جمہوری تماشے کا نیا شکار جام کمال

217

ملک میں جمہوری نظام کے نام پر جو نظام رائج ہے وہ اس قدر دقیانوسی اور اس قدر بوسیدہ ہوچکا ہے کہ پورے نظام کی اوور ہالنگ کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے۔ ارکان اسمبلی کے انتخاب، وزرا کے تقرر، وزیراعظم کے انتخاب، حکومتوں کی تبدیلی بلکہ اس سے بھی پہلے الیکشن کمیشن کے تقرر، حلقہ بندیوں اور اس سے بھی پہلے مردم شماری میں گھپلے۔ یعنی عوام کو اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے محروم کرنے پر بھرپور توجہ اور وسائل کا ضیاع۔ اس سارے عمل کی تازہ مثالیں کراچی کی مردم شماری اور حلقہ بندیاں اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال کا استعفا ہیں۔ کراچی کی مردم شماری پر تو عوامی سطح پر احتجاج اور ہنگامے ہوچکے لیکن عوام کو ان کے حق سے محروم کرنے والوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا استعفا سامنے آیا ہے۔ کہنے کو یہ جمہوری عمل ہے لیکن یہ جمہوری عمل نہیں صرف جمہوری تماشا ہے۔ سارے کام جمہوریت کے نام پر ہورہے ہیں لیکن سب کو کٹھ پتلیوں کی طرح استعمال کیا جارہا ہے۔ سب کے لب سلے ہوئے ہیں جو اقتدار میں ہے وہ اس لیے خاموش ہے کہ اسے اقتدار مل گیا۔ نکالا گیا تو اس لیے خاموش رہتا ہے کہ اس کی خرابیاں منظر پر آجائیں گی۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو جس طرح منصب سے ہٹایا گیا ہے اور ہاتھ پائوں باندھ کر انہیں استعفا دینے پر مجبور کیا گیا ہے اس سے صاف نظر آرہا ہے کہ جام کمال پتلی تماشا چلانے والوں کے مطلب کے نہیں رہے تھے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ جام کمال دودھ کے دھلے ہوئے ہیں وہ اپنی جگہ وہ تمام ہتھکنڈے اختیار کررہے تھے جو ایسے مواقع پر کیے جاتے ہیں۔ ان پر ارکان اسمبلی کو غائب کرنے کا الزام بھی تھا۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ غائب انہوں نے کیا یا کسی اور نے۔ لیکن بلوچستان میں وزیراعلیٰ کو استعفا دینے پر مجبور کردیا گیا۔ یہ اچھی روایت نہیں۔ اس کے نتیجے میں دوسرے صوبوں اور مرکز میں بھی حکومت کی تبدیلی کے یہی طریقے اختیار کیے جائیں گے۔ قوم کو آزاد مرضی سے جمہوری عمل میں اپنی پسند کے نمائندے منتخب کرنے اور ان نمائندوں کو کام کرنے کا موقع دینے کی روایت پر بھی عمل کیا جانا چاہیے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں، یہ ایک چکر ہے جس میں سب آچکے ہیں۔ جو اس نظام کے ذریعے حکومت حاصل کرتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ ہم نے شور کیا یا اعتراض کیا تو سارا کچا چٹھہ عوام کے سامنے آجائے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ نواز شریف نے اعتراض کیا اور احتجاج کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ واقعی اس نظام کے خلاف ہیں اور ایک مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کا رول ختم کرنا ان کا عزم ہے۔ نہیں… بلکہ وہ ایسا کرکے معاملات طے کرنے کی اپنی صلاحیت اور قوت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اسے سودے بازی کہا جاتا ہے۔ سارا الزام اسٹیبلشمنٹ پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ بھٹو صاحب کو بھرپور موقع ملا لیکن انہوں نے جمہوریت کو آزاد نہیں ہونے دیا۔ میاں نواز شریف کو تین مواقع ملے لیکن انہوں نے دو تہائی اکثریت والے دور کو بھی سول آمریت میں تبدیل کرنے پر سارا زور صرف کیا۔ حکومت میں آنے والے سیاستدان یا حکمران کلب کے سیاستدان ایسا نہیں کرسکتے۔ عوام کو اور حقیقی نمائندوں کو یہ کلب توڑنا ہوگا۔ جس دائرے کے اندر یہ بیٹھے ہوئے ہیں اس کے اندر نقب لگانی ہوگی اسے ختم کرنا ہوگا۔ ورنہ اسٹیبلشمنٹ اپنا کام دکھاتی رہے گی۔ اب جام کمال کے متبادل کی تلاش میں جمہوری بازار لگے گا۔ ان لوگوں نے سیاست اور جمہوریت کو تماشا بنا رکھا ہے۔جام کمال نے جو فیصلہ کیا اس کے نتیجے میں اپنی پارٹی میں ہم آہنگی برقرار رکھی۔ ان کے ہمنوائوں کا کہنا ہے کہ جام کمال نے پارٹی یکجہتی کو بچانے کے لیے استعفا دیا۔ یہ کام تو ہوگیا اب آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔