قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

197

اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات) سے نکاح کر سکے اسے چاہیے کہ تمہاری اْن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو، لہٰذا اْن کے سرپرستوں کی اجازت سے اْن کے ساتھ نکاح کر لو اور معروف طریقہ سے اْن کے مہر ادا کر دو، تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں، آزاد شہوت رانی کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو جائیں اور اس کے بعد کسی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اْس سز ا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں (محصنات) کے لیے مقرر ہے یہ سہولت تم میں سے اْن لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بند تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔(سورۃ النساء 25)

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو موت کے بارے میں اس کی فکر کو دور کردو، اس لیے کہ یہ بات اس کے دل کو خوش کرے گی‘‘۔ (ترمذی)
تشریح: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مریض سے کہا جائے کہ آپ فکر نہ کریں، ان شاء اللہ آپ اچھے ہوجائیں گے۔ آپ زندہ رہیں گے۔ تعلیم یہ دی گئی ہے کہ مریض کے سامنے اس کے دل کو خوش کرنے والی باتیں کی جائیں۔ ایسی باتیں نہ کی جائیں جو اس کے دل کو تکلیف پہنچانے والی ہوں یا اس کے فکر و اندیشہ میں اضافہ کرنے والی ہوں۔ تجربہ ہے کہ عیادت کرنے والے شاید بے شعوری کی حالت میں اس تعلیم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میں کسی کی عیادت کے لیے جاؤں اور اس سے کہوں کہ میرے فلاں عزیز اسی مرض میں مرے تھے؟ آپ غور کریں کہ اس بات سے مریض کا دل خوش ہوگا یا اس کے فکر و اندیشہ میں اضافہ؟