عدالت عالیہ میں عمران خان کی معافی طلبی

304

تحریک انصاف کے سربراہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خلاف توہین عدالت کے مقدمہ میں عدالت میں پیش ہو کر معافی مانگ لی ہے خاتون جج کو دھمکی دینے کے معاملہ میں عدالت عالیہ اسلام آباد میں جمعرات کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جانا تھی کیونکہ قبل ازیں ان کی جانب سے عدالت عالیہ میں داخل کئے گئے دو تحریری بیانات کو عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دے دیا تھا تاہم جمعرات کو جب اسلام آباد عدالت عالیہ کے منصف اعلیٰ جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل پانچ رکنی وسیع تر بنچ نے سماعت شروع کی تو عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عمران خان بات کرنا چاہتے تھے لیکن اجازت نہیں ملی جس پر عدالت نے عمران خان کو بولنے کی اجازت دے دی تو عمران خان نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں نے 26 سال قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی میرے علاوہ کوئی بھی جلسوں میں قانون کی حکمرانی کی بات نہیں کرتا میں نے عدالتی کارروائی کے دوران محسوس کیا ہے کہ میں نے ’سرخ لکیر‘ عبور کر لی ہے، میرا ضلعی عدلیہ کے ججوں کو دھمکی دینے کا ارادہ کبھی نہیں تھا، اس بیان سے میرا مقصد قانونی کارروائی تھا، میں عدالت کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ میں وضاحت کے لیے تیار ہوں، میں نہ میری جماعت ضلعی جج کے خلاف تھی میں نے اگر ’سرخ لکیر‘ عبور کی تو اس کے لیے معافی مانگنے پر تیار ہوں، عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا جو میں نے کہا جان بوجھ کر نہیں کہا آئندہ کبھی عدلیہ سے متعلق ایسا بلکہ خاص طور پر ماتحت عدلیہ کے حوالے سے نہیں ہو گا۔ عدالت کے اطمینان کے لیے مزید اقدامات کرنے پر بھی تیار ہوں۔ اس کے بعد منصف اعلیٰ اطہر من اللہ نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی ہمارے لیے کبھی پسندیدہ عمل نہیں رہا مگر جس پر بات کی گئی وہ کیس زیر التوا تھا اس لیے ہم نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی۔ ہم فرد جرم کی کارروائی روک رہے ہیں اگر آپ کو غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو عدالت اس کو سراہتی ہے۔ عدالت نے عمران خان کو 29 ستمبر تک بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے توہین عدالت کیس کی مزید سماعت تین اکتوبر تک ملتوی کر دی، خاتون جج کے پاس جانے سے متعلق عدالت نے کہا کہ یہ آپ کا ذاتی فیصلہ ہو گا اگر آپ کو غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور معافی کے لیے تیار ہیں تو یہ کافی ہے، آپ نے اپنے بیان کی سنگینی کو سمجھا ہم اس کو سراہتے ہیں، آپ تحریری بیان حلفی داخل کریں پھر عدالت جائزہ لے گی…!
عمران خان قومی سطح کے سیاسی رہنما اور ملک کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ عدالت عالیہ اسلام آباد میں ان کے خلاف جاری توہین عدالت کی کارروائی اور اب تک اس معاملے میں ان کے طرز عمل سے ان کے خلاف خطرے اور نا اہلی کی جو تلوار لٹک رہی تھی، جمعرات کے روز عدالت عالیہ میں ان کے غلطی کے اعتراف، اور ندامت کے اظہار کے بعد عدالت کی جانب سے اس پر اظہار اطمینان سے بظاہر اب یہ خطرہ ٹل گیا ہے اور فرد جرم عائد کئے جانے کی کارروائی فی الحال روک دی گئی ہے، یہ پیش رفت خوش آئند ہے کہ عمران خان نے آخر عدالت سے معافی مانگ لی ورنہ گزشتہ دو سماعتوں کے دوران معاملہ جو رخ اختیار کر گیا تھا اس کے مضمرات عمران خان کے لیے بہت سنگین ہوسکتے تھے اور اس کے نتیجے میں عمران خان پر ایک طویل عرصے کے لیے سیاست کے دروازے بند ہو سکتے تھے اس ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا یہ پہلا موقع نہیں تھا وہ قبل ازیں بھی عدالت سے متعلق ’’شرمناک‘‘ کا لفظ استعمال کرنے پر اس قسم کی کارروائی کا سامنا کرتے رہے ہیں تب بھی انہوں نے آخر کار ’غیر مشروط معافی‘ ہی کے ذریعے اپنی غلطی کا ازالہ اور اپنی جان بخشی کا سامان کیا تھا۔ توقع تھی کہ اس کے بعد وہ عدالت میں اپنے وعدہ کے مطابق محتاط رویہ اختیار کریں گے مگر اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ جوش خطابت میں فاضل عدالتوں اور دوسرے محترم آئینی و قانونی اداروں سے متعلق غیر محتاط زبان اور غیر ذمہ دارانہ الفاظ استعمال کر جاتے ہیں، انہیں سوچنا چاہئے کہ جلسوں میں وہ اپنے مد مقابل سیاسی رہنمائوں کو جس طرح کے القابات سے نوازتے ہیں اور آئینی قومی اداروں کے اہم مناصب پر موجود لوگوں کو جس طرح مخاطب کرتے ہیں کیا یہ ایک قومی رہنما کے شایان شان ہے۔ باہم ایک دوسرے کی عزت و احترام کا خیال رکھنا اور ریاستی اداروں کی توقیر پر حرف نہ آنے دینا ہر قومی سیاسی رہنما کی ذمہ داری ہے یہ جمہوریت کے استحکام کا بھی لازمی تقاضا ہے جس کا عمران خان سمیت تمام سیاسی قائدین کو خیال رکھنا چاہئے، اپنے ماضی کے رویہ پر اظہار ندامت کے بعد عمران خان اگر عدالتی سزا سے محفوظ رہتے ہیں تو یہ ان کی خوش قسمتی ہو گی ورنہ وطن عزیز میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ’’توہین عدالت‘‘ کے جرم میں ملک کے وزیر اعظم کو نہ صرف اپنے منصب سے محروم ہونا پڑا بلکہ برسوں کے لیے عملی سیاست سے نا اہلی کی سزا بھی بھگتنا پڑی، اسی طرح کئی رہنمائوں کو اسی جرم میں جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ عمران خان ابھی اس مقدمہ سے مکمل طور پر فارغ نہیں ہوئے، عدالت نے انہیں تحریری بیان حلفی داخل کرنے کی ہدایت کی ہے اس کے لیے 29 ستمبر تک کی مہلت انہیں دی گئی ہے اس تحریری بیان کا جائزہ تین اکتوبر کی سماعت کے دوران لینے کے بعد عدالت اپنا حتمی فیصلہ سنائے گی تاہم جمعرات کی کارروائی کے دوران عدالت نے عمران خان کی جانب سے معافی طلبی اور اظہار ندامت کے بعد جس اطمینان کا اظہار کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر عمران خان نے تحریری بیان حلفی میں کسی نئی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو ان کے خلاف توہین عدالت کا معاملہ بخیر و خوبی نمٹ جائے گا۔ توقع کی جانا چاہئے کہ اس کے بعد جناب عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ اور قومی رہنما کی حیثیت سے آئندہ محتاط طرز عمل کا مظاہرہ کریں گے اور اپنی عوامی تقریروں اور گفت گو میں قومی ریاستی اداروں کی عزت و توقیر کا بہرحال خیال رکھیں گے اور ملکی سیاست میں مثبت روایات کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اگر پارٹی سربراہ غیر محتاج زباں استعمال کرتا ہے تو نیچے اس کے دوسرے رہنما اور کارکن زیادہ تیز زباں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ اسی زبان کا نتیجہ تھا جس نے سعودی عرب میں کام کرنے والے کئی پاکستانیوں کو مشکل میں ڈال دیا تھا اور وہ مسجد اور روضہ رسول ؐ کی حرمت کا پاس بھی نہ کرسکے تھے۔