معاہدہ یا احکامات

346

وہ بڑی خوشخبری آگئی جس کی اطلاع شوکت ترین، صاحب قوم کو دیتے آرہے تھے یعنی آئی ایم ایف سے معاہدے کی خوش خبری۔ اس خوش خبری میں بہت ساری خبریں چھپی ہوئی ہیں یعنی پوشیدہ ہیں اور کچھ خبریں بہت واضح ہیں جیسے کہ حکومت نے قرض کے لیے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لیں اس کے بعد پہلا اثر تو یہ ہوگا کہ ہر ماہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی خبر آگئی اور ایک اطلاع کے مطابق پہلا حملہ 4.75 روپے اضافے سے ہوگا۔ وزیراعظم نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ پاکستان ترقی کی شاہراہ پر تیزی سے دوڑ رہا ہے۔ لہٰذا آئی ایم ایف کو شاید یہ بات بُری لگی اور پاکستان کو ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب روپے کٹوتی کی ہدایت کردی گئی۔ مزید یہ کہ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے لیے قانون سازی کی شرط بھی قبول کرلی گئی ہے۔ جس پر پہلے ہی عمل کیا جاچکا ہے۔ البتہ ایک چیز میں پھنسنے کے امکانات ہیں۔ وہ کورونا اخراجات کے آڈٹ سے آئی ایم ایف کو آگاہ کرنے کی شرط ہے۔ شاید پورے خوش خبری والے معاہدے میں کہیں کوئی اور بات عوام کے فائدے کی نہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ ایسی کوئی اور بات نہیں جس سے عوام کو نقصان پہنچ رہا ہو۔ صرف یہی شرط ہے جو حکومت نے مان لی ہے لیکن اس آڈٹ میں گڑبڑ ہوگی۔ مشیر خزانہ نے یہ خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے یہ ’’تاریخی‘‘ معاہدہ کرتے ہوئے بڑی لے دے کرنی پڑی، بہت سی رعایت لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس کی تفصیل یہ بتائی کہ پاکستان کو سستے قرضے کے حصول میں آسانی ہوگی۔ ان کی نظر میں سستے یا آسان قرضے پاکستان کے لیے رعایت ہے۔ یہ ہیں مشیر خزانہ جنہوں نے یہ خوش خبری سنائی اور کھاد کی بوری کی قیمت میں 2 ہزار روپے تک اضافے کا اعلان ہوگیا۔ ان کے ایک جوڑی دار وزیر خسرو بختیار نے اطلاع دی کہ کھاد کی پیداوار تو تاریخی ہوئی لیکن ذخیرہ اندوزی کرکے مصنوعی قلت پیدا کردی گئی۔ یہ انتہائی شرمناک فعل ہے۔ یعنی کھاد مافیا بھی وجود رکھتی ہے۔ اب تحقیقات میں پتا چلے گا کہ اس مافیا میں بھی پی ٹی آئی حکومت کے لوگ اور ہمنوا شامل ہیں۔ یہی بہانہ پٹرولیم، چینی، گندم، آٹے وغیرہ کے بارے میں گھڑا گیا تھا۔ اس جدید دور میں دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر تمام اعداد و شمار حاصل کیے جاسکتے ہیں تو یہ کیوں معلوم نہیں ہوسکتا کہ کس شوگر مل نے کتنا گنا خریدا اور کتنی شکر پیدا کی۔ اس نے کتنی شکر فروخت کی۔ جس کو فروخت کی گئی اس نے کہاں پہنچائی۔ اگر ایف بی آر اور حکومتی ادارے ملک کے ڈیڑھ کروڑ عوام کی معلومات جمع کرکے ان کے حلق سے ٹیکس بلکہ مزید ٹیکس نکلوانے کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں تو مہنگائی کا سبب بننے والے مافیاز کو کیوں نہیں پکڑ سکتے۔ یہی طریقہ گندم خریدنے اور آٹا تیار کرنے کے اعداد و شمار کا ہے اور یہی فرٹیلائزر فیکٹریز کا ہے۔ جب یہ بات اتنی آسان ہے تو حکومت کیوں نہیں کرتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔ کیوں کہ ہر مافیا اس حکومت کی صفوں میں سے یا اس کی پشت پر ہے۔ شوکت ترین کی پریس کانفرنس میں حماد اظہر صاحب نے یہ بھی اعتراف کرلیا کہ بجلی مہنگی کرنے پر رضا مندی پہلے ہوگئی تھی۔ اور یہی بات اہم ہے، مشیر خزانہ بار بار مذاکرات، مذاکرات اور معاہدہ معاہدہ کہہ رہے ہیں۔ مذاکرات میں کچھ تو منوایا جاتا ہے۔ معاہدے میں ہر کسی کی کوئی نہ کوئی شرط مانی جاتی ہے۔ یہ کون سا معاہدہ ہے کہ ساری شرائط آئی ایم ایف کی تسلیم کرلی گئیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے یہ حکمران اس سے زیادہ کر بھی نہیں سکتے تھے۔ مشکل وہی ہے کہ خودکشی عمران خان نے کی اور سزا قوم کو مل رہی ہے، وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر خودکشی کرلینا قرار دیتے تھے۔ وزیراعظم نے خودکشی کرلی اور اب اس خودکشی کی سزا دو طرح مل رہی ہے۔ یہ تو انہیں پتا ہی ہوگا کہ جو خودکشی کرتا ہے اسے قیامت تک کے لیے تو یہی سزا ہے کہ وہ خودکشی کرتا رہے گا۔ پھر محشر میں ان کا جو معاملہ ہوگا وہ تو ان کا حق ہے۔ تو اب روز آئی ایم ایف کے احکامات ملتے ہیں اور روز خودکشی کرتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ خودکشی تو عمران خان نے کی ہے سزا عوام کو کیوں مل رہی ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ جب پورے ملک میں ڈھول کی تھاپ پر تبدیلی آئی رے روک سکو تو روک لو گایا جارہا تھا تو عوام بھی اس کے مزے لے رہے تھے، بہت سے تو اب تک اس سحر میں ہیں کہ بندہ ایماندار ہے۔ پھر ایسے کاموں کا ساتھ دینے کی سزا تو ملے گی کم از کم اتنی ہی سزا ہوتی ہے جتنی جرم کی۔ دنیاوی قوانین میں بھی مجرم اور معاون دونوں کو کم و بیش یکساں سزا ملتی ہے۔ اب ایک ڈیڑھ سال میں عوام کو سجدہ سہو کرنے کا موقع ملے گا۔ دیکھنا یہی ہے کہ انہیں اس غلطی کا شعور بھی ہے یا نہیں۔ یہ الگ بحث ہے کہ پی ٹی آئی جیتی تھی یا جتوائی گئی تھی۔ آئی تھی یا لائی گئی تھی۔ کام تو دونوں ہی ہوئے ہیں جس نے جتنی معاونت کی تھی اس کو اتنی ہی سزا ملے گی۔ عوام بھی دنیا میں سزا بھگت رہے ہیں اور اس میں وہ بھی پس رہے ہیں جنہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ہاں انہیں آخرت میں اجر ملے گا۔ اگر اب بھی ہوش نہیں سنبھالا تو کب سنبھالیں گے۔