حیدرآباد، بلدیاتی ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال و دھرنا

154

 

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)آل پاکستان لوکل گورنمنٹ ورکرز فیڈریشن اور شاہ لطیف ایمپلائز یونین سندھ کی اپیل پر ملازمین کی تنخواہیں ٹریژری سے ادائیگی نہ کیے جانے اور دیگر مطالبات منوانے کیلیے سندھ بھر کی طرح حیدرآبادمیں بھی بلدیاتی ملازمین نے دوسرے روز بھی تمام بلدیاتی اداروں میں کام چھوڑ ہڑتال کی اور تمام دفاتر کی تالا بندی کرکے بلدیہ کی عمارت میں احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا اور مطالبات کے حق میں سخت نعرے بازی کی ۔اس موقع پر آل پاکستان لوکل گورنمنٹ ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اکرام راجپوت، مرکزی نائب صدر عارف گدی، سید اسماعیل شاہ اورسید ذاکر علی رضوی سمیت دیگر رہنمائوںنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملازمین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور بلدیاتی ملازمین کی ٹریژری سے تنخوا ہوں کی ادائیگی کے نوٹیفکیشن جاری ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔انہوںنے کہاکہ آج کشمور سے کراچی تک تمام بلدیاتی ادارے بندہیں اور ملازمین سراپا احتجاج ہیں کیونکہ ہمارا مطالبہ جائز اور قانونی ہے حکومت سندھ فوری تنخواہوں کی ٹریژری سے ادائیگی کا نوٹیفکیشن جاری کرے ، سندھ گورنمنٹ کے تمام اداروں میں ملازمین کی تنخواہیں جب ٹریژیری سے ادا کی جاتی ہیں تو آخر لوکل گورنمنٹ کے ملازمین کا کیا قصور ہے ،جب تک ہمارا مطالبہ تسلیم نہیں کی جاتاہم احتجاج جاری رکھیں گے اور ہمیں ڈرانے کی کوششیں نہ کی جائیں ملازمین کے حقوق کے لیے جیل جانے کو بھی تیار ہیں۔احتجاجی دھرنے میں چیمبر آف کامرس کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران جاوید اقبال، محمد حسین غوری اورعبدالوحید شیخ نے بھی اظہار یکجہتی کے طور پر شرکت کی اور ملازمین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ فوری ملازمین کے مطالبات منظور کرکے نوٹیفکیشن جاری کرے۔