تھا کہ ہماری حکومت جمہوری نہیں بلکہ کرمنل ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ  چیف الیکشن کمشنر اور جسٹس فائز عیسی سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی،چیف الیکشن کمشنر سیاسی انجینئرنگ کرنے والوں کا آلہ کار ہے، چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش ہوکر ڈر ہے ایسا کچھ نہ کردوں کہ مجھے جیل بھیج دے، انتخابات کے دوران اندرون سندھ میں سب بڑا انقلاب آئے گا، اندرون سندھ پیپلز پارٹی اب کامیاب نہیں ہوسکتی۔

عمران خان نے کہا کہ سائفر کو پھر زندہ کرنے پر حکومت کا مشکور ہوں، سائفر میں واضح لکھا ہے کہ عمران خان کو ہٹایا جائے، سائفر سے فائدہ اٹھانے والے اس کی تحقیقات کیسے کرسکتے ہیں؟توشہ خان کے معاملے پر انہوں نے حکومت کو تحقیقات کا چیلنج دے دیا اور کہا کہ چیلنج کرتا ہوں کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم عام انتخابات کی طرف جائیں گے، ضمنی الیکشن میں جتنی بھی دھاندلی کرلیں ہم ہی کامیاب ہوں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ زیادہ دور نہیں ہے، لانگ مارچ کے لیے پوری تیاری کے ساتھ آ رہے ہیں، پہلے ہمیں پتا نہیں تھا کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگا لیکن اب ہمیں اندازہ ہے، عوام کا سمندر لانگ مارچ میں آئے گا جسے کوئی نہیں روک سکتا۔