قرضوں کی معیشت کے ذمے دار

251

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق حکمرانوں نے 2008ء سے 2018ء کے درمیان دس سال میں ملک پر قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا، کوئی ڈیم اور بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ بھی شروع نہیں کیا گیا جس سے ملک کی آمدنی میں اضافہ ہو، ملک پر قرضے چڑھانے والوں کو سزائیں ملنی چاہئیں۔ موجودہ حکومت کو برسراقتدار آتے ہی بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارا ٹیکس اکٹھا کرنے کا نظام باقی دنیا کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔ ٹیکس وصولی کا ہمارا ہدف 6 ہزار ارب روپے ہے، جس میں سے 3 ہزار ارب روپے تو سابق حکمرانوں کے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں چلے جائیں گے، اور تین ہزار ارب روپے 22 کروڑ عوام کے لیے بچیں گے، اسی رقم میں سے ہمیں عوام کے لیے اسپتال اور تعلیمی ادارے بھی بنانے ہیں۔ ٹیکس وصولی ہمارا قومی سلامتی کا معاملہ بن چکا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جس کے باشندے رفاہی و فلاحی امور کے لیے سب سے زیادہ عطیات دیتے ہیں۔ شوکت خانم اسپتال کے لیے لوگوں نے دل کھول کر عطیات دیے، آخر وہ لوگ ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار پاکستان میں محصولات وصول کرنے والے سرکاری ادارے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایف بی آر کی تقریب ٹیکنالوجی کی مدد سے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والی صنعتوں سے متعلقین کا پیچھا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے یعنی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو نافذ کرنے میں کامیابی حاصل کرنے کے سلسلے میں منعقد کی گئی تھی۔ محصولات میں اضافے کی کوششوں کے موقع پر ہونے والی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ نئے نہیں ہیں، یہ بات معلوم ہے کہ قرضوں کی معیشت کی وجہ سے عوام کے معاشی حالات بد سے بدترین ہوتے جارہے ہیں اور حکمراں طبقہ اشرافیہ کی پرتعیش زندگی کے معیار میں اضافہ ہورہا ہے۔ غربت اور امارت کا فاصلہ بڑھتا جارہا ہے، حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ متوسط اور خوشحال طبقے کی بھی چیخیں نکل رہی ہیں۔ انہوں نے ایسے موقع پر اس بات کو ایک بار پھر دہرایا ہے کہ ملک پر قرض چڑھانے والوں کو سزائیں ملنی چاہئیں۔ جب ایک ارب ڈالر کے لیے ان کی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف سے انتہائی سخت شرائط پر معاہدہ کرلیا ہے۔ ملک کے مرکزی بینک کا کنٹرول آئی ایم ایف کے پاکستانی نژاد چاکر کے حوالے کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی مالی خود مختاری ختم ہوچکی ہے۔ حکومت کی معاشی ٹیم آئی ایم ایف سے سخت ترین شرائط پر کیے جانے والے تازہ معاہدے کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے دور حکمرانی میں آئی ایم ایف کے حکم پر مسلط کیے گئے گورنر اسٹیٹ بینک ڈالر کی قیمت کو 177 روپے سے زائد تک پہنچادیا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے غیر ملکی قرضوں کا حجم صرف دو سال میں کتنا بڑھ گیا ہے۔ اس کا کوئی حساب وزیراعظم نے نہیں دیا ہے۔ اب تو یہ سوال ان کے ذمے ہے کہ وہ جواب دیں کہ پاکستان کی رہی سہی اقتصادی آزادی سے بھی کیوں دست برداری اختیار کرلی گئی۔ وہ بااختیار وزیراعظم ہیں، اب وہ حزب اختلاف کے رہنما نہیں ہیں کہ صرف خطابات اور مطالبات کریں۔ قوم اس مطالبے کی تائید کرتی ہے کہ ملک کو قرضوں کی زنجیروں میں جکڑ دینے والے سابق حکمرانوں کو سزائیں ملنی چاہئیں۔ ملزموں کی اس صف میں موجودہ حکمران بھی شامل ہوچکے ہیں۔ پہلے تو یہ خیال تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پہلی بار برسراقتدار آئی ہے، اس لیے اسے اپنی ناتجربہ کاری کے باعث حکمرانی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ لیکن اب انہیں یہ رعایت بھی نہیں دی جاسکتی۔ موجودہ حکمرانوں کی نااہلی اور ناکامی نے سابق مجرموں کے چہرے بھی دھو دیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان تو اس دعوے سے برسراقتدار آئے تھے کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ لیکن انہوں نے جس طرح آئی ایم ایف کے احکامات کی تابعداری کی ہے، جن شرائط کو مان لیا ہے۔ اس نے پاکستان کی اقتصادی تباہی کی رفتار تیز کردی ہے۔ وزیراعظم نے قرضہ کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ اب تک وصول شدہ قرضوں کا کیا کیا گیا ہے۔ لیکن ان کا دعویٰ، دعویٰ ہی رہا جیسا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے نعرہ لگایا تھا کہ قرض اتارو ملک سنوارو۔ لیکن ملک قرضوں کی زنجیر میں جکڑتا جارہا ہے۔ اب وزیراعظم کی معاشی ٹیم کے سربراہ شوکت ترین کہتے ہیں کہ اس مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پہلی دفعہ جانے سے مختلف ہے کیوں کہ پہلی مرتبہ میں ایسی شرائط پر دستخط کردیے گئے تھے جو کہ میرے نزدیک کافی مشکل شرائط تھیں جس میں متعدد ٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ 4 روپے 85 پیسے فی یونٹ بجلی کا ٹیرف بڑھانے کی شرائط بھی شامل تھیں اور یہ معاہدہ میرے آنے سے پہلے مارچ میں ہوچکا تھا۔ شوکت ترین نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئی ایم ایف نے 7 سو ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ میں نے تین سو ارب پر منوایا ہے، آمدنی میں اضافے کے لیے جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں مختلف اشیا پر چھوٹ کا خاتمہ اور 17 فی صد وصول کرنا بھی شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ بجلی کے نرخ میں 4 روپے 95 پیسے اضافہ کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان کی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے تمام شرائط مان لی ہیں اور عملاً پاکستانی عوام آئی ایم ایف کے غلام ہوگئے ہیں، تو کیا وہ اپنی ٹیم کو سزا دے کر اس مطالبے پر عمل درآمد کا آغاز نہیں کریں گے کہ ملک پر قرض چڑھانے والوں کو سزا دی جائے۔ انہوں نے وضاحت نہیں کی ہے کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو کیوں ہٹایا گیا اور شوکت ترین میں کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے جنہیں معاشی ٹیم کی سربراہی سونپ دی گئی ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے بھی آئی ایم ایف کے تمام مطالبات کو تسلیم کرلیا ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جو ٹیکس وصول کیا جاتا ہے وہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کے حکم پر شرح سود میں اضافہ اور ظالمانہ ٹیکسوں کی جکڑ بندیوں میں سختی کی وجہ سے چھوٹے کاروباری، صنعت و حرکت سے وابستہ، زراعت پیشہ سب ہلکان ہورہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان آرہا ہے، سیاسی قیادتوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کا تماشا مچایا ہوا ہے۔ قوم اجتماعی تباہی کے گڑھوں میں تیزی سے گر رہی ہے۔