آرمی چیف پھر موضوع گفتگو

181

پاکستان کے آرمی چیف کے تقرر کے مسئلے پر ذرائع ابلاغ میں نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ نیا آرمی چیف کون ہوگا۔ اس کے تقرر کا اختیار کس کو ہے، کون اس کا حتمی فیصلہ کرے گا۔ گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم عمران خان نے یہ بحث تازہ کردی تھی کہ موجودہ آرمی چیف کو نئی حکومت آنے تک توسیع دے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مفرور شخص کس طرح آرمی چیف کا تقرر کرسکتا ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں بتاسکے کہ مفرور شخص اور ضمانت پر رہا شخص آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کیسے کر سکتا ہے ۔ توسیع تو تقرر سے زیادہ نازک اور حساس معاملہ ہے ۔ عمران خان کے اس بیان کے بعد سے آرمی چیف ایک مرتبہ پھر زیر بحث آگئے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جب عمران خان نے اپنے اقتدار کی خاطر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی تو آرمی چیف زیر بحث آنا شروع ہوگئے۔ لیکن اس وقت معاملہ اتنا شدید نہیں ہوا تھا۔ البتہ اقتدار کے دوران عمران خان نے کئی مرتبہ فوج اور اپنے تعلقات کا دعویٰ کیا یہ کہا گیا کہ فوج پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ ہے۔ بار بار یہ کہنے کے باوجود انہیں اقتدار سے بے دخل کیا گیا تو ان کا لہجہ بدل گیا۔ اب وہ آرمی چیف، فوجی مداخلت اور ایجنسیوں سب کے مخالف بن گئے ہیں لیکن ایک عجیب تجویز پیش کرکے فوج کے سربراہ کو پھر موضوع گفتگو بنادیا دوسری طرف مسلم لیگ (ن) نے بھی نہایت غیر ذمے دارانہ بیان دیا کہ نواز شریف آرمی چیف کے تقرر کا فیصلہ کریں گے۔ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو پھر کوئی اصول، ضابطہ بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ کراچی کے میئر اور ایڈمنسٹریٹر کے تقرر کا اختیار الطاف حسین کو دے دیا جائے۔ ان سب باتوں کے باوجود فوج کے سربراہ کے وقار کا تقاضا یہ ہے کہ موجودہ سربراہ ازخود اپنے وعدے کے مطابق مقررہ وقت پر ریٹائر ہوجائیں پھر وہ موضوع نہیں بنیں گے۔آخر کیا وجہ ہے کہ ملک کے اہم اداروں کے سربراہوں کا معاملہ متنازع ہوتا جا رہا ہے ۔ نئے چیف جسٹس کے تقرر سے متعلق اختلافات ابھی دبے دبے ہیں اسباب تو پیدا کر دیے گئے ہیں ۔ اس سارے معاملے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ لڑائی کسی اور کی ہے اور لڑ کوئی اور رہا ہے ۔