امریکی سازش تو اب ہے

262

امریکی سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر چارلس شومرنے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے امریکا مخالف بیانات نے پاک امریکا تعلقات خراب کیے۔ امید ہے کہ شہباز شریف صورت حال بہتر بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نے امریکا کے لیے اچھی باتیں نہیں کیں ہم بھارتی مسلمانوں پر انڈین حکومت کے مظالم اور کشمیریوں کے حقوق کے بھی حامی ہیں پاک امریکا تعلقات کی بہتری کے لیے ہرممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہوں۔ چارلس شومر نے پاکستانی حکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش کے نظریہ کی گھما پھرا کر تردید کی۔ صرف اتنا کیا کہ امریکی حکومت کی تردید کے بارے میں ہاں کہہ دیا جبکہ وہ بار بار سابق حکومت سابق وزیراعظم کی تکرار کرتے رہے۔ تقریب کے منتظمین چوں کہ پاکستانی تھے اس لیے گھبراہٹ میں تقریب ختم کردی۔ ان کے اس بیان سے شہباز حکومت، عمران خان اور خود امریکا تینوں فائدہ اٹھائیں گے۔ پاکستانی حکومت اور اپوزیشن کچھ بھی کہتی رہے اصل قابل غور بات امریکی مفاد ہے اور سینئر چارلس شومر نے اس کا اشارہ بھی دے دیا ہے کہ اگر عمران خان دوبارہ اقتدار میں آگئے تو ان سے ڈائیلاگ کریں گے۔ گویا بیانات مسئلہ نہیں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے تو اب بھی عمران خان سے ڈائیلاگ کرلیتے تعلقات کیسے خراب ہوگئے۔ عمران خان اور ان کی پارٹی اس بئان کو امریکی سازش کی تصدیق قرار دیں گے اور شہباز شریف اور حکومت اسے اپنی کامیابی تصور کرتے رہیں گے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکیوں نے آئندہ کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کردی ہے۔ شہباز کو چمکار کر پشت پر ہاتھ پھیرا جارہا ہے اور پی ٹی آئی کے موقف کی تائید کی جارہی ہے۔ امریکی سینیٹر بتائیں کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اور اس سے پہلے اور بعد میں بھی امریکا مخالفت میں سب سے توانا آواز جماعت اسلامی اور مجلس عمل کی تھی۔ تو اس وقت تعلقات کیوں خراب نہیں ہوئے۔ صوبہ سرحد میں مجلس عمل کی حکومت تھی کراچی میں جماعت اسلامی کا سٹی ناظم تھا۔ پشاور میں نائب ناظم تھا قاجی حسین احمد اور منور حسن امریکا کے خلاف تحریک چلے تھے لیکن ایک دن بھی تعلقات خراب نہیں ہوئے بلکہ اسی دور میں پاکستان امریکا کا فرنٹ لائن اتحادی بنا کے پی کے کی سابق حکومت کے وزیر خزانہ سراج الحق امیر جماعت بنے اور امریکا مخالف بیانات دیتے رہے امریکا کا کوئی تعلق خراب نہیں ہوا۔ یہ عمران خان کے سابق ہوتے ہی تعلقات کی خرابی کا اعلان دراصل عمران خان کی حمایت ہے۔ یہ شہباز شریف یا پاکستان سے محبت کا اظہار نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے بیانات یا لیڈر کے بیانات سے ملکوں کے تعلقات خراب نہیں ہوتے۔ عمران خان حکومت بھی امریکا سے وہی تعاون کررہی تھی جو پچھلے حکمران کرتے آرہے تھے اور اب نئی حکومت بھی وہی کررہی ہے۔ کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ شہباز حکومت کو تو سینیٹر چارلس کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے کہ گڑے مردے نہ اکھاڑے جائیں۔ خود کئی امریکی سینیٹرز پاکستان پر بمباری اور زبردستی ایٹمی اثاثوں پر قبضے کے بیانات دے چکے کبھی امریکی حکومت نے ان بیانات کا نوٹس لیا۔ چارلس شومر بچے نہیں ہیں اور امریکا کوئی بنانا ریپبلک نہیں ہے کہ کسی کے بیانات سے تعلقات خراب ہوجائیں گے۔ کبھی کینیڈین سفیر کچھ کہہ دیتا ہے کبھی سینیٹر چارلس کچھ بول دیتے ہیں اصل ہدف تو پاکستان ہے۔ اگر امریکا پاکستان تعلقات کا حساب کیا جائے تو 70 سال میں پاکستان کو صرف نقصان ہی ہوا ہے۔ کون سا ایسا فائدہ ہے جو پاکستان کو ہوا اور کسی دوسرے ملک کو نہیں ہوا۔ بلکہ الٹا پاکستان کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک، فیٹف کی گرے لسٹ اور دیگر پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اب بھی گرے لسٹ کی تلوار لٹک رہی ہے۔ امریکی حکمران پارٹی کے نمائندے کہتے ہیں کہ ہم بھارتی حکومت کے مسلمانوں کے خلاف طالمانہ سلوک کے خلاف ہیں تو پھر اس سے معاہدے دور فوجی تعاون کیوں ہورہا ہے۔ کشمیریوں کی حمایت کا مطلب محض بیان نہیں ہوتا۔ امریکا اپنا رسوخ کیوں استعمال نہیں کرتا۔ جس طرح پاک امریکا تعلقات کے حق میں بیانات کا حقائق سے تعلق نہیں اس طرح عمران خان کے امریکا مخالف بیانات اور حقائق دو الگ چیزیں ہیں ان کی حکومت نے پورے چار سال امریکا سے بھرپور تعاون کیا ہے۔ یہ بیان محض سیاسی ہے اور چارلس شومر کا بیانیہ بھی سیاسی ہے۔