عدلیہ میں شگاف

361

حصہ اوّل
عدلیہ اور بار کونسل کی کارکردگی پہ غور کیا جائے تو یہ شعر ذہن میں گونجنے لگتا ہے۔
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی
ایک عزیز کی بہاولپور ہائی کورٹ میں پیشی تھی حسب معمول ہم بھی ان کے ساتھ گئے تھے صبح نو بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک ایمرجنسی مقدمات کی سماعت ہوئی پھر چائے کا وقفہ ہوا اور جسٹس صاحب چیمبر میں چلے گئے بابا جی نے ریڈر سے پیشی کے بارے میں دریافت کیا اس نے نمبر پوچھا اور کہا کہ کل دفتر سے معلوم کرنا کیونکہ مخالف وکیل نے Adjourment کی درخواست دی۔ اس لیے پیشی منسوخ کر دی گئی ہے۔ یہ سنتے ہی بابا جی کا بلڈ پریشر ہائی ہوگیا انہوں نے کہا گزشتہ پیشی پر بھی یہی واردات ہوئی تھی۔ چھے ماہ تک پیشی ہی نہ لگی ہائی کورٹ سے فون کرایا تب پیشی لگی ہے۔ بیس سال سے دھکے کھا رہا ہوں سول کورٹ اور سیشن کورٹ عدم ثبوت کی بنیاد پر مقدمہ خارج کر چکی ہے اس کے باوجود ہائی کورٹ نے مدعی کو لے پالک بنایا ہوا ہے۔
یہ مقدمہ گزشتہ نو برس سے ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے مگر کسی بھی پیشی پر سماعت نہیں ہوئی مخالف پارٹی کا وکیل نو سال میں انیس بار بھی پیش نہیں ہوا اور اگر کبھی پیشی پر آبھی جائے تو پیشی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جسٹس صاحبان خوش دلی سے اس کی فرمائش پر پھولوں والی قمیص پیش کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ گمان ہونے لگتا ہے جیسے مخالف
وکیل عدالت کا جوائی ہے۔ بابا جی کے تیور دیکھ کر ہمیں یہ خدشہ ستانے لگا کہ ان کا برین ہیمریج نہ ہو جائے ہم نے ریڈر سے معذرت کی اور بابا جی کو کمرئہ عدالت سے باہر لے آئے ٹھنڈا پانی پلایا اور کہا عدالت کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں۔ مگر جج اور جسٹس صاحبان قانونی موشگافیوں کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ وکیل کی فرمائش پر پھولوں والی قمیص پیش نہ کریں تو وکلا ان کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اور بار کونسل تبادلے کا مطالبہ کرتی ہے عدالتی نظام کو بر قرار کھنے کے لیے جج اور جسٹس صاحبان کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے۔ تبادلے کی صورت میں گھر کا سارا نظام ہی تہس نہس ہو جاتا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی تعلیم کا ہوتا ہے اور یہ مسئلہ ہر مسئلے پر غالب آجاتا ہے۔ یہ سن کر بابا جی نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ پیشی در پیشی کا ابلیسی کھیل اور شیطانی چکر چلتا رہے گا۔ نہیں ایسا نہیں ہوگا اگر مخالف وکیل اسی طرح تاخیری حربہ بروئے کار لاتا رہے گا۔ تو بالآخر ایک دن تمہاری فائل کو سرخ جوڑا پہنا دیا جائے گا جسے دیکھ کر مخالفت وکیل کی آنکھیں چندھیا جائیں
گی اور چند پیشیوں میں تمہارا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ مگر مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جب تک میری سانسوں کی ڈوری چل رہی ہے یہ مقدمہ بھی چلتا رہے گا۔ کیونکہ مخالف وکیل جب بھی پیش ہو گا جسٹس صاحب سے کہے گا میری طبیعت ناساز ہے بحث نہیں کر سکتا۔ کبھی کہے گا بیوی بہت بیمار ہے اسے اسپتال لے کر جانا ہے کبھی کہے گا بیٹی کی طبیعت بہت خراب ہے اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے اور کبھی آئوٹ آف اسٹیشن ہونے کی درخواست دے دے گا۔ اگر کوئی جسٹس قانون کا احترام کرتے ہوئے پیشی پیشی کے کھیل کو مسترد کر دے تو وکیل اس کی عدالت میں پیش نہیں ہو گا۔ اور بار کونسل تبادلے کا مطالبہ کر دے گی عدالتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے جج اور جسٹس صاحبان کا تبادلہ کر دیا جائے گا۔ ہم نے بہت سمجھایا مگر بابا جی ہماری کسی دلیل سے متاثر نہ ہوئے۔ بلکہ موصوف نے ایک دھماکا خیز بیان داغ دیا ارشاد ہوا یہ سب لوگ چھولے دے کر پاس ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا ایسا نہیں ہے میرے محترم بزرگ ایسا ہی ہے بابا جی کا پارہ چڑھ گیا ان کے بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے ہم نے کہا، اچھا یہ بتائو بابا جی آپ نے کبھی کسی ریڑھی پرنان چھولے کھائے ہیں۔ یہ کیسا احمقانہ سوال ہے بابا جی چلائے، ہر بندہ کبھی نہ کبھی نان چھولے ضرور کھاتا ہے تم نے بھی کھائے ہوں گے، بالکل کھائے ہیں ہم نے کہا آپ نے ریڑھی کے پاس گاہکوں کے بیٹھنے کے لیے بینچ وغیرہ تودیکھی ہوں گی۔ یہ کیسی فضول باتیں کر رہے ہو بابا جی نے کہا۔ اگر ریڑھی والا بیٹھنے کا بندوبست نہ کرے تو چھولے کھانے کے لیے کون جائے گا؟ جواباً بابا جی نے کہا اچھا یہ بتائو تم کہنا کیا چاہتے ہو۔ ہم نے کہا بزرگو! ہم یہ کہنا چاہتے ہیں ان لوگوں کا چھولوں سے کوئی تعلق نہیں تم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو، بابا جی نے پوچھا ہم نے کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ لوگ چھولے دے کر پاس ہوتے تو چھولے والے کا رویہ بھی اپناتے عدالتوں میں آنے والوں کے بیٹھنے کا انتظام بھی کرتے جج اور جسٹس صاحبا ن کو آپ کی بزرگی کا کوئی احساس ہے نہ خیال ہے مگر پیشی پہ آنے والا ایک شخص آپ کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اور زبردستی آپ کو اپنی جگہ پر بیٹھا دیا تھا۔ کیونکہ آپ کی انا آڑے آرہی تھی۔
عدالتوں میں سو ڈیڑھ سو، کبھی کبھی دو سو مقدمات کی فائلیں میں جج اور جسٹس صاحبان کے سامنے رکھ دی جاتی ہیں۔ جن کی باقاعدہ سماعت ممکن ہی نہیں۔ اس لیے پیشی در پیشی کا ابلیسی رقص عدالتوں کی رونق بڑھانے کا سبب بنا رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عدالتیں تھیٹر ہیں جہاں ڈراما دیکھانے سے پہلے ناظرین کو ناچ گانے میں الجھایا جاتا ہے تھیٹر میں ڈرامے کا ڈراپ سین ضرور دکھایا جاتا ہے مگر عدالتیں ڈراپ سین دیکھانے کا تکلف نہیں کرتیں ان کا نسب العین فریادی کی سسکیوں اور چیخ پکار سے ذہنی سکون کشید کرنا ہوتا ہے۔