ٹنڈوالہیار ،بین الصوبائی گروہ کا سرغنہ عبدالحق عرف ماچھی گرفتار

112

ٹنڈ والٰہیار(نمائندہ جسارت)بد نام زمانہ ڈاکو اور صوبائی و بین الصوبائی گر وہ کاسر غنہ کو ڈی ایس پی سی آئی اے اسلم لانگاہ نے بغیر پولیس مقابلے کے اشتہاری ملزم عبد الحق عرف حق ماچھی کو گر فتار کر لیا گیا مذکورہ ملزم پر پولیس کے قتل و پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھینے زہزنی و دیگر سنگین جرائم کے 16 سے زائد سنگین نوعیت کے مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا ۔ ان خیالات کا اظہار ڈی ایس پی سی آئی اے اسلم لانگا نے اپنے آفس میں پر یس کانفر نس کرتے ہو ئے کیا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم اغوا برائے تاون ڈکیتی قتل دیگر جرائم میں ملوث ہے ملزم اپنے علاقے میں خوف کی علامت تھا جبکہ مختصر ہو نے والی تحقیقات میں ملزم نے دوران تفتیش اہم انکشاف کیے ہیں بہت جلد اس گینگ کے دیگر ساتھیوں کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ اسلم لانگا نے بتایا کہ ملزم نے 2010ء میں تین پولیس اہلکار کو قتل کیا تھا ملزم بدنام زمانہ ڈاکو ہے ۔ میں اپنے علاقے میں کسی بھی جرائم پیشہ افراد کو برداشت نہیں کروں گا بڑھتی ہوئی وارداتوں کو مانیٹرنگ کر رہے ہیں بہت جلد جرائم پیشہ افراد پولیس کے چنگل میں ہوںگے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ملزم سال 2010ء میں اے ایس آئی شیر محمد اور نائینک مولا بخش سہتو کو شہید کر چکا ہے جبکہ ٹنڈوجام تھانے کی حد میں اے ایس آئی محمد صالح خاضخیلی کو بھی قتل کر چکا ہے اس کے علاوہ بکیر ا شر یف تھانے کی حد میں مختلف مقدمات میں روپوش تھا جبکہ بکیر اشر یف تھانے کل پانچ مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا اس کے علاوہ چمبٹر تھانے میں چارمقد مات میں روپوش تھا جبکہ ٹنڈوجام تھانے پر ایک مقدمے میں مطلوب تھا اور پیارو لونڈ تھانے پر تین مقد مات میں روپوش تھا جبکہ تھانہ اے سیکشن پر تین مقدمات پولیس کو مطلوب تھا جبکہ محکمہ پولیس کی جانب سے مذکورہ ملزم کی سر کی قیمت دس لاکھ روپے کی سفارش حکومت سند ھ کو ارسال کی ہو ئی ہے ہمارے مخبر نے ہمیں اطلاع دی کہ بد نام زمانہ ڈاکو عبدالحق عر ف حق ماچھی اس وقت کیر یا شاخ بائی پاس پر سواری کے انتظار میں کھڑا ہے جس پر فوری طور پر ہم نے ایک ٹیم تشکیل دی جس میں ایس آئی پی غلام عباس چانڈیو اور دیگر پولیس اہلکاروں نے اپنی کارروائی کرتے ہو ئے اس بین الصوبائی گروہ کے سر غنہ کو بغیر کسی مزاحمت کے گر فتار کر نے میں کامیاب ہو چکے ہیں جبکہ گر فتار ہو نے والے ملزم نے بھی میڈ یا کے سامنے پولیس کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو تسلیم کرتے ہو ئے کہا کہ میں نے لاتعداد افراد کو قتل کیا ہے اورجرائم کی وارداتیں بھی کی ہیں اور میر ے تعلق جرائم کی دنیا سے ہے جبکہ دوسری جانب ڈی ایس پی اسلم لانگا نے کہا کہ میر ے سینئر افسران نے جو بھی ٹارگٹ دیا اسے جان پر کھیل کر پو را کیا ہے میں جرائم کی دنیا کے بادشاہوں سے نہیں ڈرتا میں صر ف اللہ کی ذات سے ڈر تا ہو ں اور اللہ جرائم کے خاتمے میں میر ی مد د کر تا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میر ی خواہش ہے کہ میر ی موت آئے تو شہادت کی موت ہو اور تمام جرائم پیشہ افراد کو کہنا چاہتا ہوں کہ وہ میر ی حدسے نکل جائیں کیونکہ میں جرائم کو کسی بھی صورت بر داشت نہیں کروں گا۔