ناظم جوکھیو قتل کیس میں صلح نامہ

264

پاکستانی نظام انصاف کے ایک اور شاہکار ناظم جوکھیو قتل کیس میں فریقین کے مابین صلح نامہ سامنے آ گیا ہے جس کے مطابق مقتول ناظم جوکھیو کی والدہ اور بیوہ نے ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج ملیر کی عدالت میں جمع کروائے گئے صلح نامے میں مقتول کے ورثاء نے کہا ہے کہ ناظم جوکھیو کے قاتلوں کو اللہ تعالیٰ کے نام پر معاف کر دیا ہے اور اب وہ قتل کے چھ ملزمان میں سے کسی کے بھی خلاف کیس چلانا نہیں چاہتے، عدالت ان کو بری کر دے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ اس ضمن میں حقائق یہ ہیں کہ گزشتہ سال نومبر میں ناظم جوکھیو کو ملیر میمن گوٹھ میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا ورثا نے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جام کریم، رکن صوبائی اسمبلی جام اویس سمیت چھ افراد کو نامزد کیا تھا جو اس وقت جیل میں ہیں اور عدالت نے کیس کی سماعت پندرہ اکتوبر تک ملتوی کر رکھی ہے۔ ورثاء کی طرف سے صلح اور معافی نامہ کے بعد بظاہر ملزمان کی رہائی میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ یہ اس نوعیت کا پہلا صلح نامہ نہیں، اثر و رسوخ اور طاقت رکھنے والے ملزمان سے متعلق اس طرح کے معافی نامے ہمارے نظام انصاف میں ایک معمول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس اور ساہیوال کے قریب سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کے ہاتھوں گاڑی سوار خاندان کا سفاکانہ قتل اور پھر ورثاء کی جانب ملزمان کی معافی کے اعلانات اس ضمن میں نادر مثالیں ہیں۔ جہاں تک ناظم جوکھیو قتل کیس کا تعلق ہے اس میں مرحوم کی بیوہ کی جانب سے ایک سے زیادہ بار یہ دہائی دی گئی ہے کہ اس پر ناظم کے قتل کیس کی پیروی نہ کرنے کے لیے دبائوڈالا جا رہا ہے اور دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں مگر اس کی یہ آہ و بکا کسی نے نہ سنی۔ ان حالات میں ناظم جوکھیو کا غریب، مجبور، بے بس اور بے کس خاندان صلح نہ کرتا تو آخر کیا کرتا…؟؟؟