پاکستان۔ آئی ایم ایف اور فیٹف کے شکنجے میں

296

حکومت میں آنے سے قبل موجودہ وزیراعظم قائد حزب اختلاف کے منصب پر فائز تھے اس وقت وہ میثاق معیشت کی حکومت کو دعوت دیتے تھے۔ لیکن کبھی انہوں نے میثاق معیشت کی تفصیل سے آگاہ نہیں کیا تھا، اب وہ اتحادی حکومت کے وزیراعظم ہیں جس میں سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور چند دو ایک جماعتوں کے سوا تقریباً تمام جماعتیں مخلوط حکومت میں شامل ہیں، ان کی حکومت ابھی تک پاکستان کو درپیش اقتصادی بحران کا کوئی حل پیش نہیں کرسکی ہے۔ 10 جون کو وفاقی بجٹ قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جاچکا ہے، لیکن اس کی حتمی منظوری کے حالات نہیں بن سکے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ابھی تک آئی ایم ایف نے بجٹ کی منظوری نہیں دی ہے۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد خود وزیراعظم میاں شہباز شریف کو ذرائع ابلاغ سے اقتصادی و معاشی بحران پر بات کرنا پڑی ہے، لیکن ان کی گفتگو میں ایک ہی بات دہرائی گئی ہے کہ سابق حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے حکومت کو خطرناک اقتصادی چیلنج درپیش ہیں۔ جس کی وجہ سے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے یہ دعویٰ تو ضرور کیا ہے کہ غریب آدمی کا بوجھ بانٹیں گے اور صاحب ثروت افراد پر ٹیکس لگائیں گے، لیکن ٹیکس کے نظام کی اصلاحات کے بارے میں کوئی بڑا انقلابی منصوبہ ا بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ اخبارات میں باخبر ذرائع کے حوالے آئی ایم ایف سے مذاکرات کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق تنخواہ یافتہ طبقہ پر سالانہ انکم ٹیکس میں استثنا کی حد میں اضافے کے بجائے سابقہ حد پر واپس کردیا گیا ہے ، گویا 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرنے والے کو بھی انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جب کہ کم از کم تنخواہ 25ہزار روپے مقرر ہے ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ہر آدمی کی قوت خرید کم ہوگئی ہے۔ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے مقامی نمائندے سے مذاکرات کیے ہیں، آئی ایم ایف سے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ ذرائع کے مطابق حکومت نے پٹرولیم کی مصنوعات میں جولائی سے مرحلہ وار لٹر 50روپے فی لٹر لیوی لگانے کا وعدہ کرلیا ہے۔ پہلی قسط 10 روپے فی لٹر جولائی سے پھر اگست سے 5 روپے فی لٹر لیوی عائد ہوگی اور اسے مارچ 2023ء تک بڑھا کر 50 روپے فی لٹر کیا جائے گا۔ معاہدے کے مطابق وزیر خزانہ نے محصولات میں اضافے کے لیے کئی اقدامات کو تسلیم کیا ہے، اسی طرح بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافے کا حکم ماننے پر مجبور ہے۔ حکومت قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت کسی بھی فورم پر بجٹ کا دفاع کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی اس کے پاس آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنے کا منصوبہ تو کیا، اس کا ارادہ بھی نظر نہیں آتا، صرف رضا ربانی جیسے پرانے سیاسی کارکن ایوان میں تقریر کرکے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ انہوں نے ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف سے کیے جانے والے تمام معاہدوں اور مذاکرات کی تفصیل ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن یہ صرف ایک خطاب ہے۔ دوسری طرف ایف اے ٹی ایف کی تلوار بدستور پاکستان کے سر پر لٹکی ہوئی ہے۔ قوم کو تو کسی بھی حکومت نے اس سوال کا جواب آج تک نہیں دیا کہ پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ میں کیسے اور کیوں آیا؟ ایف اے ٹی ایف کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے اس کی عائد کی ہوئی تمام شرائط پوری کردی ہیں، اس کے باوجود بھی ملک کا نام اکتوبر تک گرے لسٹ میں رہے گا، ٹاسک فورس کا ایک وفد پاکستان آکر براہ راست جائزہ لے گا۔ اس کے باوجود ہر حکومتی حلقے سے مبارک باد کے پیغام کے ساتھ اس کا کریڈٹ لینے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔ ابھی تک تو ایسا نظر آرہا ہے کہ آئی ایم ایف اور فیٹف دونوں سے مذاکرات کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات طوالت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ تا کہ پاکستان سے وہ مطالبات بھی منوالیے جائیں جس کے بارے میں مزاحمت ہوسکتی ہے، امریکا اس بات کا اظہار کرچکا ہے کہ وہ پاکستان کو اس کے ’’جرائم‘‘ کی سزا دے گا۔ اسی طرح فیٹف کے عدم اطمینان کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں تسلیم کرلیا گیا ہے کہ پاکستان نے ان کی عائد کردہ تمام شرائط پوری کردی ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان کو اکتوبر تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہٹ دھرمی اور تکبر کے سوا اس کا کوئی جواز نہیں ہے اس پس منظر میں قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ اس وقت افغانستان، جوہری پروگرام، بھارت کی بالادستی اور اسرائیل تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان پر امریکی دبائو بڑھ رہا ہے۔ سیاسی غیر سیاسی قیادت اپنا اعتبار کھوچکی ہے۔