جیکب آباد،شہری اتحاد کا جمس اسپتال کی حالت زار پر عدالت کو خط

147

جیکب آباد(نمائندہ جسارت)شہری اتحاد جیکب آباد نے جمس اسپتال میں مدت مکمل ہونے کے باوجود ڈائریکٹر کی ایکسٹینشن، بدعنوانیوں، بدانتظامی، من پسند، سفارش، رشوت اور جعلی اسناد پر بھرتیوں سمیت صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر حکام کو خط لکھ دیا، از خود نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق جیکب آباد شہر کی ایک سو سے زائد سیاسی، سماجی، دینی اور بیورپاری تنظیموں پر مشتمل شہری اتحاد جیکب آباد نے جمس اسپتال کے ڈائریکٹر عبدالواحد ٹگڑ کی مدت مکمل ہونے کے باوجود ایکسٹینشن دینے کے فیصلے، اسپتال میں بدعنوانیوں، بد انتظامی، من پسند، سفارش اور جعلی اسناد پر بھرتیوں سمیت عوام کو صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی سمیت دیگر مسائل کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر حکام کو تفصیلی خط لکھا گیا ہے جس میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے جمس اسپتال کے معاملے پر از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، اس سلسلے میں شہری اتحاد جیکب آباد کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر اے جی انصاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈائریکٹر جمس کی غیر قانونی ایکسٹینشن اور صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی پر چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو شہری اتحاد کے فیصلے اور مشورے سے لیٹرز جاری کردیے ہیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالواحد ٹگڑ کی غیر قانونی ایکسٹینشن اور عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہونے پر ان کو فوراً ہٹایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جمس کے ڈائریکٹر عبدالواحد ٹگڑقانونی طور پر اس عہدے کے اہل نہیں لیکن اس کے باوجود وہ تین سال سے اس عہدے پر براجمان ہیں لیکن اب تین سال مکمل ہونے کے بعد جب ان کی مدت مکمل ہوگئی ہے تو ایک بار پھر ان کو غیر قانونی طریقے سے نئے ڈائریکٹر کی مقرری تک ایکسٹینشن دی گئی ہے جوکہ ایک بڑے ادارے کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جمس جسمانی طور پر بھی ان فٹ ہیں لیکن اس کے باوجود اس کو مقرر کرکے عوام کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے، تین سال کے دوران انہوں نے جمس جیسے ادارے کو تباہ کردیا ہے اب مزید ان کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ جمس میں ادویات، ٹھیکے سمیت فیسوں کی مد میں ہر ماہ ملنے والے کروڑوں روپے میںبے تحاشہ کرپشن کی جارہی ہے، اہل امیدواروں کے بجائے من پسند، سفارش، رشوت سمیت جعلی اسناد پر لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے، ٹیکنیکل عہدوں پر نان ٹیکنیکل لوگوں کو مقرر کیا گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ شہری اتحاد کے کوآٖرڈینیٹر اور ہیومن رائٹس کے سیکریٹری حماداللہ انصاری کی جانب سے لکھے گئے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ڈائریکٹر جسمانی طور پر ان فٹ ہے اور ایسے بڑے عہدے کے قابل نہیں ہے وہ صرف ایم بی بی ایس ہے جبکہ جمس کے ادارے کیلیے رولز کے تحت مقرر کی گئی ڈگریاں جو اس عہدے کے لیے لازمی ہیں وہ ان کے پاس نہیں، جمس صرف اسپتال نہیں بلکہ ایک انسٹیٹیوٹ ہے جس میں میڈکل کالج، ڈپلومہ، نرسنگ اور دیگر سہولیات ہونی چاہیے لیکن یہاں علاج تک کی سہولت میسر نہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈائریکٹر کی مقرری کے تین سال سے زیادہ عرصے کے دوران بنیادی صحت کی سہولیات سی ٹی اسکین، ایم آر آئی، پی سی آر، ہیٹ اسٹروک، برنس وارڈ، آٰرتھو پیڈکس اور آنکھوں کی آپریشن، ایوننگ او پی ڈی، ایمرجنسی، ٹراما سینٹر، انجیو گرافی، مریضوں اور اٹینڈنس کے لیے آر او پلانٹ جیسے سہولیات 66 کروڑ کی سالانہ بجٹ ہونے کے باوجود فراہم نہ کرنا موجودہ ڈائریکٹر کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈائریکٹر جمس عبدالواحد ٹگڑ کی غیر قانونی ایکسٹینشن کو ختم کرکے ان کو ہٹایا جائے اور اہل، قابل اور ایماندار آفیسر کو ڈائریکٹر مقرر کرکے جمس جیسے ادارے کو بچایا جائے اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں شہری اتحاد کا اجلاس 8 دسمبر کو صدرمحمد اکرم ابڑو کی صدارت میں ان کی رہائش گاہ پر طلب کیا گیا ہے۔