کورونا سے نمٹنے کے طریقے تبدیل کریں

229

 

ملک بھر میں ایک مرتبہ پھر کورونا میں تیزی کی خبریں اور ساتھ ہی پابندیوں کے اعلانات آگئے ہیں۔ ماسک نہ پہننے پر جرمانہ، شادی کی تقریبات میں کھانا کھلانے پر جرمانہ، سب سے اہم بات اسکولوں کی بندش پر غور۔ اس بیماری سے دنیا بھر نے نمٹنے کے طریقوں میں تبدیلی کرلی ہے۔ یہاں تک کہ امریکی عدالت نے ایس او پیز کی پابندی نہ کرنے پر ملازمت سے برطرف کیے گئے ہزاروں ملازمین کو بحال کردیا ہے۔ پورا یورپ لاک ڈائون کے نتائج سے آگاہ ہونے کے بعد لوگوں میں آگاہی پھیلانے اور بیماری سے نمٹنے کے تیز رفتار طریقوں پر عمل کررہا ہے تعلیمی عمل کہیں بند نہیں ہو رہا ۔لیکن پاکستانی حکومت صرف پابندیوں سے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ لاک ڈائون، سمارٹ لاک ڈائون، مائیکرو لاک ڈائون اور پتا نہیں کون کون سے طریقے اختیار کررہی ہے۔ پھر وہی گنتی کا خوف پھیلایا جارہا ہے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ ٹیسٹ کے طریقوں پر بھی اعتراضات سامنے آچکے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان کے کسی ادارے کے لیے ویکسین، ٹیسٹنگ کٹ، حکومتی سینیٹرز اور اس کے اقدامات پر سوال اٹھانا بھی جرم بن گیا ہے۔ویسے تو شاید ایسا کوئی ادارہ ہوگا بھی نہیں۔ حکومت کی جانب سے کورونا فنڈنگ کے 1244 ارب روپے کے حساب میں گھپلے کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔ 1244 ارب روپے عام رقم نہیں ہے اس میں یقینا کچھ نہ کچھ کورونا کے مریضوں پر بھی لگی ہوگی لیکن باقی رقم پر ڈکار تک نہیں لی گئی۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد لوگ اسے بھول گئے یا کوئی نیا اسکینڈل آچکا ہوگا۔ حکومت بیماری سے نمٹنے کے طریقے تو تبدیل کرے ہر مسئلے کا حل پابندی نہیں۔