قومی احتساب بیورو کے نئے چیئرمین کا تقرر

233

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پولیس سروس آف پاکستان کے ریٹائرڈ آفیسر آفتاب سلطان کی بطور چیئرمین نیب تقرری کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد وزارت قانون و انصاف نے جناب آفتاب سلطان کی نیب کے چیئرمین کے طور پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے یہ تعیناتی تین سال کے لیے کی گئی ہے جس میں توسیع نہیں ہو سکے گی۔ نئے چیئرمین نیب کے لیے آفتاب سلطان کا نام وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے حکومتی اتحادیوں کی مشاورت سے تجویز کیا اور آئینی تقاضے پورے کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجا ریاض سے بھی مشورہ کیا جنہوں نے وزیر اعظم سے اتفاق کر لیا… قائد حزب اختلاف راجا ریاض اور ان کے وزیر اعظم سے اتفاق کا معاملہ بھی خاصا دلچسپ ہے۔ راجا صاحب 2018ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے مگر چند ماہ قبل جب عمران خاں کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ڈول ڈالا گیا تو وہ وفاداریاں تبدیل کرنے والے اولین لوگوں میں سے تھے، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد جب تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کیا تو راجا ریاض اور ان کے چند ساتھیوں نے پارٹی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں بیٹھنے کا اعلان کیا جس پر آئینی تقاضوں کی تکمیل اور انعام کے طور پر راجا ریاض کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنا دیا گیا حالانکہ وہ تحریک عدم اعتماد کے پیش ہونے سے لے کر منظور ہونے تک اپنی سیاسی جماعت تحریک انصاف اور اس کے سربراہ عمران خان کی ہدایات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے نواز لیگ اور اس کے اتحادیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں نواز لیگ ہی کے ٹکٹ پر حصہ لینے کے دعویدار ہیں۔ گویا وہ ایسے قائد حزب اختلاف ہیں، جنہیں حکومت سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ ان کے مفادات حکومت سے وابستہ ہیں۔ ان حالات میں چیئرمین نیب کے تقرر اور دیگر امور میں بطور قائد حزب اختلاف ان سے مشاورت کی جو حیثیت اور اہمیت ہے، اس کا اندازہ لگانا چنداں دشوار نہیں کہ اس مشاورت کا مطلب آئین و قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں کیونکہ قائد حزب اختلاف، وزیر اعظم کے گھڑے کی مچھلی، کلائی کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ بہرحال وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے مابین مشاورت کا آئینی تقاضا پورا کر لیا گیا ہے اور آفتاب سلطان قومی احتساب بیورو کے چیئرمین بن گئے ہیں ان کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ اس اہم عہدے پر نامزدگی سے قبل کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کیریئر کا آغاز 1977ء میں بطور اے ایس پی پنجاب پولیس کیا۔ وہ آئی جی پنجاب نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمائڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے والد اور ساس دو دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو یوسف رضا گیلانی نے آفتاب سلطان کو ڈی جی آئی بی تعینات کیا بعد میں راجا پرویز اشرف نے انہیں ہٹا دیا تھا۔ 2013ء کے عام انتخابات کے موقع پر آفتاب سلطان آئی جی پنجاب پولیس تھے جب نواز شریف وزیر اعظم بنے تو آفتاب سلطان کو دوبارہ ڈی جی آئی بی لگا دیا گیا۔ اگست 2014ء کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے دھرنا دیا تو آفتاب سلطان نے اسے ناکام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے دھرنے کے دوران کچھ آڈیو ٹیپس پکڑیں جو انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ کافی گرم رہا۔ دھرنے میں عمران خان نے آفتاب سلطان کا نام لے کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ قبل ازیں 2002ء میں پرویز مشرف نے صدر بننے کے لیے ریفرنڈم کرایا تو آفتاب سلطان سرگودھا میں تعینات تھے۔ حکومت نے انہیں جو ہدایات دیں انہوں نے انہیں تسلیم اور ان پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا جس پر مشرف نے انہیں معطل کر دیا۔ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف، آفتاب سلطان کو معاون خصوصی کا عہدہ دینا چاہتے تھے تاہم بعد ازاں چیئرمین نیب کا منصب خالی ہونے پر مسلم لیگ (ن) نے انہیں اس منصب کے لیے موزوں سمجھ کر ان کا نام تجویز کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے جسٹس (ر) مقبول باقر چیئرمین نیب کے لیے پیش کیا گیا تھا مگر ان کی ریٹائرمنٹ کو دو سال مکمل نہ ہونے کے باعث ان کا نام واپس لے لیا گیا۔ جناب آفتاب سلطان نے چیئرمین نیب کا منصب ان حالات میں قبول کیا ہے کہ حکمران اتحاد اس ادارے کے پر کاٹ چکا ہے اور صدر مملکت کے بار بار کے اعتراضات کے باوجود برسراقتدار طبقے نے یکطرفہ طور پر نیب قوانین میں ایسی ترامیم کر دی ہیں جن کے بعد ماہرین آئین و قانون کے مطابق احتساب کے حقیقی تقاضے پورے کرنے کی اہلیت سے محروم کر دیا گیا ہے اور اس کی حیثیت سرکس کے شیر سے زیادہ نہیں رہ گئی۔ جناب آفتاب سلطان کی ذاتی شہرت اگرچہ ایک اچھے افسر کی بتائی جاتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ موجودہ ترمیم شدہ احتساب قوانین کی موجودگی میں کیا وہ حقیقی معنوں میں ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے، بدعنوان عناصر سے نجات دلانے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی موثر کردار ادا کر پائیں گے…؟ آفتاب سلطان کو یہ منصب قبول کرنے سے قبل یہ پہلو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے تھا کہ قومی احتساب بیورو میں پہلے سے وزیر اعظم سمیت شریف خاندان سے وابستہ بہت سے لوگوں کے خلاف بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات زیر التوا ہے جب کہ آفتاب سلطان کے بارے میں اطلاعات یہ ہیں کہ وہ مختلف مواقع پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خاصے قریب رہے ہیں اور بہت سے معاملات میں ان کی ’’خدمت‘‘ بجا لاتے رہے ہیں ایسے میں کیا وہ ماضی کے اپنے تعلقات کو ایک طرف رکھ کر شریف خاندان کا احتساب کر سکیں گے؟ پھر یہ امر بھی اہم ہے کہ آفتاب سلطان کا خاندان سیاسی لحاظ سے بھی شریف خاندان سے وابستہ رہا ہے اور اخباری اطلاعات کے مطابق آفتاب سلطان کے والد اور ان کی مادر نسبتی اس حوالے سے دو دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہو چکے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں ایک دیانتدار اور با اصول شخص کے طور پر جناب آفتاب سلطان کے لیے کیا یہ زیادہ مناسب اور باوقار راستہ نہ ہوتا کہ وہ فراہمی عدل کا یہ نہایت حساس منصب قبول کرنے سے معذرت کر لیتے۔