بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو میدی

189

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا معاشی مستقبل سی پیک سے وابستہ ہے۔ یہ وابستگی شروع ہوئے کم و بیش 6 سال ہونے کو ہیں لیکن ملک کے معاشی حالات تنگ ہی ہوتے جارہے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ چھوٹے سے پیمانے پر بھی کوئی خود محنت کرکے عوام کو کما کر نہیں دیتا تو کوئی ملک کیوں آپ کی ہمدردی میں اس قدر محنت کرے گا۔ دنیا کا ہر ملک اپنے مفاد کے لیے سارے کام کرتا ہے، مال لگاتا ہے اور پھر اس کا فائدہ سمیٹتا ہے، کون سا ملک ایسا کرتا ہے کہ دوسروں کو پیروں پر کھڑا کرکے اپنے برابر لے آئے، خصوصاً پاکستان جیسا ملک جس کی بنیاد اسلامی نظریہ ہو، ایٹمی قوت ہو اسے کوئی طاقتور نہیں بنانا چاہے گا۔ برسہا برس امریکا، فرانس، یورپ اور عالمی بینک، آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت کومعاشی مستقبل سے وابستہ رکھا لیکن ملک ترقی کرنے کے بجائے محتاج ہوتا چلا گیا۔ گویا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی… شہباز شریف صاحب اسی پارٹی کے نمائندے ہیں جس نے پہلے بھی اسلامی معاشی نظام کو مسترد کیا تھا اور سود کی حرمت کو چیلنج کیا تھا اور آج پھر اسی کی چھتری تلے ملک سودی نظام کے حق میں اپیلیں کررہا ہے۔ پاکستان کا سماجی، معاشی اور خوشحالی کا مستقبل صرف اور صرف اسلامی نظام میں ہے۔ ہر در پر سر پھوڑنے کے بعد تو عقل آجانی چاہیے، ان کے لیے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نو میدی۔ مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے۔ اللہ نے توقرآن پاک میں جگہ جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ استغفار کرو ، توبہ کرو تو زمین کے نیچے سے اور اوپر سے تمہارے لیے رزق اُبلنے لگے گا ۔لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے قرآن اور حدیث پر یقین نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے ۔ جب وہ اس قدر ڈھٹائی پر اُتر آئیں گے تو ان میں اور کفار قریش میں کیا فرق رہ جاتا ہے ۔ وہ بھی سود اور منافع کو یکساں خیال کرتے تھے اور یہ بھی۔اللہ کی طرف سے برکتوںکی بشارت کے ساتھ ساتھ وعیدیںبھی ہیں اور آخری چیز تو یہی ہے کہ اللہ نے صاف فرما دیا ہے کہ اگر تمہیں دنیا بھر کی چیز یں زیادہ عزیز ہیں تو اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو ۔ ایک بار پھر عوام کو سوچنا ہو گا کہ مہنگائی کے بجائے سود کے مسئلے پر سڑکوں پر نکلیں اور نتائج کی پرواہ نہ کریں ۔ ورنہ اللہ تعالیٰ جس نے انعام میں یہ ملک دیا ہے ‘وہ اسے چھین بھی سکتا ہے ۔