قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

115

چونکہ قریش مانوس ہوئے۔ (یعنی) جاڑے اور گرمی کے سفروں سے مانوس۔ لہٰذا اْن کو چاہیے کہ اِس گھر کے رب کی عبادت کریں۔ جس نے اْنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔ (سورۃقریش:1تا4)
تم نے دیکھا اْس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟۔ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں اکساتا۔ پھر تباہی ہے اْن نماز پڑھنے والوں کے لیے۔ جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ جو ریا کاری کرتے ہیں۔ اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں۔ (سورۃ الماعون:1تا7)

رسول کریم ؐ نے فرمایا: اہل ایمان کو دوزخ سے پار ہو جانے کے بعد پھر ایک اور پل پر روک لیا جائے گا جو دوزخ اور جنت کے درمیان میں ہے اب ان کے آپس میں جو حقوق ایک دوسرے پر رہ گئے تھے، ان کا تصفیہ کیا جائے گا مظلوم کو ظالم سے بدلہ ملے گا۔ جب کسی کا حق دوسرے پر نہیں رہے گا تب ان کو جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔ (بخاری)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے ارشاد فرمایا: اہل ایمان میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو اور تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔ (ترمذی)