بیروزگاری کی شرح میں اضافہ

106

سینیٹ قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد حکومتی تخمینوں سے زیادہ ہے۔ ایک ادارے کے سروے کے مطابق ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 16 فیصد ہے اور تعلیم یافتہ خواتین کی بڑی تعداد بھی بیروزگار ہے۔ اس سروے کے مطابق 24 فیصد تعلیم یافتہ مرد اور 40 فیصد تعلیم یافتہ خواتین بیروزگار ہیں۔ یہ سروے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ کا ہے لیکن اس میں بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بیروزگار افراد کی درست نشاندہی نہیں ہو سکی ہے۔ ملک میں بیروزگاری کی شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ اگر حکومت اپنے اعداد و شمار پر انحصار کرے گی تو بیروزگاروں کو بہت ہی کم روزگار مل سکے گا۔ اس معاملے میں تو نہایت سنجیدگی سے بڑی گہرائی کے ساتھ سروے کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف کراچی کو دیکھا جائے تو پتا چلے گا کہ یہاں روزگار کی صورتحال تباہ ہو چکی ہے۔ سروے میں عموماً روزگار کسی جگہ ملازمت دفتر، کمپنی وغیرہ کو شامل کیا جاتا ہے لیکن دکانوں اور چھوٹے چھوٹے کاروبار میں کام کرنے والوں کو شمار نہیں کیا جاتا۔ کراچی پر گزشتہ تین چار سال سے آپریشن توڑ پھوڑ کا عذاب نازل ہے۔ کبھی کوئی مارکیٹ توڑی جاتی ہے کبھی کسی علاقے میں بلڈوزر چلتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوںکی بڑی تعداد بیروزگار ہو رہی ہے۔ یہ نہایت سنگین مسئلہ ہے اس پر سینیٹ کمیٹی نے نوٹس لے کر اچھا کام کیا ہے اس پر ہر پہلو سے غور اور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔